🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش کل احادیث (21812)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2621. -- باب: الحج عن الميت وقضاء ديونه عنه
-- باب: میت کی طرف سے حج کرنے اور اس کے قرضے ادا کرنے کے بیان میں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12627
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَارِثِ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ، ثنا شُعْبَةُ قَالَ: جَعْفَرُ بْنُ إِيَاسٍ أَخْبَرَنِي، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ أُخْتِي نَذَرَتْ أَنْ تَحُجَّ وَإِنَّهَا مَاتَتْ، قَالَ:" لَوْ كَانَ عَلَيْهَا دَيْنٌ أَكُنْتَ قَاضِيَهُ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَالَ:" فَاقْضُوا اللهَ؛ فَهُوَ أَحَقُّ بِالْوَفَاءِ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ آدَمَ عَنْ شُعْبَةَ.
(١٢٦٢٧) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس آیا، اس نے کہا: میری بہن نے نذر مانی تھی کہ وہ حج کرے گی اور وہ فوت ہوگئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر اس پر قرض ہوتا تو ادا کرتا؟ اس نے کہا: ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا حق ادا کرو وہ اس کا زیادہ حق دار ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12627]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1852»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12628
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا صَفْوَانُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ رُزَيْقٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَطَاءً الْخُرَاسَانِيَّ، عَنْ أَبِي الْغَوْثِ بْنِ الْحُصَيْنِ الْخَثْعَمِيِّ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ أَبِي أَدْرَكَتْهُ فَرِيضَةُ اللهِ فِي الْحَجِّ، وَهُوَ شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَتَمَالَكُ عَلَى الرَّاحِلَةِ، فَمَا تَرَى الْحَجَّ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، ⦗٤٥٤⦘ فَحُجَّ عَنْهُ"، قَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، وَكَذَلِكَ مَنْ مَاتَ مِنْ أَهْلِينَا وَلَمْ يُوصِ بِالْحَجِّ فَيُحَجُّ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَتُؤْجَرُونَ"، قَالَ: وَيُتَصَدَّقُ عَنْهُ وَيُصَامُ عَنْهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ، وَالصَّدَقَةُ أَفْضَلُ"، وَكَذَلِكَ فِي النَّذْرِ وَالْمَشْيِ إِلَى الْمَسَاجِدِ هَذَا مُرْسَلٌ بَيْنَ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ وَمَنْ فَوْقَهُ، وَمَعْنَاهُ مَوْجُودٌ فِي الْحَدِيثِ الثَّابِتِ قَبْلَهُ.
(١٢٦٢٨) ابوالغوث بن حصین فرماتے ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے باپ کو اللہ کے فریضہ حج نے پا لیا ہے اور وہ بوڑھے ہیں۔ سواری کی طاقت نہیں رکھتے، آپ ان کی طرف سیحج کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اس کی طرف سے حج کیا جائے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! ہمارے گھر والوں میں سے جو بھی فوت ہوگیا اور اس نے حج کی وصیت نہ کی ہو کیا اس کی طرف سے بھی حج کیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہا: ہاں اور تمہیں بھی اجر دیا جائے گا، اس نے کہا: اس کی طرف سے صدقہ کیا جائے اور روزے رکھے جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہاں اور صدقہ افضل ہے، اسی طرح نذر میں اور مسجد کی طرف چلنے میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12628]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم برقم 8673»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں