السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2647. -- بابُ مَصْرِفِ الأَرْبَعَةِ الأَخْمَاسِ مِنْ مَالِ الفَيْءِ غَيْرِ الخُمُسِ
-- مال فئی کے خمس کے علاوہ باقی چار حصوں کے مصرف کا بیان
حدیث نمبر: 12725
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ، ثنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ فِي أَهْلِي حِينَ تَمَتَّعَ النَّهَارُ، إِذْ أَتَى رَسُولُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ: أَجِبْ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى أَدْخُلَ عَلَيْهِ. فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ فِي مُحَاوَرَةِ عَلِيٍّ وَعَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ عُمَرُ: أَنَا أُحَدِّثُكُمْ عَنْ هَذَا الْأَمْرِ، إِنَّ اللهَ خَصَّ رَسُولَهُ بِشَيْءٍ مِنْ هَذَا الْفَيْءِ، لَمْ يُعْطِهِ أَحَدًا غَيْرَهُ، ثُمَّ قَرَأَ {مَا أَفَاءَ اللهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ} [الحشر: ٦] حَتَّى بَلَغَ {وَاللهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ} [البقرة: ٢٨٤] ، وَكَانَتْ هَذِهِ خَاصَّةً لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا اخْتَارَهَا دُونَكُمْ، وَلَا اسْتَأْثَرَ بِهَا عَلَيْكُمْ، وَلَكِنْ أَعْطَاكُمُوهَا وَبَثَّهَا فِيكُمْ، حَتَّى بَقِيَ مِنْهَا هَذَا الْمَالُ، فَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ مِنْهَا عَلَى أَهْلِهِ سَنَتَهُمْ مِنْ هَذَا، ثُمَّ يَأْخُذُ مَا بَقِيَ مِنْهَا فَيَجْعَلُهُ مَجْعَلَ مَالِ اللهِ، فَعَمِلَ بِذَلِكَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيَاتَهُ. وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ. ثُمَّ قَالَ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسٍ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ فِيمَا يَحْتَجُّ بِهِ: كَانَ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةُ صَفَايَا: بَنُو النَّضِيرِ، وَخَيْبَرُ، وَفَدَكٌ، فَأَمَّا بَنُو النَّضِيرِ فَكَانَتْ حَبْسًا لِنَوَائِبِهِ، وَأَمَّا فَدَكٌ فَكَانَتْ لِابْنِ السَّبِيلِ، وَأَمَّا خَيْبَرُ فَجَزَّأَهَا ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَقَسَمَ مِنْهَا جُزْئَيْنِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ، وَحَبَسَ جُزْءًا لِنَفْسِهِ وَنَفَقَةِ أَهْلِهِ، فَمَا فَضَلَ عَنْ نَفَقَةِ أَهْلِهِ رَدَّهُ عَلَى فُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ.
مالک بن اوس بن حدثان کہتے ہیں: میں دن کے وقت اپنے گھر بیٹھا ہوا تھا کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا نمائندہ آیا، اس نے کہا: امیر المومنین آپ کو بلا رہے ہیں، میں اس کے ساتھ گیا، حتیٰ کہ میں ان کے پاس داخل ہوا۔ پھر سیدنا علی اور سیدنا عباس رضی اللہ عنہما والے مکالمے کی لمبی حدیث ذکر کی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم کو اس بارے میں بیان کرتا ہوں، اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو «فَيْء» میں سے کچھ حصے کے ساتھ خاص کیا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے علاوہ کسی اور کو وہ نہیں دیا، پھر یہ آیت پڑھی: ﴿وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ﴾ [سورة الحشر: 6] پس یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خاص تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے علاوہ کسی کو اس کے لیے خاص نہ کیا اور نہ تم پر کسی کو ترجیح دی اور لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ تم کو دے دیا اور اس میں تم کو شامل کرلیا حتیٰ کہ اس سے یہ مال بچ گیا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے اپنے اہل پر سال بھر تک خرچ کرتے تھے اور باقی آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے مال میں شامل کردیتے تھے، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں ایسا ہی کیا۔
مالک بن اوس سے دوسری روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، جس سے انہوں نے دلیل لی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تین چیزیں خاص تھیں: بنو نضیر، خیبر اور فدک۔ پس بنو نضیر کو حوادث کے لیے روکا تھا اور فدک مسافروں کے لیے تھا اور خیبر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حصوں میں تقسیم کیا تھا، دو حصے مسلمانوں کے لیے اور ایک اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے اور جو گھر والوں کے خرچہ سے بچ جاتا اسے مہاجرین فقراء کی طرف لوٹا دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12725]
مالک بن اوس سے دوسری روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، جس سے انہوں نے دلیل لی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے تین چیزیں خاص تھیں: بنو نضیر، خیبر اور فدک۔ پس بنو نضیر کو حوادث کے لیے روکا تھا اور فدک مسافروں کے لیے تھا اور خیبر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین حصوں میں تقسیم کیا تھا، دو حصے مسلمانوں کے لیے اور ایک اپنے لیے اور اپنے گھر والوں کے لیے اور جو گھر والوں کے خرچہ سے بچ جاتا اسے مہاجرین فقراء کی طرف لوٹا دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الفيء والغنيمة/حدیث: 12725]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 12725 in Urdu