🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2590. -- باب: كيفية المقاسمة بين الجد والإخوة والأخوات
-- باب: دادا اور بھائیوں بہنوں کے درمیان تقسیم کی کیفیت کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12432
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ قَالَ: حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَعُبَيْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ، وَقَبِيصَةُ بْنُ ذُؤَيْبٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" قَضَى أَنَّ الْجَدَّ يُقَاسِمُ الْإِخْوَةَ لِلْأَبِ وَالْأُمِّ وَالْإِخْوَةَ لِلْأَبِ مَا كَانَتِ الْمُقَاسَمَةُ خَيْرًا لَهُ مِنْ ثُلُثِ الْمَالِ، فَإِنْ كَثُرَتِ الْإِخْوَةُ أُعْطِيَ الْجَدُّ الثُّلُثَ، وَكَانَ لِلْإِخْوَةِ مَا بَقِيَ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ} [النساء: ١١] الْأُنْثَيَيْنِ، وَقَضَى أَنَّ بَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ أَوْلَى بِذَلِكَ مِنْ بَنِي الْأَبِ ذُكُورِهِمْ وَإِنَاثِهِمْ، غَيْرَ أَنَّ بَنِي الْأَبِ يُقَاسِمُونَ الْجَدَّ لِبَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ ⦗٤٠٧⦘ فَيَرُدُّونَ عَلَيْهِمْ، وَلَا يَكُونُ لِبَنِي الْأَبِ مَعَ بَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ شَيْءٌ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ بَنُو الْأَبِ يَرُدُّونَ عَلَى بَنَاتِ الْأَبِ وَالْأُمِّ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ بَعْدَ فَرَائِضِ بَنَاتِ الْأَبِ وَالْأُمِّ فَهُوَ لِلْإِخْوَةِ لِلْأَبِ {لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: ١١] ".
قبیصہ بن ذویب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دادا کی تقسیم کا فیصلہ حقیقی اور علاتی بھائیوں کے ساتھ کیا کہ ثلث مال سے جو ان کے لیے بہتر ہو۔ اگر بھائی زیادہ ہوں تو دادا کو ثلث اور بھائیوں کے لیے باقی ماندہ ہوگا ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت اور فیصلہ کیا کہ حقیقی اولاد، علاتی اولاد (مذکر ہو یا مؤنث) سے زیادہ حق دار ہے، اس کے علاوہ کہ علاتی بھائی حقیقی بہن بھائیوں کی «مُقَاسَمَةُ الْجَدِّ» (دادا کے ساتھ تقسیم) میں (شریک) ہوں تو وہ حقیقی بہن بھائیوں پر لوٹائی جائے گی۔
اور علاتی اولاد کے لیے حقیقی اولاد کے ساتھ کچھ نہ ہوگا مگر یہ کہ علاتی بیٹوں کو حقیقی بیٹیوں پر لوٹایا جائے۔ اگر حقیقی بیٹیوں کو حصہ دینے کے بعد کچھ بچ جائے تو وہ علاتی بھائیوں کے لیے ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَيَيْنِ﴾ [سورة النساء: 11] کے تحت تقسیم ہوگا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12432]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12433
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو طَاهِرٍ، أنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ قَالَ: أَخَذَ أَبُو الزِّنَادِ هَذِهِ الرِّسَالَةَ مِنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَمِنْ كُبَرَاءِ آلِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ:" بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ، لِعَبْدِ اللهِ مُعَاوِيَةَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ مِنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ"، فَذَكَرَ الرِّسَالَةَ بِطُولِهَا، وَفِيهَا:" إِنِّي رَأَيْتُ مِنْ نَحْوِ قَسْمِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، يَعْنِي عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ، إِذَا كَانَ أَخًا وَاحِدًا ذَكَرًا مَعَ الْجَدِّ قَسَمَ مَا وَرِثَا بَيْنَهُمَا شَطْرَيْنِ، فَإِنْ كَانَ مَعَ الْجَدِّ أُخْتٌ وَاحِدَةٌ قَسَمَ لَهَا الثُّلُثَ، فَإِنْ كَانَتَا أُخْتَيْنِ مَعَ الْجَدِّ قَسَمَ لَهُمَا الشَّطْرَ وَلِلْجَدِّ الشَّطْرَ، فَإِنْ كَانَ مَعَ الْجَدِّ أَخَوَانِ فَإِنَّهُ يَقْسِمُ لِلْجَدِّ الثُّلُثَ، فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَإِنِّي لَمْ أَرَهُ حَسِبْتُ يُنْقِصُ الْجَدَّ مِنَ الثُّلُثِ شَيْئًا، ثُمَّ مَا خَلَصَ لِلْإِخْوَةِ مِنْ مِيرَاثِ أَخِيهِمْ بَعْدَ الْجَدِّ فَإِنَّ بَنِي الْأَبِ وَالْأُمِّ هُمْ أَوْلَى بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ بِمَا فَرَضَ اللهُ لَهُمْ دُونَ بَنِي الْعَلَّةِ، فَلِذَلِكَ حَسِبْتُ نَحْوًا مِنَ الَّذِي كَانَ عُمَرُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ يَقْسِمُ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ مِنَ الْأَبِ، وَلَمْ يَكُنْ يُوَرِّثُ الْإِخْوَةَ مِنَ الْأُمِّ الَّذِينَ لَيْسُوا مِنَ الْأَبِ مَعَ الْجَدِّ شَيْئًا"، قَالَ:" ثُمَّ حَسِبْتُ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يَقْسِمُ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْإِخْوَةِ نَحْوَ الَّذِي كَتَبْتُ بِهِ إِلَيْكَ فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ".
عبدالرحمٰن بن ابوالزناد کہتے ہیں: یہ رسالہ ابوالزناد نے خارجہ بن زید اور آل زید بن ثابت کے بڑوں سے لیا ہے: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، اللہ کے بندے معاویہ رضی اللہ عنہ امیر المومنین کے لیے زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی طرف سے ہے، اس کے لمبا ہونے اور جو اس میں تھا اس کا ذکر کیا اور میں نے امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی تقسیم دادا اور علاتی بھائیوں کے درمیان کو دیکھا، جب ایک بھائی ہو دادا کے ساتھ تو دونوں کے درمیان وراثت دو حصوں میں تقسیم ہوگی۔ اگر دادا کے ساتھ ایک بہن ہو تو بہن کے لیے ثلث اور اگر دادا کے ساتھ دو ہوں تو دونوں کے لیے نصف اور نصف دادا کے لیے۔ اگر دادا کے ساتھ دو بھائی ہوں تو دادا کے لیے ثلث اور اگر بھائی زیادہ ہوں تو میرے خیال میں وہ ثلث سے کچھ بھی کم نہ کرتے تھے، پھر جو ان کے بھائی کی وراثت سے ان کے لیے بچ جائے دادا کے بعد تو حقیقی اولاد کے لیے جو اللہ نے ان کے لیے فرض کیا ہے علاتی اولاد کے علاوہ۔ اسی طرح عمر رضی اللہ عنہ جد اور علاتی بھائیوں کے درمیان تقسیم کرتے تھے اور اخیافی بھائیوں کو وارث نہ بناتے تھے، پھر میں نے خیال کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بھی اسی طرح دادا اور بھائیوں کے درمیان تقسیم کرتے تھے جس طرح میں نے آپ کی طرف لکھا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12433]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12434
وَأَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنْ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَتَبَ إِلَى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ يَسْأَلُهُ عَنِ الْجَدِّ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ:" إِنَّكَ كَتَبْتَ إِلِيَّ تَسْأَلُنِي عَنِ الْجَدِّ وَاللهُ أَعْلَمُ، وَذَلِكَ مَا لَمْ يَكُنْ يَقْضِي فِيهِ إِلَّا الْأُمَرَاءُ، يَعْنِي الْخُلَفَاءَ، وَقَدْ حَضَرْتُ الْخَلِيفَتَيْنِ قَبْلَكَ يُعْطِيَانِهِ النِّصْفَ مَعَ الْأَخِ الْوَاحِدِ، وَالثُّلُثَ مَعَ الِاثْنَيْنِ، فَإِنْ كَثُرَ الْإِخْوَةُ لَمْ يُنْقِصَاهُ مِنَ الثُّلُثِ".
حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہما نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو خط لکھا اور دادے کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ آپ نے مجھ سے دادے کے بارے میں سوال کیا ہے، «اللهُ أَعْلَمُ» ”اللہ بہتر جانتے ہیں“ اور اس مسئلہ میں خلفاء فیصلہ کرتے تھے، میں آپ سے پہلے دو خلفاء کے پاس گیا ہوں، وہ دونوں دادے کو ایک بھائی کے ساتھ نصف دیتے تھے اور دو بھائیوں کے ساتھ ثلث دیتے تھے، اگر بھائی زیادہ ہوتے تو ثلث سے کم نہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12434]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ مالك 1095»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12435
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ مِنْ كِتَابِهِ، أنا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ قَالَ: كَانَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْطِي الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ الثُّلُثَ، وَكَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُعْطِيهِ السُّدُسَ، وَكَتَبَ عُمَرُ إِلَى عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" إِنَّا نَخَافُ أَنْ نَكُونَ قَدْ أَجْحَفْنَا بِالْجَدِّ فَأَعْطِهِ ⦗٤٠٨⦘ الثُّلُثَ"، فَلَمَّا قَدِمَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَا هُنَا أَعْطَاهُ السُّدُسَ. فَقَالَ عَبِيدَةُ: فَرَأْيُهُمَا فِي الْجَمَاعَةِ أَحَبُّ إِلِيَّ مِنْ رَأْيِ أَحَدِهِمَا فِي الْفُرْقَةِ.
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ دادا کو بھائیوں کے ساتھ ثلث دیتے تھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سدس دیتے تھے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو لکھا: ”ہمیں ڈر ہے کہ ہم نے دادا کے ساتھ زیادتی کی ہے، لہٰذا اسے ثلث دو“۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ یہاں آئے تو سدس دیتے تھے، عبیدہ رحمہ اللہ نے کہا: ان دونوں کی رائے تمام جماعت میں میرے نزدیک کسی ایک کی رائے کی نسبت زیادہ پسندیدہ ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12435]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12436
وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ" يُعْطِي الْجَدَّ الثُّلُثَ، ثُمَّ تَحَوَّلَ إِلَى السُّدُسِ، وَأَنَّ عَبْدَ اللهِ كَانَ يُعْطِيهِ السُّدُسَ، ثُمَّ تَحَوَّلَ إِلَى الثُّلُثِ".
عبیدہ بن نفیلہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ دادے کو ثلث دیتے تھے، پھر سدس دینا شروع کر دیا اور عبداللہ رضی اللہ عنہ پہلے سدس دیتے تھے پھر ثلث پر آ گئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12436]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12437
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ قَالَ: كَانَ عُمَرُ وَعَبْدُ اللهِ يُقَاسِمَانِ بِالْجَدِّ مَعَ الْإِخْوَةِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ السُّدُسُ خَيْرًا لَهُ مِنْ مُقَاسَمَتِهِمْ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ كَتَبَ إِلَى عَبْدِ اللهِ:" مَا أُرَانَا إِلَّا قَدْ أَجْحَفْنَا بِالْجَدِّ، فَإِذَا جَاءَكَ كِتَابِي هَذَا فَقَاسِمْ بِهِ مَعَ الْإِخْوَةِ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَنْ يَكُونَ الثُّلُثُ خَيْرًا لَهُ مِنْ مُقَاسَمَتِهِمْ"، فَأَخَذَ بِذَلِكَ عَبْدُ اللهِ.
عبید بن نضلہ فرماتے ہیں کہ عمر اور عبداللہ رضی اللہ عنہما دونوں دادے کو بھائیوں کے ساتھ اس وقت تک تقسیم میں شریک کرتے تھے جب تک «السُّدُسُ» ”چھٹا حصہ“ اس کے لیے ان کے ساتھ تقسیم سے بہتر نہ ہو، پھر عمر رضی اللہ عنہ نے عبداللہ کی طرف لکھا کہ میرا خیال ہے کہ ہم نے دادا کے ساتھ زیادتی کی ہے، یعنی نقصان پہنچایا ہے، جب تیرے پاس میرا یہ خط آئے تو اسے بھائیوں کے ساتھ اس وقت تک تقسیم میں شریک کرنا جب تک «الثُّلُثُ» ”تہائی حصہ“ اس کے لیے ان کے ساتھ تقسیم سے بہتر نہ ہو، پس عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اسی پر عمل کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12437]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12438
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُهُ عَنْ سِتَّةِ إِخْوَةٍ وَجَدٍّ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ:" اجْعَلْهُ كَأَحَدِهِمْ، وَامْحُ كِتَابِي".
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ چھ بھائیوں اور دادا کے بارے میں بتائیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اسے بناؤ گویا کہ وہ ان میں سے کوئی ایک ہے اور میرا خط مٹا دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12438]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12439
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: كَتَبَ ابْنُ عَبَّاسٍ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا مِنَ الْبَصْرَةِ فِي سِتَّةِ إِخْوَةٍ وَجَدٍّ، فَكَتَبَ إِلَيْهِ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنْ أَعْطِهِ سُبْعَ الْمَالِ".
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بصرہ سے لکھا کہ چھ بھائیوں اور دادے کے بارے میں فیصلہ کریں تو علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: اسے مال کا ساتواں حصہ دے دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12439]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12440
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ سَلَمَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَنَّهُ كَانَ يَجْعَلُ الْجَدَّ أَخًا حَتَّى يَكُونَ سَادِسًا".
عبداللہ بن سلمہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ دادے کو بھائی کی مانند بناتے تھے، یہاں تک کہ وہ چھ ہوجائیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12440]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12441
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيٍّ الْأَصْبَهَانِيُّ الْحَافِظُ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ الْقَطَّانُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عِيسَى، أنا ابْنُ الْمُبَارَكِ، أنا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" كَانَ يُشْرِكُ الْجَدَّ مَعَ الْإِخْوَةِ إِلَى سِتَّةٍ هُوَ سَادِسُهُمْ، فَإِذَا كَثُرُوا أَعْطَاهُ السُّدْسَ، وَيُعْطِي كُلَّ صَاحِبِ فَرِيضَةٍ فَرِيضَتَهُ، وَلَا ⦗٤٠٩⦘ يُوَرِّثُ أَخًا لِأُمٍّ وَلَا أُخْتًا لِأُمٍّ مَعَ الْجَدِّ، وَلَا يُقَاسِمُ بِأَخٍ لِأَبٍ أَخًا لِأَبٍ وَأُمٍّ، وَلَا يَزِيدُ الْجَدَّ مَعَ الْوَلَدِ عَلَى السُّدُسِ، إِلَّا أَنْ لَا يَكُونَ غَيْرُهُ، وَإِذَا كَانَتْ أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ لِأَبٍ وَجَدٍّ أَعْطَى الْأُخْتَ النِّصْفَ، وَجَعَلَ النِّصْفَ بَيْنَ الْجَدِّ وَالْأَخِ، وَإِذَا كَانَتْ أُخْتٌ لِأَبٍ وَأُمٍّ وَأَخٌ وَأُخْتٌ لِأَبٍ وَجَدٍّ جَعَلَهَا مِنْ عَشَرَةٍ: لِلْأُخْتِ مِنَ الْأَبِ وَالْأُمِّ النِّصْفُ خَمْسَةُ أَسْهُمٍ، وَلِلْجَدِّ سَهْمَانِ، وَلِلْأَخِ لِلْأَبِ سَهْمَانِ، وَلِلْأُخْتِ لِلْأَبِ سَهْمٌ".
ابراہیم سے روایت ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ دادے کو بھائیوں کے ساتھ چھ تک شریک کرتے تھے اور وہ ان میں چھٹا ہوتا تھا، جب وہ زیادہ ہوتے تو دادے کو «سُدُس» دیتے تھے اور ہر حصہ دار کو اس کا حصہ دیتے تھے، اور اخیافی بھائی بہن کو دادے کے ساتھ وارث نہ بناتے تھے اور نہ علاتی بھائی کے ساتھ حقیقی بھائی کے لیے تقسیم کرتے تھے، اور دادے کو اولاد کے ساتھ «سُدُس» سے زیادہ نہ دیتے تھے مگر یہ کہ اس کے علاوہ کوئی نہ ہو، اور جب حقیقی بہن اور علاتی بھائی ہوتا دادے کے ساتھ تو بہن کو نصف اور نصف دادے اور بھائی کو دے دیتے تھے، اور جب حقیقی بہن اور علاتی بھائی، بہن اور دادا ہوتے تو دس حصے کرتے اور نصف یعنی پانچ حقیقی بہن کو اور دو حصے دادے کو اور دو حصے علاتی بھائی کو اور ایک حصہ علاتی بہن کو دے دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الفَرَائِضِ/حدیث: 12441]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں