السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2619. -- باب: نكاح المريض
-- باب: بیمار شخص کے نکاح کا بیان
حدیث نمبر: 12614
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنا سَعِيدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ:" كَانَتِ ابْنَةُ حَفْصِ بْنِ الْمُغِيرَةِ عِنْدَ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَةً، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ تَزَوَّجَهَا، فَحُدِّثَ أَنَّهَا عَاقِرٌ لَا تَلِدُ، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَهَا، فَمَكَثَتْ حَيَاةَ عُمَرَ وَبَعْضَ خِلَافَةِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَهُوَ مَرِيضٌ لِتُشْرِكَ نِسَاءَهُ فِي الْمِيرَاثِ، وَكَانَتْ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا قَرَابَةٌ".
(١٢٦١٤) ابن عمر رضی اللہ عنہ کے غلام نافع فرماتے ہیں کہحفص بن مغیرہ کی بیٹی عبداللہ بن ابی ربیعہ کے پاس تھی۔ اس نے اسے طلاق دے دی، پھر عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس سے شادی کرلی، آپ کو بتایا گیا کہ وہ بانجھ ہے، اولاد کے قابل نہیں، آپ نے مجامعت سے پہلے ہی اسے طلاق دے دی۔ وہ حضرت عمر کی زندگی میں ٹھہری رہی اور کچھ زمانہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت کا بھی، پھر اس نے عبداللہ بن ربیعہ سے شادی کرلی، تاکہ وراثت میں اس کی بیویوں کے ساتھ حق دار بن جائے اور ان دونوں میں رشتہ داری بھی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12614]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12615
وَبِإِسْنَادِهِ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ بْنَ خَالِدٍ يَقُولُ:" أَرَادَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أُمِّ الْحَكَمِ فِي شَكْوَاهُ أَنْ يُخْرِجَ امْرَأَتَهُ مِنْ مِيرَاثِهَا، فَأَبَتْ، فَنَكَحَ عَلَيْهَا ثَلَاثَ نِسْوَةٍ، وَأَصْدَقَهُنَّ أَلْفَ دِينَارٍ كُلَّ امْرَأَةٍ مِنْهُنَّ، فَأَجَازَ ذَلِكَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ، وَشَرَّكَ بَيْنَهُنَّ فِي الثُّمُنِ" قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَرَى ذَلِكَ صَدَاقَ مِثْلِهِنَّ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَبَلَغَنِي أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ قَالَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: زَوِّجُونِي؛ لَا أَلْقَى اللهَ وَأَنَا أَعْزَبُ.
(١٢٦١٥) عمرو بن دینار نے عکرمہ بن خالد سے سنا، وہ کہتے تھے کہ عبدالرحمن بن ام حکم نے اپنی بیماری میں اپنی بیوی کو وراثت سے نکالنے کا ارادہ کیا، اس نے انکار کردیا۔ پس عبدالرحمن نے اس کے ساتھ تین اور عورتوں سے نکاح کرلیا اور ان کا حق مہر ہر ایک کے لیے ایک ایک ہزار دینار مقرر کردیا اور عبدالملک بن مروان نے اس کی اجازت دے دی اور اس (پہلی بیوی) کو ان کے ساتھ ثمن میں شریک کیا۔ امام شافعی (رح) فرماتے ہیں: اس کا مطلب ہے ان جیسا حق مہر اور امام شافعی (رح) فرماتی ہیں: مجھے معاذ بن جبل سے یہ بات پہنچی ہے کہ انھوں نے اپنی وفات والی مرض میں کہا تھا، میری شادی کر دو، میں اللہ سے اس حال میں نہیں ملنا چاہتا کہ میں کنوارا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12615]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الشافعي في الام 4/ 104»
الحكم على الحديث: ضعيف