السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2630. -- باب: المرض الذي يجوز فيه الأعطية
-- باب: اس بیماری کا بیان جس میں عطیات دینا جائز ہے
حدیث نمبر: Q12656
قَدْ مَضَى فِي حَدِيثِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ: عَادَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ مِنْ وَجَعٍ أَشْفَيْتُ مِنْهُ عَلَى الْمَوْتِ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وَصِيَّتِهِ.
سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی حدیث گزر چکی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر بیماری کی وجہ سے میری عیادت کی میں نے موت سے عافیت مانگی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: Q12656]
حدیث نمبر: 12656
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ قَالَ:" رَأَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يُصَابَ بِأَيَّامٍ بِالْمَدِينَةِ، وَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي طَعْنِهِ، قَالَ:" فَاحْتُمِلَ إِلَى بَيْتِهِ، فَانْطَلَقْنَا مَعَهُ"، قَالَ:" فَقَائِلٌ يَقُولُ: لَا بَأْسَ، وَقَائِلٌ يَقُولُ: نَخَافُ عَلَيْهِ، فَأُتِيَ بِنَبِيذٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ، ثُمَّ أُتِيَ بِلَبَنٍ فَشَرِبَهُ فَخَرَجَ مِنْ جُرْحِهِ، فَعَرَفُوا أَنَّهُ مَيِّتٌ"، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي وَصِيَّتِهِ وَفِي أَمْرِ الشُّورَى رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
(١٢٦٥٦) عمرو بن میمون فرماتے ہیں: میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو دیکھا زخم سے پہلے مدینہ میں ان کے نیزہ لگنے والی حدیث بیان کی، کہا: ان کو گھر لایا گیا تو ہم بھی ساتھ تھے۔ ایک کہنے والے نے کہا: کوئی حرج نہیں اور ایک نے کہا: ہم کو ڈر ہے آپ رضی اللہ عنہ (عمر) کا نبیذ لائی گئی، آپ کو پلائی گئی، پس وہ زخم سے باہر نکل آئی۔ پھر دودھ پلایا، وہ بھی زخم سے باہر نکل آیا، انھوں نے پہچان لیا کہ وہ فوت ہوگئے ہیں، پھر عمرو بن میمون نے شوریٰ کے معاملہ والی وصیت کا ذکر کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12656]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3700»
الحكم على الحديث: صحيح