🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2608. -- باب: ما جاء في قوله عز وجل وليخش الذين لو تركوا من خلفهم ذرية ضعافا خافوا عليهم فليتقوا الله وليقولوا قولا سديدا وما ينهى عنه من الإضرار في الوصية
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو اگر اپنے پیچھے ناتواں اولاد چھوڑ جائیں تو انہیں ان کا اندیشہ ہو، پس انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور سیدھی بات کہنی چاہیے“ کے متعلق جو مروی ہے اور وصیت میں نقصان پہنچانے کی ممانعت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12581
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ:" {وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا خَافُوا عَلَيْهِمْ} [النساء: ٩] ، يَعْنِي الرَّجُلَ يَحْضُرُهُ الْمَوْتُ فَيُقَالُ لَهُ: تَصَدَّقْ مِنْ مَالِكَ، وَأَعْتِقْ، وَأَعْطِ مِنْهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَنُهُوا أَنْ يَأْمُرُوهُ بِذَلِكَ، يَعْنِي مَنْ حَضَرَ مِنْكُمْ مَرِيضًا عِنْدَ الْمَوْتِ فَلَا يَأْمُرُهُ أَنْ يُنْفِقَ مَالَهُ فِي الْعِتْقِ وَالصَّدَقَةِ وَفِي سَبِيلِ اللهِ، وَلَكِنْ يَأْمُرُهُ أَنْ يُبَيِّنَ مَا لَهُ وَمَا عَلَيْهِ مِنْ دَيْنٍ وَيُوصِي مِنْ مَالِهِ لِذِي قَرَابَتِهِ الَّذِينَ لَا يَرِثُونَ، يُوصِي لَهُمْ بِالْخُمُسِ أَوِ الرُّبُعِ، يَقُولُ: أَيَسُرُّ أَحَدَكُمْ إِذَا مَاتَ وَلَهُ وَلَدٌ ضِعَافٌ، يَعْنِي صِغَارًا، أَنْ يَتْرُكَهُمْ بِغَيْرِ مَالٍ؛ فَيَكُونُوا عِيَالًا عَلَى النَّاسِ، فَلَا يَنْبَغِي أَنْ تَأْمُرُوهُ بِمَا لَا تَرْضَوْنَ بِهِ لِأَنْفُسِكُمْ وَلِأَوْلَادِكُمْ، وَلَكِنْ قُولُوا الْحَقَّ مِنْ ذَلِكَ".
(١٢٥٨١) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے آیت { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا خَافُوا عَلَیْہِمْ } کے بارے میں منقول ہے، یعنی آدمی کو موت آنے لگے تو اسے کہا جائے: اپنے مال سے صدقہ کرو اور آزاد کر دو اور اس سے اللہ کے راستے میں دو۔ پس منع کیا گیا ہے کہ وہ اسے ایسی باتوں کا حکم دیں، یعنی تم میں سے کوئی جس مریض کو موت آئے اس کے پاس آکر اسے یہ حکم نہ دے کہ وہ اپنے مال سے خرچ کر دے۔ آزاد کرنے میں، صدقہ میں، اللہ کے راستہ میں اسے حکم دے کہ وہ واضح کرے اس پر کیا قرض ہے یا کسی دوسرے پر اس کا قرض ہے اور اپنے مال سے وصیت کرے ان رشتہ داروں کے لیے جو وارث نہ ہوں ان کے لیے خمس یا ربع کی وصیت کرے اور وہ کہے: تم میں سے کسی کو پسند ہے کہ جب وہ فوت ہو اور اس کی اولاد چھوٹی ہو اور وہ اس کو بغیر مال کے چھوڑ دے اور وہ لوگوں کی محتاج ہوجائے۔ یہ درست نہیں کہ تم اس بات کا حکم دو۔ جو اپنے لیے اور اپنی اولاد کے لیے نہیں پسند کرتے، لہٰذاحق بات کہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12581]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12582
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا" فَهَذَا الرَّجُلُ يَحْضُرُ الرَّجُلَ عِنْدَ مَوْتِهِ فَيُسْمِعُهُ يُوصِيهِ يَضُرُّ بِوَرَثَتِهِ، فَأَمَرَ اللهُ سُبْحَانَهُ الَّذِي يُسْمِعُهُ أَنْ يَتَّقِيَ اللهَ وَيُفَقِّهَهُ وَيُسَدِّدَهُ لِلصَّوَابِ، وَلْيَنْظُرْ لِوَرَثَتِهِ كَمَا يُحِبُّ أَنْ يُصْنَعَ بِوَرَثَتِهِ إِذَا خَشِيَ عَلَيْهِمُ الضَّيْعَةَ".
(١٢٥٨٢) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ } یعنی آدمی دوسرے کے پاس اس کی موت کے وقت حاضر ہوتا اور اسے وصیت کے بارے میں کہتا، مقصود اس کے ورثاء کو نقصان پہنچاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو حکم دیا جو مشورہ دینے والا ہے کہ وہ اللہ سے ڈرے اور صحیح چیز میں رکاوٹ ڈالنے سے بچے اور اس کے ورثاء کا خیال کرے جیسے پسند کرتا ہے کہ اس کے اپنے ورثاء سے کیا جائے۔ جب ان پر فقر کا ڈر ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12582]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12583
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا وَرْقَاءُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، فِي قَوْلِهِ {وَلْيَخْشَ الَّذِينَ لَوْ تَرَكُوا مِنْ خَلْفِهِمْ ذُرِّيَّةً ضِعَافًا} [النساء: ٩] قَالَ:" هَذَا عِنْدَ الْوَصِيَّةِ، يَقُولُ لَهُ مَنْ حَضَرَهُ: أَقْلَلْتَ فَأَوْصِ لِفُلَانٍ وَلِآلِ فُلَانٍ، يَقُولُ اللهُ {وَلْيَخْشَ} [النساء: ٩] أُولَئِكَ، {وَلْيَقُولُوا} [النساء: ٩] كَمَا يُحِبُّونَ أَنْ يُقَالَ لَهُمْ فِي وَلَدِهِ بَعْدَهُ، {وَلْيَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا} [النساء: ٩] ، يَعْنِي عَدْلًا".
(١٢٥٨٣) مجاہد سے اللہ تعالیٰ کے فرمان: { وَلْیَخْشَ الَّذِینَ لَوْ تَرَکُوا مِنْ خَلْفِہِمْ ذُرِّیَّۃً ضِعَافًا } کے بارے میں منقول ہے کہ یہ وصیت کے وقت ہے جو اس کے پاس آتا کہتا تو فلاں یا آل فلاں کے لیے وصیت کر دے، اللہ فرماتے ہیں: اسے ڈرنا چاہیے، یہی لوگ ہیں انھیں چاہیے کہ وہ ایسی بات کہیں جو اپنی اولاد کے لیے اپنے بعد پسند کرتے ہیں اور صحیح بات کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12583]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12584
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا ابْنُ شِهَابٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ حَضَرَ رَجُلًا يُوصِي فَآثَرَ بَعْضَ الْوَرَثَةِ عَلَى بَعْضٍ، فَقَالَ لَهُ:" إِنَّ اللهَ سُبْحَانَهُ قَدْ قَسَمَ بَيْنَكُمْ فَأَحْسِنِ الْقَسْمَ، وَإِنَّهُ ⦗٤٤٤⦘ مَنْ يَرْغَبْ بِرَأْيِهِ عَنْ رَأْيِ اللهِ يَضِلَّ، فَأَوْصِ لِذِي قَرَابَةٍ مِمَّنْ لَا يَرِثُ، ثُمَّ دَعِ الْمَالَ كَمَا قَسَمَهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ".
(١٢٥٨٤) مسروق سے روایت ہے کہ وہ ایک آدمی کے پاس گئے، وہ وصیت کررہا تھا اور رشتہ داروں کو بعض پر ترجیح دے رہا تھا، مسروق نے اسے کہا: اللہ تعالیٰ نے تمہارے درمیان اچھی تقسیم کی ہے اور جو اپنی رائے کے ساتھ اللہ کی رائے سے بےرغبتی اختیار کرے گا وہ گمراہ ہوگیا اپنے ان ورثاء کے لیے وصیت کر جو وارث نہیں ہیں، پھر مال چھوڑ دے جیسے اللہ نے تقسیم کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12584]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 2/ 177»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12585
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، أنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُدَّانِيُّ، ثنا الْأَشْعَثُ بْنُ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي شَهْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ، أَوِ الْمَرْأَةُ، بِطَاعَةِ اللهِ سِتِّينَ سَنَةً، ثُمَّ يَحْضُرُهُمَا الْمَوْتُ فَيُضَارَّانِ فِي الْوَصِيَّةِ فَتَجِبُ لَهُمَا النَّارُ" وَقَالَ: ثُمَّ قَرَأَ عَلَيَّ أَبُو هُرَيْرَةَ مِنْ هَا هُنَا {مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصَى بِهَا أَوْ دَيْنٍ غَيْرَ مُضَارٍّ} [النساء: ١٢] ، حَتَّى بَلَغَ {وَذَلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ} [النساء: ١٣] .
(١٢٥٨٥) حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک آدمی یا عورت اللہ کی اطاعت والے اعمال ساٹھ سال تک کرتے ہیں پھر ان کے پاس موت آتی ہے اور وہ وصیت کے ذریعے نقصان پہنچاتے ہیں تو ان کے لیے آگ واجب ہے۔ پھر حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے آیت پڑھی: { مِنْ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ یُوصَی بِہَا أَوْ دَیْنٍ غَیْرَ مُضَارٍّ } سے الْفَوْزُ الْعَظِیمُ } تک۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12585]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ ابوداود 2867۔ ترمذي 2117»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12586
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمِصْرِيُّ إِمْلَاءً فِي الْمُحَرَّمِ سَنَةَ تِسْعٍ وَثَلَاثِينَ وَثَلَاثِمِائَةٍ، ثنا بَكْرُ بْنُ سَهْلٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، ثنا عُمَرُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْإِضْرَارُ فِي الْوَصِيَّةِ مِنَ الْكَبَائِرِ".
(١٢٥٨٦) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وصیت میں نقصان دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12586]
تخریج الحدیث: «منكر»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12587
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" الْحَنَفُ فِي الْوَصِيَّةِ وَالْإِضْرَارُ فِيهَا مِنَ الْكَبَائِرِ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ دَاوُدَ مَوْقُوفًا، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا، وَرَفْعُهُ ضَعِيفٌ.
(١٢٥٨٧) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: وصیت میں ظلم اور نقصان کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12587]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 342۔ 344»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں