السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2669. -- باب: ما جاء في سهم البراذين والمقاريف والهجين
-- باب: براذین، مقاریف اور ہجین (مختلف نسلوں کے گھوڑوں) کے حصے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: Q12882
قَالَ الشَّافِعِيُّ فِي الْقَدِيمِ: أَمَرَ اللهُ تَعَالَى أَنْ يَعُدُّوا لِعَدُوِّهِمْ مَا اسْتَطَاعُوا مِنْ قُوَّةٍ وَمِنْ رِبَاطِ الْخَيْلِ، فَلَمْ يَخُصَّ عَرَبِيًّا دُونَ هَجِينٍ، وَأَذِنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي لُحُومِ الْخَيْلِ، وَكَانَ ذَلِكَ عَلَى الْهَجِينِ وَالْعَرَبِيِّ، وَقَالَ:" تَجَاوَزْنَا لَكُمْ عَنْ صَدَقَةِ الْخَيْلِ وَالرَّقِيقِ"، وَقَالَ:" لَيْسَ عَلَى الْمُسْلِمِ فِي فَرَسِهِ، وَلَا فِي غُلَامِهِ، صَدَقَةٌ" فَجَعَلَ الْفَرَسَ مِنَ الْخَيْلِ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ ذُكِرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ فَضَّلَ الْعَرَبِيَّ عَلَى الْهَجِينِ، وَأَنَّ عُمَرَ فَعَلَ ذَلِكَ ⦗533⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَمْ يَرْوِ ذَلِكَ إِلَّا مَكْحُولٌ مُرْسَلًا، وَالْمُرْسَلُ لَا تَقُومُ بِمِثْلِهِ عِنْدَنَا حُجَّةٌ، وَكَذَلِكَ حَدِيثُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ عَنْ كُلْثُومِ بْنِ الْأَقْمَرِ مُرْسَلٌ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: أنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ مَكْحُولٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَّبَ الْعَرَبِيَّ، وَهَجَّنَ الْهَجِينَ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے (اپنے) قدیم (قول) میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ وہ اپنے دشمن کے مقابلے کے لیے جتنی طاقت ہو سکے اور بندھے ہوئے گھوڑے تیار رکھیں، تو اللہ تعالیٰ نے عربی (خالص النسل) گھوڑے کو دوغلے گھوڑے کے مقابلے میں خاص نہیں کیا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھوڑوں کے گوشت (کھانے) کی اجازت دی اور یہ (اجازت) دوغلے اور عربی (دونوں) کو شامل تھی، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم نے تمہارے لیے گھوڑوں اور غلاموں کی زکاۃ معاف کر دی ہے۔“ اور فرمایا: ”مسلمان پر اس کے گھوڑے اور اس کے غلام میں کوئی زکاۃ نہیں ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرس (ایک گھوڑے) کو خیل (گھوڑوں کی جنس) ہی میں سے شمار کیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غنیمت میں) عربی گھوڑے کو دوغلے پر فضیلت دی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا کیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اسے صرف مکحول نے مرسل روایت کیا ہے، اور ہمارے نزدیک اس جیسی مرسل روایت سے حجت قائم نہیں ہوتی، اور اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی کلثوم بن اقمر سے مرسل ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں حماد بن خالد نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے ابو بشر سے اور انہوں نے مکحول سے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی گھوڑے کو عربی قرار دیا اور دوغلے کو دوغلا قرار دیا (یعنی دونوں کے حصے میں فرق کیا)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: Q12882]
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (غنیمت میں) عربی گھوڑے کو دوغلے پر فضیلت دی، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایسا کیا۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اور اسے صرف مکحول نے مرسل روایت کیا ہے، اور ہمارے نزدیک اس جیسی مرسل روایت سے حجت قائم نہیں ہوتی، اور اسی طرح سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی کلثوم بن اقمر سے مرسل ہے۔“
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہمیں حماد بن خالد نے معاویہ بن صالح سے، انہوں نے ابو بشر سے اور انہوں نے مکحول سے خبر دی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی گھوڑے کو عربی قرار دیا اور دوغلے کو دوغلا قرار دیا (یعنی دونوں کے حصے میں فرق کیا)۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: Q12882]
حدیث نمبر: 12882
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا أَبُو عَقِيلٍ أَنَسُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا أَسَدُ بْنُ الْحَارِثِ الْحَرَّانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَوْمَ خَيْبَرَ:" عَرِّبُوا الْعَرَبِيَّ، وَهَجِّنُوا الْهَجِينَ" هَذَا هُوَ الْمَحْفُوظُ مُرْسَلٌ، وَقَدْ رَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِيُّ، سَكَنَ حِمْصَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ خَالِدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جَارِيَةَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ مَسْلَمَةَ مَوْصُولًا.
مکحول رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے دن فرمایا: ”عربی النسل گھوڑے کو عربی شمار کرو اور دوغلی نسل کے گھوڑے کو دوغلا شمار کرو۔“
یہی (روایت) محفوظ ہے اور یہ مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12882]
یہی (روایت) محفوظ ہے اور یہ مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12882]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12883
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو سَعْدٍ، أنا أَبُو أَحْمَدَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ يُونُسَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجُرْجَانِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، فَذَكَرَهُ. وَزَادَ فِي مَتْنِهِ:" لِلْفَرَسِ سَهْمَانِ، وَلِلْهَجِينِ سَهْمٌ" قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: هَذَا لَا يُوَصِّلُهُ غَيْرُ أَحْمَدَ، وَأَحَادِيثُهُ لَيْسَتْ بِمُسْتَقِيمَةٍ كَأَنَّهُ يَغْلَطُ فِيهَا.
”گھوڑے کے لیے دو حصے ہیں اور دوغلی نسل کے گھوڑے کے لیے ایک حصہ ہے۔“
ابو احمد (ابن عدی) نے کہا: اسے احمد (جرجانی) کے سوا کوئی موصول بیان نہیں کرتا، اور اس کی احادیث درست نہیں ہیں، گویا وہ ان میں غلطی کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12883]
ابو احمد (ابن عدی) نے کہا: اسے احمد (جرجانی) کے سوا کوئی موصول بیان نہیں کرتا، اور اس کی احادیث درست نہیں ہیں، گویا وہ ان میں غلطی کرتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12883]
حدیث نمبر: 12884
وَرَوَى أَبُو دَاوُدَ فِي الْمَرَاسِيلِ، عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الشُّعَيْثِيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ:" أَسْهَمَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعِرَابِ سَهْمَيْنِ، وَلِلْهَجِينِ سَهْمًا" أَخْبَرَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو الْحُسَيْنِ الْفَسَوِيُّ، ثنا أَبُو عَلِيٍّ اللُّؤْلُؤِيُّ، ثنا أَبُو دَاوُدَ فَذَكَرَهُ. وَهُوَ مُنْقَطِعٌ لَا تَقُومُ بِهِ حُجَّةٌ.
خالد بن معدان رحمہ اللہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حصے مقرر کیے، عربی گھوڑوں کے لیے دو حصے اور دوغلی نسل کے لیے ایک حصہ۔“
یہ روایت منقطع ہے، اس سے حجت قائم نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12884]
یہ روایت منقطع ہے، اس سے حجت قائم نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12884]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 12885
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ الْأَقْمَرِ قَالَ: أَغَارَتِ الْخَيْلُ بِالشَّامِ، فَأَدْرَكَتِ الْخَيْلُ مِنْ يَوْمِهَا، وَأَدْرَكَتِ الْكَوَادِنُ ضُحًى، وَعَلَى الْخَيْلِ الْمُنْذِرُ بْنُ أَبِي حِمَّصَةَ الْهَمْدَانِيُّ، فَفَضَّلَ الْخَيْلَ عَلَى الْكَوَادِنِ وَقَالَ: لَا أَجْعَلُ مَا أَدْرَكَ كَمَا لَمْ يُدْرِكْ. فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" هَبِلَتِ الْوَادِعِيَّ أُمُّهُ؛ لَقَدْ أَذْكَرَتْ بِهِ، أَمْضُوهَا عَلَى مَا قَالَ" ⦗٥٣٤⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَلَوْ كُنَّا نُثْبِتُ مِثْلَ هَذَا مَا خَالَفْنَاهُ، وَقَالَ فِي الْقَدِيمِ: هَذَانِ خَبَرَانِ مُرْسَلَانِ، لَيْسَ وَاحِدٌ مِنْهُمَا شَهِدَ مَا حَدَّثَ بِهِ.
ابن الاقمر سے روایت ہے کہ گھڑ سواروں نے شام میں حملہ کیا، (عربی) گھوڑے اسی دن (دشمن تک) پہنچ گئے اور کوادن (بوجھل غیر عربی گھوڑے) چاشت کے وقت پہنچے، گھڑ سواروں کے قائد منذر بن ابی حمصہ ہمدانی تھے۔ انہوں نے (عربی) گھوڑوں کو کوادن پر فضیلت دی اور کہا: جو (وقت پر) پہنچ گیا میں اسے اس کی طرح قرار نہیں دوں گا جو نہیں پہنچا۔ یہ بات سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پہنچی تو انہوں نے کہا: ”وادعی کو اس کی ماں گم پائے! اس نے یقیناً جواں مرد جنا ہے، اسے اسی طرح نافذ کرو جیسے اس نے کہا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 12885]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف