السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2608. -- باب: ما جاء في قوله عز وجل وليخش الذين لو تركوا من خلفهم ذرية ضعافا خافوا عليهم فليتقوا الله وليقولوا قولا سديدا وما ينهى عنه من الإضرار في الوصية
-- باب: اللہ عزوجل کے اس فرمان ”اور ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو اگر اپنے پیچھے ناتواں اولاد چھوڑ جائیں تو انہیں ان کا اندیشہ ہو، پس انہیں اللہ سے ڈرنا چاہیے اور سیدھی بات کہنی چاہیے“ کے متعلق جو مروی ہے اور وصیت میں نقصان پہنچانے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 12587
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ:" الْحَنَفُ فِي الْوَصِيَّةِ وَالْإِضْرَارُ فِيهَا مِنَ الْكَبَائِرِ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مَوْقُوفٌ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ ابْنُ عُيَيْنَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ دَاوُدَ مَوْقُوفًا، وَرُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا، وَرَفْعُهُ ضَعِيفٌ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: وصیت میں ظلم اور نقصان کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔
صحیح یہی ہے کہ یہ موقوف ہے، اسی طرح ابن عیینہ وغیرہ نے داود سے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، اور ایک دوسری سند سے مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12587]
صحیح یہی ہے کہ یہ موقوف ہے، اسی طرح ابن عیینہ وغیرہ نے داود سے اسے موقوفاً روایت کیا ہے، اور ایک دوسری سند سے مرفوعاً بھی روایت کیا گیا ہے، لیکن اس کا مرفوع ہونا ضعیف ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الوصايا/حدیث: 12587]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 342۔ 344»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12587 in Urdu