السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2615. -- باب: الوصية بالحج
-- باب: حج کی وصیت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 12598
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا مُعَاذٌ، عَنِ الْأَشْعَثِ، عَنِ الْحَسَنِ أَنَّهُ قَالَ فِي الرَّجُلِ فَرَّطَ فِي زَكَاةٍ، وَفَرَّطَ فِي الْحَجِّ، حَتَّى ⦗٤٤٨⦘ حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ، قَالَ: كَانَ الْحَسَنُ يَقُولُ:" يَبْدَأُ بِالْحَجِّ وَالزَّكَاةِ، ثُمَّ قَالَ بَعْدُ: لَا، وَلَا كَرَامَةَ، يَدَعُهُ حَتَّى إِذَا صَارَ الْمَالُ لِغَيْرِهِ قَالَ: حُجُّوا عَنِّي، وَزَكُّوا عَنِّي هُوَ مِنَ الثُّلُثِ" كَذَا فِي هَذِهِ الرِّوَايَةِ.
حسن رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جو زکوۃ اور حج میں کوتاہی کرے یہاں تک کہ اسے موت آ جائے۔ حسن رحمہ اللہ کہتے تھے: حج اور زکوۃ سے ابتدا کی جائے گی، پھر بعد میں کہا: نہیں، اور نہ اس میں کوئی عزت کی بات ہے، وہ اسے چھوڑے رکھتا ہے یہاں تک کہ جب مال دوسروں کا ہونے لگتا ہے تو کہتا ہے: میری طرف سے حج کیا جائے اور میری طرف سے زکوۃ دی جائے، یہ ثلث میں سے ہو گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12598]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12599
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو حَامِدٍ أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الرَّازِيُّ الْحَافِظُ، أنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، ثنا هِشَامٌ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي الرَّجُلِ يُوصِي أَنْ يُحَجَّ عَنْهُ، قَالَ:" إِنْ كَانَ قَدْ حَجَّ فَمِنَ الثُّلُثِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ حَجَّ فَهُوَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ، أَوْصَى أَوْ لَمْ يُوصِ، وَهُوَ عَلَيْهِ دَيْنٌ".
حسن رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جو اپنی طرف سے حج کی وصیت کرے، انہوں نے کہا: اگر اس نے حج کیا تھا تو ثلث سے وصیت پوری ہوگی اور اگر نہ کیا تھا تو سارے مال سے حج کیا جائے گا، اس نے وصیت کی ہو یا نہ کی ہو۔ وہ اس پر قرض ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12599]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12600
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو الْأَزْهَرِ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ:" إِذَا أَوْصَى الرَّجُلُ بِشَيْءٍ يَكُونُ عَلَيْهِ وَاجِبًا؛ حَجٌّ أَوْ كَفَّارَةُ يَمِينٍ أَوْ ظِهَارٌ، فَهُوَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ".
ابن طاؤس اپنے والد رحمہما اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ جب آدمی کسی چیز کی وصیت کرے اور وہ اس پر واجب ہو، حج یا قسم کا کفارہ یا ظہار کا کفارہ، تو وہ سارے مال سے ہو گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12600]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12601
قَالَ: وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوزُقٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، وَعَنْ زِيَادٍ الْأَعْلَمِ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي الرَّجُلِ يُوصِي بِالْحَجِّ أَوْ بِالزَّكَاةِ، قَالَ:" هُوَ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ" وَرُوِّينَا عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ أَنَّهُ قَالَ: إِذَا أَوْصَى بِحَجٍّ أَوْ زَكَاةٍ فَهِيَ مِنَ الثُّلُثِ، حَجَّ أَوْ لَمْ يَحُجَّ وَعَنِ ابْنِ سِيرِينَ مِثْلُ ذَلِكَ، وَبِقَوْلِ الْحَسَنِ وَطَاوُسٍ، وَعَطَاءٍ، وَالزُّهْرِيِّ نَقُولُ؛ حَيْثُ قَالُوا: هُوَ بِمَنْزِلَةِ الدَّيْنِ.
حسن رحمہ اللہ سے اس آدمی کے بارے میں روایت ہے جو حج یا زکوٰۃ کی وصیت کرتا ہے کہ وہ سارے مال سے ہے۔
ہمیں ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: جب وہ حج یا زکوٰۃ کی وصیت کرے تو وہ ثلث میں سے ہو گی، خواہ اس نے حج کیا ہو یا نہ کیا ہو، اور ابن سیرین رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ اور ہم حسن، طاؤس، عطاء اور زہری رحمہم اللہ کے قول کو اختیار کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے کہا: یہ قرض کے درجے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12601]
ہمیں ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت پہنچی ہے کہ انہوں نے کہا: جب وہ حج یا زکوٰۃ کی وصیت کرے تو وہ ثلث میں سے ہو گی، خواہ اس نے حج کیا ہو یا نہ کیا ہو، اور ابن سیرین رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ اور ہم حسن، طاؤس، عطاء اور زہری رحمہم اللہ کے قول کو اختیار کرتے ہیں، کیونکہ انہوں نے کہا: یہ قرض کے درجے میں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12601]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 12602
اسْتِدْلَالًا بِمَا: حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ فِرَاسٍ الْمَالِكِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: إِنَّ أُمِّي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ، فَمَاتَتْ قَبْلَ أَنْ تَحُجَّ، أَفَأَحُجُّ عَنْهَا؟ قَالَ:" نَعَمْ، حُجِّي عَنْهَا، أَرَأَيْتِ إِنْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ؟" قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ:" اقْضِي اللهَ الَّذِي هُوَ لَهُ؛ فَإِنَّ اللهَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى وَمُسَدَّدٍ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ.
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، اس نے کہا: میری ماں نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کرے گی۔ وہ حج سے پہلے فوت ہو گئی ہے، کیا میں اس کی طرف سے حج کر لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، تو حج کر لے۔ تیرا کیا خیال ہے اگر تیری ماں پر قرض ہوتا تو تو نے ادا کرنا تھا؟“ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کا قرض پورا کرو، اس کا پورا کرنا زیادہ ضروری ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12602]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري1315»
الحكم على الحديث: صحيح