السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2638. -- باب: ما جاء في تأديب اليتيم
-- باب: یتیم کی تربیت و تادیب کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 12672
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ مُوسَى، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّ فِي حِجْرِي يَتِيمًا، فَأَضْرِبُهُ؟ قَالَ:" مَا كُنْتَ ضَارِبًا فِيهِ وَلَدَكَ؟" قَالَ: أَفَآكُلُ؟ قَالَ:" بِالْمَعْرُوفِ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، وَلَا وَاقٍ مَالَكَ بِمَالِهِ" هَذَا مُرْسَلٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَوْصُولًا، وَهُوَ ضَعِيفٌ، قَدْ مَضَى ذِكْرُهُ فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ.
حضرت حسن عرنی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: میری پرورش میں ایک یتیم ہے، کیا میں اسے مار سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اس وقت) جب اپنی اولاد کو اس پر مارے“ اس نے کہا: کیا میں کھا سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معروف طریقے سے، نہ (اپنے لیے) مال جمع کرے اور نہ اس کے مال کے ذریعے اپنے مال کو بچائے۔“
یہ روایت مرسل ہے، اور ایک دوسری سند سے موصولاً بھی مروی ہے مگر وہ ضعیف ہے، اس کا ذکر کتاب البیوع میں گزر چکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12672]
یہ روایت مرسل ہے، اور ایک دوسری سند سے موصولاً بھی مروی ہے مگر وہ ضعیف ہے، اس کا ذکر کتاب البیوع میں گزر چکا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12672]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12673
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الْوَرَّاقُ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا حَرْبُ بْنُ مَيْمُونٍ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" رَحِمَ اللهُ رَجُلًا ائْتَجَرَ عَلَى يَتِيمٍ بِلَطْمَةٍ".
ابورجاء رحمہ اللہ کہتے ہیں: سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو یتیم کو ادب سکھانے کے لیے مارتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12673]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 12674
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ مُعَاذٍ، ثنا أَبِي، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ شُمَيْسَةَ قَالَتْ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا عَنْ أَدَبِ الْيَتِيمِ، قَالَتْ:" إِنِّي لَأَضْرِبُ أَحَدَهُمْ حَتَّى يَنْبَسِطَ".
شمسیہ کہتی ہیں، میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یتیم کو ادب سکھانے کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا: میں ان میں سے کسی ایک کو مارتی ہوں یہاں تک کہ وہ خوش ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الوَصَايَا/حدیث: 12674]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري في الادب 142»
الحكم على الحديث: صحيح