🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2616. -- باب: الوصية في سبيل الله عز وجل
-- باب: اللہ عزوجل کے راستے میں وصیت کرنے کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12603
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٤٤٩⦘ إِسْحَاقَ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَعْقِلِ بْنِ أَبِي مَعْقِلٍ الْأَسَدِيِّ أَسَدِ خُزَيْمَةَ، أَخْبَرَنِي يُوسُفُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ جَدَّتِهِ أُمِّ مَعْقِلٍ قَالَتْ: لَمَّا حَجَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِجَّةَ الْوَدَاعِ أَمَرَ النَّاسَ أَنْ يَتَهَيَّأُوا مَعَهُ، فَتَجَهَّزْنَا، فَأَصَابَتْنِي هَذِهِ الْقُرْحَةُ؛ الْحَصْبَةُ أَوِ الْجُدَرِيُّ، قَالَتْ: فَدَخَلَ عَلَيْنَا مِنْ ذَلِكَ مَا شَاءَ اللهُ، فَأَصَابَنِي مَرَضٌ وَأَصَابَ أَبَا مَعْقِلٍ، فَأَمَّا أَبُو مَعْقِلٍ فَهَلَكَ فِيهَا، قَالَتْ: وَكَانَ لَنَا جَمَلٌ يَنْضَحُ عَلَيْهِ نَخَلَاتٍ لَنَا هُوَ، وَكَانَ هُوَ الَّذِي نُرِيدُ أَنْ نَحُجَّ عَلَيْهِ، قَالَتْ: فَجَعَلَهُ أَبُو مَعْقِلٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، قَالَتْ: وَشُغِلْنَا بِمَا أَصَابَنَا، وَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ حِجَّتِهِ جِئْتُ حِينَ تَمَاثَلْتُ مِنْ وَجَعِي فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" يَا أُمَّ مَعْقِلٍ، مَا مَنَعَكِ أَنْ تَخْرُجِي مَعَنَا فِي وَجْهِنَا هَذَا؟" قَالَتْ: قُلْتُ: وَاللهِ لَقَدْ تَهَيَّأْنَا لِذَلِكَ، فَأَصَابَتْنَا هَذِهِ الْقُرْحَةُ، فَهَلَكَ فِيهَا أَبُو مَعْقِلٍ، وَأَصَابَنِي مِنْهَا مَرَضٌ، فَهَذَا حِينَ صَحِحْتُ مِنْهَا، وَكَانَ لَنَا جَمَلٌ هُوَ الَّذِي نُرِيدُ أَنْ نَخْرُجَ عَلَيْهِ، فَأَوْصَى بِهِ أَبُو مَعْقِلٍ فِي سَبِيلِ اللهِ، قَالَ:" فَهَلَّا خَرَجْتِ عَلَيْهِ؛ فَإِنَّ الْحَجَّ مِنْ سَبِيلِ اللهِ، أَمَا إِذْ فَاتَتْكِ هَذِهِ الْحِجَّةُ مَعَنَا فَاعْتَمِرِي عُمْرَةً فِي رَمَضَانَ فَإِنَّهَا كَحِجَّةٍ" قَالَ: فَكَانَتْ تَقُولُ: الْحَجُّ حَجٌّ، وَالْعُمْرَةُ عُمْرَةٌ، وَقَدْ قَالَ فِي هَذَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَدْرِي أَخَاصَّةً لِي لِمَا فَاتَنِي مِنَ الْحَجِّ، أَمْ هِيَ لِلنَّاسِ عَامَّةً. قَالَ يُوسُفُ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ فِي زَمَنِ مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: مَنْ سَمِعَ هَذَا الْحَدِيثَ مَعَكَ مِنْهَا؟ فَقُلْتُ: مَعْقِلُ بْنُ أَبِي مَعْقِلٍ، وَهُوَ رَجُلٌ بَدَوِيٌّ، قَالَ: فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ مَرْوَانُ، فَحَدَّثَهُ بِمِثْلِ مَا حَدَّثْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا مَرْوَانُ، إِنَّهَا حَيَّةٌ فِي دَارِهَا بَعْدُ، فَوَاللهِ مَا اطْمَأَنَّ إِلَى حَدِيثِنَا حَتَّى رَكِبَ إِلَيْهَا فِي النَّاسِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا، فَحَدَّثَتْهُ بِهَذَا الْحَدِيثِ.
یوسف بن عبداللہ بن سلام اپنی دادی اُمّ معقل رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کا حج کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تیاری کریں، ہم نے بھی تیاری کی، پس مجھے خسرہ یا چیچک کی بیماری لگ گئی۔ مجھے بھی بیماری لگ گئی اور ابو معقل رضی اللہ عنہ کو بھی۔ ابو معقل رضی اللہ عنہ تو اس بیماری میں فوت ہو گئے۔ کہتی ہیں: ہمارے پاس ایک اونٹ تھا، اس سے ہم اپنے باغ کو سیراب کرتے تھے اور اسی پر ہم حج کا ارادہ رکھتے تھے۔ ابو معقل رضی اللہ عنہ نے اسے اللہ کے راستے میں وقف کر دیا اور ہمیں بیماری نے روک دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چلے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم حج سے واپس آئے تو میں اپنی بیماری سے ٹھیک ہو چکی تھی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام معقل! تجھے ہمارے ساتھ حج کرنے میں کس چیز نے روکا تھا؟“ کہتی ہیں: میں نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے اس کی تیاری کی تھی، ہمیں یہ بیماری لگ گئی تھی۔ ابو معقل رضی اللہ عنہ کو تو ہلاک کر دیا اور میں بیمار تھی، پس جب میں صحیح ہوئی تو ہمارا اونٹ جس پر حج کا ارادہ تھا، اسے ابو معقل رضی اللہ عنہ نے اللہ کے راستے میں وقف کر دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو کیوں نہ اس پر نکلی؟ حج بھی اللہ کا راستہ ہی ہے، لیکن اب تجھ سے حج فوت ہو گیا ہے تو تو رمضان میں عمرہ کر لینا وہ بھی حج کی طرح ہی ہوگا۔“ راوی کہتے ہیں: وہ کہتی تھیں: حج حج ہی ہے اور عمرہ عمرہ ہی ہے اور تحقیق اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے؛ میں نہیں جانتی کہ میرے لیے خاص ہے کہ مجھ سے حج رہ گیا تھا یا لوگوں کے لیے عام ہے۔ یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے یہ حدیث مروان کو بیان کی، وہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں مدینہ کے امیر تھے، اس نے کہا: تیرے ساتھ یہ حدیث کسی اور نے سنی ہے؟ میں نے کہا: معقل بن ابی معقل رضی اللہ عنہ نے اور وہ دیہاتی آدمی ہے۔ مروان نے اس کی طرف پیغام بھیجا۔ پس اس نے بھی میری طرح ہی حدیث بیان کی۔ میں نے کہا: مروان! وہ عورت (ام معقل رضی اللہ عنہا) اپنے گھر میں زندہ ہے۔ اس کے بعد وہ ہماری حدیث پر مطمئن نہ ہوا یہاں تک کہ وہ سوار ہو کر اس کی طرف گیا پھر اس نے یہ حدیث بیان کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12603]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12604
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا إِسْحَاقُ الْأَزْرَقُ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ يَعْنِي ابْنَ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: قُلْتُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ: إِنَّهُ أُرْسِلَ إِلِيَّ بِدَرَاهِمَ أَجْعَلُهَا فِي سَبِيلِ اللهِ، وَإِنَّ مِنَ الْحَاجِّ مَنْ بَيْنِ مُنْقَطَعٍ بِهِ وَبَيْنَ مَنْ قَدْ ذَهَبَتْ نَفَقَتُهُ، أَفَأَجْعَلُهَا فِيهِمْ؟ قَالَ:" نَعَمْ، اجْعَلْهَا فِيهِمْ؛ فَإِنَّهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ صَاحِبِي إِنَّمَا أَرَادَ الْمُجَاهِدِينَ؟ قَالَ: اجْعَلْهَا فِيهِمْ؛ فَإِنَّهُمْ فِي سَبِيلِ اللهِ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنِّي أَخَافُ اللهَ أَنْ أُخَالِفَ مَا أُمِرْتُ بِهِ، قَالَ: فَغَضِبَ وَقَالَ:" وَيْحَكَ أَوَلَيْسَ بِسَبِيلِ اللهِ؟" هَذَا مَذْهَبٌ لِابْنِ عُمَرَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّهَا: تَخْرُجُ فِي الْغَزْوِ.
انس بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: میری طرف کچھ درہم بھیجے گئے ہیں کہ ان کو اللہ کے راستے میں وقف کروں، اور بیشک حاجیوں کا خرچہ ختم ہونے والا ہے، کیا ان میں تقسیم کر دوں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ہاں، ان میں تقسیم کر دو، وہ بھی اللہ کا راستہ ہی ہے۔ میں نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ میرا دوست یہ ارادہ نہ رکھتا ہو کہ مجاہدوں میں تقسیم ہو، ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: حاجیوں میں تقسیم کر دو، وہ بھی «فِي سَبِيلِ اللّٰهِ» ”اللہ کے راستے میں“ ہی ہے۔ میں نے کہا: مجھے ڈر ہے کہ میں اس کا مخالف نہ بن جاؤں جس کا مجھے حکم دیا گیا ہے، وہ غصے میں آگئے اور کہا: تیرے لیے ہلاکت ہے، کیا وہ اللہ کے راستے میں نہیں ہیں؟ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کا مذہب تھا۔
اور سیدنا ابو الدرداء رضی اللہ عنہ سے روایت کیا گیا ہے کہ یہ مال جہاد کی مہمات میں خرچ کیا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12604]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12605
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْفَتْحِ الْعُمَرِيُّ الشَّرِيفُ الْإِمَامُ، أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي شُرَيْحٍ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: أَوْصَى إِلِيَّ رَجُلٌ بِمَالِهِ أَنْ أَجْعَلَهُ فِي سَبِيلِ اللهِ، فَسَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، فَقَالَ:" إِنَّ الْحَجَّ مِنْ سَبِيلِ اللهِ؛ فَاجْعَلْهُ فِيهِ".
حضرت انس بن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مجھے ایک آدمی نے اپنے مال کی وصیت کی کہ اسے اللہ کے راستے میں خرچ کر دوں، میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے کہا: بیشک حج بھی اللہ کے راستے سے ہی ہے، اس میں وقف کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12605]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں