السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2552. -- باب: من قال بتوريث ذوي الأرحام
-- باب: ذوی الارحام کو وارث قرار دینے والے کے قول کا بیان
حدیث نمبر: 12208
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا قَبِيصَةُ بْنُ عُقْبَةَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ حَكِيمِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ: كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنْ عَلِّمُوا غِلْمَانَكُمُ الْعَوْمَ، وَمُقَاتِلَتَكُمُ الرَّمْيَ. قَالَ: وَكَانُوا يَخْتَلِفُونَ بَيْنَ الْأَغْرَاضِ، فَجَاءَ سَهْمٌ غَرْبٌ فَأَصَابَ غُلَامًا فَقَتَلَهُ فِي حِجْرِ خَالٍ لَهُ، لَا يُعْلَمُ لَهُ أَصْلٌ. قَالَ: فَكَتَبَ أَبُو عُبَيْدَةَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ إِلَى مَنْ يَدْفَعُ عَقْلَهُ، قَالَ: فَكَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ".
حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت ابو عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا کہ اپنے لڑکوں کو تیرنا سکھاؤ اور اپنے فوجیوں کو تیراندازی سکھاؤ، اور وہ نشانوں کے درمیان آتے جاتے تھے۔ پس ایک نامعلوم تیر آیا اور ایک لڑکے کو لگا اور اس کو قتل کر دیا، وہ اپنے ماموں کی پرورش میں تھا، اس کے نسب کا پتا نہ تھا، راوی کہتے ہیں: حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف لکھا اور سوال کیا کہ اس کی دیت کس کو دیں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللّٰهُ وَرَسُولُهُ مَوْلٰى مَنْ لَا مَوْلٰى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ» ”اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے والی ہیں، جس کا کوئی والی نہ ہو اور ماموں اس کا وارث ہوگا جس کا کوئی وارث نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12208]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ احمد 1/ 28/ 189۔ ابن ماجه 2737»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12209
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ بُدَيْلٍ الْعُقَيْلِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَلْحَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ صَاحِبِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ تَرَكَ كَلًّا فَإِلَيْنَا، وَرُبَّمَا قَالَ: إِلَى اللهِ وَرَسُولِهِ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، أَعْقِلُ عَنْهُ وَأَرِثُهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، يَعْقِلُ عَنْهُ وَيَرِثُهُ".
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو قرض چھوڑے وہ ہمارے ذمہ ہے“، اور فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول کے ذمہ ہے، اور وہ جو مال چھوڑے وہ اس کے ورثاء کے لیے ہے، اور میں اس کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہ ہو، میں اس کی طرف سے دیت دوں گا اور وارث بنوں گا، اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کی دیت دے گا اور اس کا وارث بنے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12209]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12210
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا حَمَّادٌ، عَنْ بُدَيْلٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ الْكِنْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، فَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيْعَةً فَإِلِيَّ، وَمَنْ تَرَكَ مَالًا فَلِوَرَثَتِهِ، وَأَنَا مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، أَرِثُ مَالَهُ وَأَفُكُّ عَانَهُ، وَالْخَالُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، يَرِثُ مَالَهُ وَيَفُكُّ عَانَهُ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ: رَوَاهُ الزُّبَيْدِيُّ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عَائِذٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ وَرَوَاهُ مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْمِقْدَامَ.
سیدنا مقدام کندی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں ہر مومن کے زیادہ قریب ہوں، اس کی اپنی جان سے بھی۔ جو کوئی آدمی قرض چھوڑے یا اولاد چھوڑے، وہ میرے ذمہ ہے اور جو مال چھوڑے وہ اس کے وارثوں کے لیے ہے اور میں اس کا والی ہوں، جس کا کوئی والی نہ ہو، میں اس کے مال کا وارث ہوں اور اس کے قیدیوں کو آزاد کراؤں گا اور ماموں اس کا والی ہے جس کا کوئی والی نہ ہو، وہ اس کے مال کا وارث ہوگا اور اس کے قیدیوں کو آزاد کرائے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12210]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12211
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ عَتِيقٍ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ حُجْرٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" أَنَا وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، أَفُكُّ عُنِيَّهُ وَأَرِثُ مَالَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، يَفُكُّ عُنِيَّهُ وَيَرِثُ مَالَهُ".
صالح بن یحییٰ بن مقدام اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس کا وارث ہوں جس کا کوئی وارث نہ ہو، میں اس کے قیدیوں کو چھڑاؤں گا اور اس کے مال کا وارث ہوں اور ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو، وہ اس کے قیدیوں کو چھڑائے گا اور اس کے مال کا وارث بنے گا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12211]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12212
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلَّانِيُّ قَالَ: كَانَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ" يُبْطِلُ حَدِيثَ: الْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ، يَعْنِي حَدِيثَ الْمِقْدَامِ، وَقَالَ: لَيْسَ فِيهِ حَدِيثٌ قَوِيٌّ" قَالَ الشَّيْخُ: وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ أَضْعَفَ مِنْ ذَلِكَ.
یحییٰ بن معین رحمہ اللہ حدیثِ مقدام رضی اللہ عنہ کو باطل خیال کرتے تھے، یعنی: ”ماموں اس کا وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔“ اور انہوں نے کہا: اس بارے میں کوئی قوی حدیث نہیں ہے۔
یہ ایک اور سند سے بھی مروی ہے جو اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12212]
یہ ایک اور سند سے بھی مروی ہے جو اس سے بھی زیادہ ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12212]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12213
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ نَصْرٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْخَالُ وَارِثٌ".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماموں وارث ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12213]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12214
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شَرِيكٌ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ أَبِي هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْخَالُ وَارِثٌ" هَذَا مُخْتَلَفٌ فِيهِ عَلَى شَرِيكٍ كَمَا تَرَى، وَلَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ غَيْرُ مُحْتَجٍّ بِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ماموں وارث ہے۔“
جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، اس میں شریک پر اختلاف ہے، اور لیث بن ابی سلیم قابلِ حجت نہیں ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12214]
جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں، اس میں شریک پر اختلاف ہے، اور لیث بن ابی سلیم قابلِ حجت نہیں ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12214]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12215
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتُ:" اللهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَى مَنْ لَا مَوْلَى لَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَهُ" هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مِنْ قَوْلِ عَائِشَةَ مَوْقُوفًا عَلَيْهَا، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ مَوْقُوفًا، وَقَدْ كَانَ أَبُو عَاصِمٍ يَرْفَعُهُ فِي بَعْضِ الرِّوَايَاتِ عَنْهُ، ثُمَّ شَكَّ فِيهِ؛ فَالرَّفْعُ غَيْرُ مَحْفُوظٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس کے والی ہیں جس کا کوئی والی نہ ہو اور ماموں وارث ہے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔“
محفوظ یہی ہے کہ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے، ان پر موقوف ہے، اور اسی طرح عبدالرزاق نے اسے ابن جریج سے موقوف روایت کیا ہے، ابوعاصم اپنی بعض روایات میں اسے مرفوع بیان کرتے تھے، پھر انہیں اس میں شک ہو گیا، پس اس کا مرفوع ہونا محفوظ نہیں ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12215]
محفوظ یہی ہے کہ یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا قول ہے، ان پر موقوف ہے، اور اسی طرح عبدالرزاق نے اسے ابن جریج سے موقوف روایت کیا ہے، ابوعاصم اپنی بعض روایات میں اسے مرفوع بیان کرتے تھے، پھر انہیں اس میں شک ہو گیا، پس اس کا مرفوع ہونا محفوظ نہیں ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12215]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12216
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، فَذَكَرَهُ مَرْفُوعًا. وَكَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ يَقُولَانِ: عَمْرُو بْنُ مُسْلِمٍ صَاحِبُ طَاوُسٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ ⦗٣٥٤⦘ وَرُوِيَ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ مُرْسَلًا.
ابو عاصم رحمہ اللہ نے مرفوع روایت ذکر کی ہے۔
امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین کہتے تھے: طاؤس کے شاگرد عمرو بن مسلم قوی نہیں ہیں، اور یہ ابن طاؤس سے مرسل بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12216]
امام احمد بن حنبل اور یحییٰ بن معین کہتے تھے: طاؤس کے شاگرد عمرو بن مسلم قوی نہیں ہیں، اور یہ ابن طاؤس سے مرسل بھی مروی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12216]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 12217
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، ثنا سُفْيَانُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، ثنا أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حَبَّانَ، عَنْ وَاسِعِ بْنِ حَبَّانَ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ الدَّحْدَاحِ كَانَ رَجُلًا أَتِيًّا فِي بَنِي أُنَيْفٍ، أَوْ فِي بَنِي الْعَجْلَانِ، مَاتَ، فَسَأَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ لَهُ وَارِثٌ؟" فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ وَارِثًا، فَدَفَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِيرَاثَهُ إِلَى ابْنِ أُخْتِهِ، وَهُوَ أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ لَفْظُ حَدِيثِ الْأَرْدَسْتَانِيِّ، وَحَدِيثُ أَبِي عَبْدِ اللهِ مُخْتَصَرًا، لَمْ يُسَمِّ الْوَارِثَ وَالْمُوَرَّثَ، وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.
ثابت بن دحداح رضی اللہ عنہ نامی بنی انیف یا بنی عجلان میں ایک اجنبی آدمی تھے، وہ فوت ہو گئے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: ”کیا اس کا کوئی وارث ہے؟“ انہوں نے اس کا کوئی وارث نہ پایا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وراثت اس کے بھانجے کو دے دی اور وہ ابولبابہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ تھے۔
یہ سند منقطع ہے۔
(الف) ثابت بن دحداح رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ فوت ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اس کا نسب جانتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں اور وہ تو ہم میں اجنبی تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وراثت کا فیصلہ اس کے بھانجے کے حق میں کیا۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ احد کے دن فوت ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12217]
یہ سند منقطع ہے۔
(الف) ثابت بن دحداح رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ وہ فوت ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم اس کا نسب جانتے ہو؟“ اس نے کہا: نہیں اور وہ تو ہم میں اجنبی تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی وراثت کا فیصلہ اس کے بھانجے کے حق میں کیا۔
شیخ فرماتے ہیں: وہ احد کے دن فوت ہوئے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12217]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف