🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2647. -- بابُ مَصْرِفِ الأَرْبَعَةِ الأَخْمَاسِ مِنْ مَالِ الفَيْءِ غَيْرِ الخُمُسِ
-- مال فئی کے خمس کے علاوہ باقی چار حصوں کے مصرف کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q12724
بَابُ مَصْرِفِ أَرْبَعَةِ أَخْمَاسِ الْفَيْءِ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَّهَا كَانَتْ لَهُ خَاصَّةً دُونَ الْمُسْلِمِينَ يَضَعُهَا حَيْثُ أَرَاهُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ.
باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مالِ فے کے چار حصوں کے مصرف کا بیان، اور یہ کہ وہ مسلمانوں کو چھوڑ کر خاص طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کے لیے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں وہاں خرچ فرماتے جہاں اللہ عزوجل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (مناسب) دکھاتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: Q12724]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12724
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَالْعَبَّاسُ وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ فِي أَمْوَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصًا دُونَ الْمُسْلِمِينَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ مِنْهَا عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَةٍ، فَمَا فَضَلَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللهِ، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَلِيَهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِمِثْلِ مَا وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَلِيتُهَا بِمِثْلِ مَا وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلْتُمَانِي أَنْ أُوَلِّيَكُمَاهَا، فَوَلَّيْتُكُمَاهَا عَلَى أَنْ تَعْمَلَا فِيهَا بِمِثْلِ مَا وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ وَلِيَهَا بِهِ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ وَلِيتُهَا بِهِ، فَجِئْتُمَانِي تَخْتَصِمَانِ أتُرِيدَانِ أَنْ أَدْفَعَ إِلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُما نِصْفًا، أتُرِيدَانِ مِنِّي قَضَاءً غَيْرَ مَا قَضَيْتُ بِهِ بَيْنَكُمَا أَوَّلًا، فَلَا وَالَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ، لَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَادْفَعَاهَا إِلِيَّ أَكْفِيكُمَاهَا" قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقَالَ لِي سُفْيَانُ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، وَلَكِنْ أَخْبَرَنِيهِ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنِ الزُّهْرِيِّ، قُلْتُ: كَمَا قَصَصْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ مُخْتَصَرًا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَمَعْنَى قَوْلِ عُمَرَ: لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، يُرِيدُ مَا كَانَ يَكُونُ لِلْمُوجِفِينَ، وَذَلِكَ أَرْبَعَةُ أَخْمَاسٍ ⦗٤٨٤⦘.
سیدنا عباس اور سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما دونوں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مال کے بارے میں جھگڑ رہے تھے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”بنی نضیر کے اموال تھے، ان سے اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر لوٹایا جس پر مسلمانوں کے گھوڑے اور اونٹ نہ دوڑائے گئے تھے، پس وہ مسلمانوں کے سوا صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنے اہل پر سال بھر کا خرچ کرتے تھے اور جو بچ جاتا اسے اللہ کے راستے میں تیاری کے لیے اسلحہ وغیرہ کے لیے دے دیتے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے، پھر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے والی بنے اسی طرح جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے والی تھے، پھر میں اس کا والی بنا جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اس کے والی بنے، پھر تم دونوں نے مجھ سے سوال کیا کہ میں تم کو والی بنا دوں۔ پس میں نے تم دونوں کو اس کا والی بنا دیا اس شرط پر کہ تم اس میں کام کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، پھر میں اس کا والی بنا۔ پس تم دونوں میرے پاس آئے تم جھگڑا کر رہے ہو، تم ارادہ رکھتے ہو کہ میں تم میں سے ہر ایک کو نصف نصف دے دوں۔ کیا تم مجھ سے فیصلے کا ارادہ رکھتے ہو کہ میں تم میں سے ہر ایک کو نصف نصف دے دوں؟ کیا تم یہ ارادہ رکھتے ہو کہ پہلے کے علاوہ کوئی فیصلہ کروں؟ اس ذات کی قسم جس کی اجازت سے آسمان و زمین قائم ہے، میں تمہارے درمیان اس کے علاوہ کوئی اور فیصلہ نہ کروں گا۔ اگر تم دونوں اس سے عاجز آ گئے ہو تو مجھے واپس لوٹا دو۔ میں تم دونوں سے اسے کافی ہو جاؤں گا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے قول (کہ یہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص (تھا) کا مطلب وہ حصہ ہے جو (عام طور پر) گھوڑے دوڑانے والوں کا ہوتا ہے، اور وہ چار حصے (یعنی چار خمس) ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12724]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه الشافعي في الام 4/ 140»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12725
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي أَهْلِي حِينَ تَمَتَّعَ النَّهَارُ، إِذْ أَتَى رَسُولُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: أَجِبْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَيْهِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي مُحَاوَرَةِ عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ عُمَرُ: أَنَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، إِنَّ اللهَ خَصَّ رَسُولَهُ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ، لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ، ثُمَّ قَرَأَ {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ} [الحشر: ٦] حَتَّى بَلَغَ {وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} [البقرة: ٢٨٤] ، وَكَانَتْ هَذِهِ خَاصَّةً لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا اخْتَارَهَا دُونَكُمْ، وَلَا اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ، وَلَكِنْ أَعْطَاكُمُوهَا وَبَثَّهَا فِيكُمْ، حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ مِنْهَا عَلَى أَهْلِهِ سَنَتَهُمْ مِنْ هَذَا، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ مِنْهَا فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللهِ، فَعَمِلَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ. وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ. ثُمَّ قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ فِيمَا يَحْتَجُّ بِهِ: كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةُ صَفَايَا: بَنُو النَّضِيرِ، وَخَيْبَرُ، وَفَدَكٌ، فَأَمَّا بَنُو النَّضِيرِ فَكَانَتْ حَبْسًا لِنَوَائِبِهِ، وَأَمَّا فَدَكٌ فَكَانَتْ لِابْنِ السَّبِيلِ، وَأَمَّا خَيْبَرُ فَجَزَّأَهَا ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَقَسَمَ مِنْهَا جُزْئَيْنِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، وَحَبَسَ جُزْءًا لِنَفْسِهِ وَنَفَقَةِ أَهْلِهِ، فَمَا فَضَلَ عَنْ نَفَقَةِ أَهْلِهِ رَدَّهُ عَلَى فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ.
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں: میں دن کے وقت اپنے گھر بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا نمائندہ آیا، اس نے کہا: امیر المومنین آپ کو بلا رہے ہیں، میں اس کے ساتھ گیا، حتیٰ کہ میں ان کے پاس داخل ہوا۔ پھر سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما والے مکالمے کی لمبی حدیث ذکر کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم کو اس بارے میں بیان کرتا ہوں، اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو «فَيْء» میں سے کچھ حصے کے ساتھ خاص کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کو وہ نہیں دیا، پھر یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ﴾ [سورة الحشر: 6] پس یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے علاوہ کسی کو اس کے لیے خاص نہ کیا اور نہ تم پر کسی کو ترجیح دی اور لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تم کو دے دیا اور اس میں تم کو شامل کرلیا حتیٰ کہ اس سے یہ مال بچ گیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنے اہل پر سال بھر تک خرچ کرتے تھے اور باقی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے مال میں شامل کردیتے تھے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ایسا ہی کیا۔
مالک بن اوس سے دوسری روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، جس سے انہوں نے دلیل لی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تین چیزیں خاص تھیں: بنو نضیر، خیبر اور فدک۔ پس بنو نضیر کو حوادث کے لیے روکا تھا اور فدک مسافروں کے لیے تھا اور خیبر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حصوں میں تقسیم کیا تھا، دو حصے مسلمانوں کے لیے اور ایک اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے اور جو گھر والوں کے خرچہ سے بچ جاتا اسے مہاجرین فقراء کی طرف لوٹا دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12725]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12726
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا ابْنُ ثَوْرٍ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فِي قَوْلِهِ {فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ} [الحشر: ٦] ، قَالَ: صَالَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَ فَدَكٍ وَقُرًى قَدْ سَمَّاهَا لَا أَحْفَظُهَا وَهُوَ مُحَاصِرٌ قَوْمًا آخَرِينَ، فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ بِالصُّلْحِ، قَالَ: {فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ} [الحشر: ٦] ، يَقُولُ:" بِغَيْرِ قِتَالٍ"، قَالَ الزُّهْرِيُّ:" وَكَانَتْ بَنُو النَّضِيرِ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصًا لَمْ يَفْتَحُوهَا عَنْوَةً، افْتَتَحُوهَا عَلَى صُلْحٍ، فَقَسَمَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ الْمُهَاجِرِينَ، لَمْ يُعْطِ الْأَنْصَارَ مِنْهَا شَيْئًا، إِلَّا رَجُلَيْنِ كَانَتْ بِهِمَا حَاجَةٌ" وَرَوَاهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ.
امام زہری رحمہ اللہ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ﴿فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ﴾ [سورة الحشر: 6] کے بارے میں منقول ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فدک والوں سے اور بستی والوں سے (جس کا نام راوی کو بھول گیا ہے) صلح کی۔ اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک اور قوم کا محاصرہ کیے ہوئے تھے، ان لوگوں نے آپ کے پاس بطور صلح کے مال بھیجا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا ﴿فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ﴾ [سورة الحشر: 6] یعنی بغیر لڑائی کے۔ زہری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ بنو نضیر کے مال بھی خاص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تھے کیونکہ وہ بغیر جنگ کے حاصل ہوئے تھے، کچھ زور سے تو ان کو فتح نہیں کیا تھا بلکہ صلح کے طور پر فتح کیا تھا، اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مالوں کو مہاجرین میں تقسیم کر دیا اور انصار کو اس میں سے کچھ نہ دیا تھا، مگر دو آدمیوں کو جو ضرورت مند تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12726]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12727
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ فَارِسٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ قَالَ: قَالَ لِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مُحَمَّدٍ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي حُذَيْفَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمِّي زِيَادُ بْنُ صَيْفِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ صُهَيْبِ بْنِ سِنَانٍ قَالَ:" لَمَّا فَتَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَنِي النَّضِيرِ أَنْزَلَ ⦗٤٨٥⦘ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ} [الحشر: ٦] ، وَكَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاصَّةً، فَقَسَمَهَا لِلْمُهَاجِرِينَ، وَأَعْطَى رَجُلَيْنِ مِنْهَا مِنَ الْأَنْصَارِ؛ سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ وَابْنَ عَبْدِ الْمُنْذِرِ يَعْنِي أَبَا لُبَابَةَ، وَأَعْطَى أَبَا بَكْرٍ، وَأَعْطَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ بِئْرَ حَزْمٍ، وَأَعْطَى صُهَيْبًا وَأَعْطَى سَهْلَ بْنَ حُنَيْفٍ وَأَبَا دُجَانَةَ مَالَ الْأَخَوَيْنِ، وَأَعْطَى عَبْدَ الرَّحْمَنِ الْبِئْرَ، وَهُوَ الَّذِي يُقَالُ لَهُ: مَالُ سُلَيْمَانَ، وَأَعْطَى الزُّبَيْرَ الْبِئْرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ".
سیدنا صہیب بن سنان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر پر فتح پائی تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا: ﴿مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ﴾ [سورة الحشر: 6] اور وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے مہاجروں میں تقسیم کر دیا اور اس میں سے انصار کے دو آدمیوں سہل بن حنیف اور ابن عبدالمنذر یعنی ابو لبابہ رضی اللہ عنہما کو بھی دیا، اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کو دیا، اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو بئر حزم دیا، اور صہیب رضی اللہ عنہ کو دیا، اور سہل بن حنیف اور ابو دجانہ رضی اللہ عنہما کو دو بھائیوں کا مال دیا، اور عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو کنواں دیا جسے سلیمان کا مال کہا جاتا تھا، اور زبیر رضی اللہ عنہ کو بھی کنواں دیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12727]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں