🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2631. -- باب: ما جاء في وصية الصغير
-- باب: نابالغ بچے کی وصیت کے متعلق جو مروی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12657
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قِيلَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: إِنَّ هَا هُنَا غُلَامًا يَفَاعًا لَمْ يَحْتَلِمْ مِنْ غَسَّانَ، وَوَارِثُهُ بِالشَّامِ وَهُوَ ذُو مَالٍ، وَلَيْسَ لَهُ هَا هُنَا إِلَّا ابْنَةُ عَمٍّ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" فَلْيُوصِ لَهَا"، فَأَوْصَى لَهَا بِمَالٍ يُقَالُ لَهُ: بِئْرُ جُشَمَ قَالَ عَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ: فَبِعْتُ ذَلِكَ الْمَالَ بِثَلَاثِينَ أَلْفًا وَابْنَةُ عَمِّهِ الَّتِي أَوْصَى لَهَا هِيَ أُمُّ عَمْرِو بْنُ سُلَيْمٍ وَيُذْكَرُ عَنْ شُرَيْحٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ أَنَّهُمَا أَجَازَا وَصِيَّةَ الصَّغِيرِ، وَقَالَا: مَنْ أَصَابَ الْحَقَّ أَجَزْنَاهُ وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ عَلَّقَ جَوَازَ وَصِيَّتِهِ وَتَدْبِيرِهِ بِثِبُوتِ الْخَبَرِ فِيهَا عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَالْخَبَرُ مُنْقَطِعٌ؛ فَعَمْرُو بْنُ سُلَيْمٍ الزُّرَقِيُّ لَمْ يُدْرِكْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، إِلَّا أَنَّهُ ذَكَرَ فِي الْخَبَرِ انْتِسَابَهُ إِلَى صَاحِبِ الْقِصَّةِ وَاللهُ أَعْلَمُ.
عمرو بن سلیم زرقی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے کہا گیا کہ یہاں ایک نابالغ بچہ ہے غسان کا اور اس کے ورثا شام میں ہیں اور وہ مالدار ہے اور یہاں سوائے اس کے چچا کی بیٹی کے اور کوئی نہیں ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اسے چاہیے کہ چچا کی بیٹی کے لیے وصیت کر دے۔ پس اس نے اس کے لیے مال کی وصیت کر دی، جسے «بِئْرُ جُشَمَ» ”بئرِ جشم“ کہا جاتا تھا، عمرو بن سلیم کہتے ہیں کہ میں نے وہ مال تیس ہزار کا بیچا اور اس کے چچا کی بیٹی جس کے لیے وصیت کی تھی اس کا نام امِ عمرو بن سلیم تھا۔ شریح اور عبداللہ بن عتبہ رحمہما اللہ سے بیان کیا گیا ہے کہ دونوں نے بچے کی وصیت کی اجازت دی ہے اور دونوں نے کہا کہ جو حق کو پہنچ گیا، ہم نے اسے اجازت دی ہے اور امام شافعی رحمہ اللہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی حدیث کے ثابت ہونے تک بچے والی وصیت کو معلق رکھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ والی خبر منقطع ہے، کیونکہ عمرو بن سلیم زرقی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا، البتہ انہوں نے اس خبر میں قصے والے شخص سے اپنی نسبت ذکر کی ہے، واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12657]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 1454»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں