السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2695. -- باب: ما يكون للوالي الأعظم ووالي الإقليم من مال الله، وما جاء في رزق القضاة وأجر سائر الولاة
-- باب: خلیفہ اعظم اور صوبائی گورنر کے لیے اللہ کے مال (بیت المال) میں سے کیا جائز ہے، اور قاضیوں کی تنخواہ اور دیگر حاکموں کے معاوضے کے متعلق جو مروی ہے
حدیث نمبر: 13006
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، قَالَا: أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: لَمَّا اسْتُخْلِفَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَقَدْ عَلِمَ قَوْمِي أَنَّ حِرْفَتِي لَمْ تَكُنْ تَعْجِزُ عَنْ مُؤْنَةِ أَهْلِي، وَقَدْ شُغِلْتُ بِأَمْرِ الْمُسْلِمِينَ، فَسَيَأْكُلُ آلُ أَبِي بَكْرٍ مِنْ هَذَا الْمَالِ، وَأَحْتَرِفُ لِلْمُسْلِمِينَ فِيهِ".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے کہا: میری قوم جانتی ہے کہ میرا کاروبار میرے گھر والوں کی گزر بسر کے لیے کافی ہے اور اب میں مسلمانوں کا والی بنا دیا گیا ہوں، پس اب آلِ ابوبکر بھی اسی سے کھائیں گے اور ابوبکر مسلمانوں کا مالِ تجارت بڑھاتا رہے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13006]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2070»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13007
قَالَ ابْنُ شِهَابٍ: وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ، عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: لَمَّا اسْتُخْلِفَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَكَلَ هُوَ وَأَهْلُهُ وَاحْتَرَفَ فِي مَالِ نَفْسِهِ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي أُوَيْسٍ عَنِ ابْنِ وَهْبٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنائے گئے، وہ اور ان کے گھر والے کھاتے تھے اور وہ اپنے مال میں کاروبار کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13007]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13008
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حِينَ حُضِرَ:" انْظُرِي كُلَّ شَيْءٍ زَادَ فِي مَالِي مُنْذُ دَخَلْتُ فِي هَذِهِ الْإِمَارَةِ فَرُدِّيهِ إِلَى الْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِي"، قَالَتْ: فَلَمَّا مَاتَ نَظَرْنَا فَمَا وَجَدْنَا زَادَ فِي مَالِهِ إِلَّا نَاضِحًا كَانَ يَسْقِي بُسْتَانًا لَهُ، وَغُلَامًا نُوبِيًّا كَانَ يَحْمِلُ صَبِيًّا لَهُ، قَالَتْ: فَأَرْسَلْتُ بِهِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، قَالَتْ: فَأُخْبِرْتُ أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَكَى وَقَالَ:" رَحِمَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ لَقَدْ أَتْعَبَ مَنْ بَعْدَهُ تَعَبًا شَدِيدًا".
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے وفات کے وقت کہا: میرے مال میں خلافت کے دوران ہر چیز کی زیادتی دیکھو، پس میرے بعد خلیفہ تک لوٹا دینا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: جب وہ فوت ہو گئے، ہم نے دیکھا ان کے مال میں صرف ایک اونٹنی زائد پائی، جس سے باغ کو پانی دیتے تھے اور غلام جو بچوں کو اٹھاتا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی طرف بھیجا۔ کہتی ہیں: مجھے خبر دی گئی ہے کہ وہ رونے لگے اور کہا: اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنے بعد بڑی سختی کی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13008]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13009
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ طَاهِرِ بْنِ يَحْيَى، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ الْفَرَّاءُ، ثنا أَبِي، ثنا الْمُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ خَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ أَكْيَسَ الْكَيْسِ التَّقْوَى، وَأَحْمَقَ الْحُمْقِ الْفُجُورُ، أَلَا وَإِنَّ الصِّدْقَ عِنْدِي الْأَمَانَةُ، وَالْكَذِبَ الْخِيَانَةُ، أَلَا وَإِنَّ الْقَوِيَّ عِنْدِي ضَعِيفٌ حَتَّى آخُذَ مِنْهُ الْحَقَّ، وَالضَّعِيفَ عِنْدِي قَوِيٌّ حَتَّى آخُذَ لَهُ الْحَقَّ، أَلَا وَإِنِّي قَدْ وُلِّيتُ عَلَيْكُمْ وَلَسْتُ بِأَخْيَرِكُمْ" قَالَ الْحَسَنُ: هُوَ وَاللهِ خَيْرُهُمْ غَيْرُ مُدَافَعٍ، وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ يَهْضِمُ نَفْسَهُ. ثُمَّ قَالَ:" وَلَوَدِدْتُ أَنَّهُ كَفَانِي هَذَا الْأَمْرَ أَحَدُكُمْ" - قَالَ الْحَسَنُ: صَدَقَ ⦗٥٧٥⦘ وَاللهِ - وَإِنْ أَنْتُمْ أَرَدْتُمُونِي عَلَى مَا كَانَ اللهُ يُقِيمُ نَبِيَّهُ مِنَ الْوَحْيِ مَا ذَلِكَ عِنْدِي، إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَرَاعُونِي. فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَى السُّوقِ فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَيْنَ تُرِيدُ؟" قَالَ: السُّوقَ. قَالَ:" قَدْ جَاءَكَ مَا يَشْغَلُكَ عَنِ السُّوقِ"، قَالَ: سُبْحَانَ اللهِ يَشْغَلُنِي عَنْ عِيَالِي. قَالَ: تُعْرِضُ بِالْمَعْرُوفِ، قَالَ:" وَيْحَ عُمَرَ إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا يَسَعُنِي أَنْ آكُلَ مِنْ هَذَا الْمَالِ شَيْئًا" قَالَ: فَأَنْفِقْ فِي سَنَتَيْنِ وَبَعْضِ أُخْرَى ثَمَانِيَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ. فَلَمَّا حَضَرَهُ الْمَوْتُ قَالَ: قَدْ كُنْتُ قُلْتُ لِعُمَرَ: إِنِّي أَخَافُ أَنْ لَا يَسَعَنِي أَنْ آكُلَ مِنْ هَذَا الْمَالِ شَيْئًا، فَغَلَبَنِي فَإِذَا أَنَا مِتُّ فَخُذُوا مِنْ مَالِي ثَمَانِيَةَ آلَافِ دِرْهَمٍ وَرُدُّوهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ. قَالَ: فَلَمَّا أُتِيَ بِهَا عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" رَحِمَ اللهُ أَبَا بَكْرٍ، لَقَدْ أَتْعَبَ مَنْ بَعْدَهُ تَعَبًا شَدِيدًا".
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر کہا: عقلمندی تقویٰ ہے اور حماقت برائی ہے اور صدق میرے نزدیک امانت ہے اور جھوٹ میرے نزدیک خیانت ہے، خبردار! قوی میرے نزدیک ضعیف ہے، یہاں تک کہ اس سے حق لے لوں اور کمزور میرے نزدیک قوی ہے، یہاں تک کہ اس کا حق لے لوں۔ خبردار! میں تمہارا والی بنا ہوں اور میں تم میں بہتر نہیں ہوں۔ حسن رحمہ اللہ نے کہا: اللہ کی قسم! وہ ان میں بہتر تھے، لیکن مومن اپنے آپ کو کم تر سمجھتا ہے، پھر (ابوبکر رضی اللہ عنہ نے) کہا: میں پسند کرتا ہوں کہ تم میں سے کوئی مجھے اس عہدے پر کافی ہو جائے۔ حسن رحمہ اللہ نے کہا: اس نے سچ کہا، اللہ کی قسم! (پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا:) اور اگر تم مجھ سے اس چیز کی توقع رکھو جس کے ذریعے اللہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی سے سیدھا رکھتا تھا تو وہ میرے پاس نہیں ہے، میں تو صرف ایک انسان ہوں، پس میرا خیال رکھنا۔ جب صبح ہوئی تو وہ بازار کی طرف گئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: تم کہاں کا ارادہ رکھتے ہو؟ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: بازار کا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تحقیق آپ کے پاس ایسا معاملہ آگیا ہے جس نے آپ کو بازار سے مشغول کر دیا ہے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”اللہ پاک ہے“، کیا یہ مجھے میرے گھر والوں (کی کفالت) سے بھی مشغول کر دے گا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: معروف طریقے سے مال لے لو۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر! میں ڈرتا ہوں کہ میرے لیے اس بیت المال سے کچھ کھانا جائز نہ ہو۔ (راوی نے) کہا: انہوں نے دو سال اور چند مہینوں میں آٹھ ہزار درہم خرچ کیے۔ جب موت آئی تو کہا: میں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا تھا کہ میں ڈرتا ہوں کہ میرے لیے بیت المال سے کچھ کھانا جائز نہ ہو، پس وہ مجھ پر غلبہ پا گئے۔ پس جب میں فوت ہوں تو میرے مال سے آٹھ ہزار درہم لے لینا اور بیت المال میں لوٹا دینا۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس وہ درہم لائے گئے تو انہوں نے کہا: اللہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ پر رحم کرے، انہوں نے اپنے بعد والوں کے لیے شدید مشکل چھوڑی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13009]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13010
أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ خَمِيرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا أَيُّوبُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كُنَّا بِبَابِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَنْظُرُ أَنْ يُؤْذَنَ لَنَا، فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ، فَقُلْنَا: سُرِّيَّةُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، فَسَمِعَتْ فَقَالَتْ: مَا أَنَا بِسُرِّيَّةِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ، وَمَا أَحِلُّ لَهُ، إِنِّي لَمِنْ مَالِ اللهِ تَعَالَى، قَالَ: فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ فَأَخْبَرَنَاهُ بِمَا قُلْنَا، وَبِمَا قَالَتْ، فَقَالَ:" صَدَقَتْ، مَا تَحِلُّ لِي، وَمَا هِيَ لِي بِسُرِّيَّةٍ، وإِنَّهَا لَمِنْ مَالِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَسَأُخْبِرُكُمْ بِمَا أَسْتَحِلُّ مِنْ هَذَا الْمَالِ، أَسْتَحِلُّ مِنْهُ حُلَّتَيْنِ: حُلَّةً لِلشِّتَاءِ، وَحُلَّةً لِلصَّيْفِ، وَمَا يَسَعُنِي لِحَجِّي وَعُمْرَتِي وَقُوتِي وَقُوتِ أَهْلِ بَيْتِي، وَسَهْمِي مَعَ الْمُسْلِمِينَ كَسَهْمِ رَجُلٍ، لَسْتُ بِأَرْفَعِهِمْ وَلَا أَوْضَعِهِمْ".
احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے دروازے پر تھے کہ آپ ہمیں اجازت دیں، ایک لونڈی آئی، ہم نے کہا: امیر المومنین کی لونڈی ہو؟ اس نے سنا تو کہا: میں امیر المومنین کی لونڈی نہیں ہوں اور میں آپ کے لیے حلال نہیں ہوں، بے شک میں اللہ کے مال میں سے ہوں۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے اس کا ذکر کیا گیا۔ انہوں نے کہا: اس نے سچ کہا، وہ میرے لیے حلال نہیں ہے اور نہ وہ میری لونڈی ہے اور وہ اللہ کے مال میں سے ہے اور میں تم کو خبر دیتا ہوں میرے لیے اس میں سے کیا حلال ہے۔ میں نے اس سے اپنے لیے دو چادریں حلال کی ہیں؛ ایک گرمی کی اور ایک سردی کی اور میرے حج، عمرہ، میرے کھانے اور گھر والوں کا کھانا اور میرا حصہ مسلمانوں کے ساتھ ان جیسے ایک آدمی کی طرح ہے، میں ان میں بلند و بالا نہیں ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13010]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13011
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنا أَبُو مَنْصُورٍ الْعَبَّاسُ بْنُ الْفَضْلِ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْيَرْفَأِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" إِنِّي أَنْزَلْتُ نَفْسِي مِنْ مَالِ اللهِ بِمَنْزِلَةِ وَالِي الْيَتِيمِ، إِنِ احْتَجْتُ أَخَذْتُ مِنْهُ، فَإِذَا أَيْسَرْتُ رَدَدْتُهُ، وَإِنِ اسْتَغْنَيْتُ اسْتَعْفَفْتُ".
یرفاء غلام کہتے ہیں: مجھے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں نے اپنے آپ کو بیت المال میں ایسے رکھا ہے جیسے یتیم کا والی ہوتا ہے، اگر مجھے ضرورت ہوتی ہے تو اس سے لے لیتا ہوں۔ جب میں آسانی میں ہوتا ہوں تو لوٹا دیتا ہوں اور اگر میں اس سے بے پروا ہوں تو اس سے بچ جاتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13011]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13012
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ النَّرْسِيُّ، ثنا رَوْحٌ، ثنا ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ اللَّاحِقِ بْنِ حُمَيْدٍ قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ، وَعَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ، وَعُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ إِلَى الْكُوفَةِ، بَعَثَ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ عَلَى الصَّلَاةِ وَعَلَى الْجُيُوشِ، وَبَعَثَ ابْنَ مَسْعُودٍ عَلى الْقَضَاءِ وَعَلَى بَيْتِ الْمَالِ، وَبَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ عَلَى مِسَاحَةِ الْأَرْضِ، جَعَلَ بَيْنَهُمْ كُلَّ يَوْمٍ شَاةً، شَطْرُهَا وَسَوَاقِطُهَا لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، وَالنِّصْفُ بَيْنَ هَذَيْنِ. قَالَ سَعِيدٌ: وَلَا ⦗٥٧٦⦘ أَحْفَظُ الطَّعَامَ، قَالَ:" نَزَلْتُكُمْ وَإِيَّايَ مِنْ هَذَا الْمَالِ بِمَنْزِلَةِ وَالِي مَالِ الْيَتِيمِ، مَنْ كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ، وَمَنْ كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ، وَمَا أَرَى قَرْيَةً يُؤْخَذُ مِنْهَا كُلَّ يَوْمٍ شَاةً إِلَّا كَانَ ذَلِكَ سَرِيعًا فِي خَرَابِهَا".
لاحق بن حمید فرماتے ہیں: جب عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عمار بن یاسر، عبداللہ بن مسعود اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہم کو کوفہ بھیجا تو عمار کو نماز اور لشکر پر امیر مقرر کیا اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو قضاء اور بیت المال کا نگران بنایا اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو زمین پر نگران بنایا۔ ان کے لیے ہر روز ایک بکری کا نصف مقرر کیا، عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے لیے اور نصف ان دونوں کے درمیان۔ سعید نے کہا: میں نے کھانا یاد نہیں رکھا۔ پھر کہا: میں نے بیت المال سے اس درجہ پر رکھا ہے، جس پر یتیم کا والی ہوتا ہے: ﴿وَمَن كَانَ غَنِيًّا فَلْيَسْتَعْفِفْ ۖ وَمَن كَانَ فَقِيرًا فَلْيَأْكُلْ بِالْمَعْرُوفِ﴾ [سورة النساء: 6] اور میں خیال نہیں کرتا کہ کسی بستی سے ہر روز ایک بکری لی جائے مگر یہ بہت جلد اسے خراب کر دے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13012]
حدیث نمبر: 13013
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا عَامِرُ بْنُ شَقِيقٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ:" اسْتَعْمَلَنِي ابْنُ زِيَادٍ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ، فَأَتَانِي رَجُلٌ مِنْهُ بَصَكٍّ فِيهِ: أَعْطِ صَاحِبَ الْمَطْبَخِ ثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَقُلْتُ لَهُ: مَكَانَكَ، وَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ زِيَادٍ فَحَدَّثْتُهُ فَقُلْتُ: إِنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اسْتَعْمَلَ عَبْدَ اللهِ بْنَ مَسْعُودٍ عَلَى الْقَضَاءِ وَبَيْتِ الْمَالِ، وَعُثْمَانَ بْنَ حُنَيْفٍ عَلَى مَا يَسْقِي الْفُرَاتُ، وَعَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ عَلَى الصَّلَاةِ وَالْجُنْدِ، وَرَزَقَهُمْ كُلَّ يَوْمٍ شَاةً، فَجَعَلَ نِصْفَهَا وَسَقَطَهَا وَأَكَارِعَهَا لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ؛ لِأَنَّهُ كَانَ عَلَى الصَّلَاةِ وَالْجُنْدِ، وَجَعَلَ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ رُبُعَهَا، وَجَعَلَ لِعُثْمَانَ بْنِ حُنَيْفٍ رُبُعَهَا، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ مَالًا يُؤْخَذُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ شَاةً، إِنَّ ذَلِكَ فِيهِ لَسَرِيعٌ قَالَ ابْنُ زِيَادٍ: ضَعِ الْمِفْتَاحَ وَاذْهَبْ حَيْثُ شِئْتَ".
ابووائل کہتے ہیں: مجھے ابنِ زیاد نے بیت المال پر امیر مقرر کر دیا۔ (بیت المال کی طرف سے) ایک آدمی میرے پاس ایک تحریر لے کر آیا جس میں لکھا تھا: ( «صَاحِبُ الْمَطْبَخِ» ”باورچی خانے کے نگران“) کو آٹھ سو درہم دے دو۔ میں نے اس سے کہا: اپنی جگہ ٹھہرو۔ پھر میں ابنِ زیاد کے پاس گیا اور اسے بتایا۔ پھر میں نے کہا: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو قضا اور بیت المال پر نگران بنایا اور عثمان بن حنیف رضی اللہ عنہ کو فرات سے سیراب ہونے والی زمین پر نگران مقرر کیا اور عمار بن یاسر رضی اللہ عنہما کو نماز اور لشکروں پر مقرر کیا اور ہر روز ان کو ایک بکری دی؛ اس کا نصف، اس کی اوجھڑی اور پائے عمار رضی اللہ عنہ کو، کیونکہ وہ نماز اور لشکر پر مقرر تھے، عبداللہ رضی اللہ عنہ کو اس کا چوتھائی اور عثمان رضی اللہ عنہ کو بھی اس کا چوتھائی دیا۔ پھر کہا: جس مال سے ہر روز ایک بکری لی جائے، وہ جلد ہی ختم ہو جائے گا۔ ابنِ زیاد نے کہا: چابی رکھ دو اور جہاں مرضی جاؤ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13013]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13014
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا لَيْثٌ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَشَجِّ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ ابْنِ السَّاعِدِيِّ قَالَ: اسْتَعْمَلَنِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى الصَّدَقَةِ، فَلَمَّا فَرَغْتُ أَمَرَ لِي بِعُمَالَةٍ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا عَمِلْتُ لِلَّهِ، قَالَ:" خُذْ مَا أُعْطِيتَ؛ فَإِنِّي قَدْ عَمِلْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَمَّلَنِي" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ قُتَيْبَةَ بْنِ اللَّيْثِ، وَقَالَ: عَنِ ابْنِ السَّعْدِيِّ.
ابن ساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مجھے صدقہ پر عامل بنایا، جب میں اپنے کام سے فارغ ہوا تو انہوں نے میرے لیے اجرت کا حکم دیا، میں نے کہا: میں نے تو اللہ کے لیے کام کیا تھا۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو تجھے دیا جا رہا ہے وہ لے لے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کام کیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اس کی اجرت دی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13014]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13015
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَرَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَكَّانِيُّ، ثنا أَبُو الْيَمَانِ، أَخْبَرَنِي شُعَيْبٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، أَخْبَرَنِي السَّائِبُ بْنُ يَزِيدَ، أَنَّ حُوَيْطِبَ بْنَ عَبْدِ الْعُزَّى أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ السَّعْدِيِّ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: أَلَمْ أُحَدَّثْ أَنَّكَ تَلِي مِنْ أَعْمَالِ النَّاسِ أَعْمَالًا، فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعُمَالَةَ كَرِهْتَهَا؟ قَالَ: فَقُلْتُ: بَلَى، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَمَا تُرِيدُ إِلَى ذَلِكَ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: إِنَّ لِي أَفْرَاسًا وَأَعْبُدًا وَأَنَا بِالْخَيْرِ، وَأُرِيدُ أَنْ تَكُونَ عُمَالَتِي صَدَقَةً عَلَى الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: فَلَا تَفْعَلْ؛ فَإِنِّي قَدْ كُنْتُ أَرَدْتُ ذَلِكَ، وَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْطِينِي الْعَطَاءَ فَأَقُولُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، حَتَّى أَعْطَانِي مَرَّةً ⦗٥٧٧⦘ مَالًا، فَقُلْتُ: أَعْطِهِ أَفْقَرَ إِلَيْهِ مِنِّي، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْهُ فَتَمَوَّلْهُ أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ، وَمَا جَاءَكَ مِنْ هَذَا الْمَالِ وَأَنْتَ غَيْرُ مُشْرِفٍ وَلَا سَائِلٍ فَخُذْهُ، وَمَا لَا فَلَا تُتْبِعْهُ نَفْسَكَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي الْيَمَانِ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ.
سیدنا عبداللہ بن سعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ان کی خلافت میں آئے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: ”کیا مجھے یہ نہیں بتایا گیا کہ تم لوگوں کے کچھ کاموں کے والی بنتے ہو، پھر جب تمہیں اجرت دی جاتی ہے تو تم اسے ناپسند کرتے ہو؟“ میں نے کہا: ”کیوں نہیں۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اس سے تمہارا کیا ارادہ ہے؟“ میں نے کہا: ”میرے پاس گھوڑے ہیں، غلام ہیں اور میں اچھی حالت میں ہوں اور میں چاہتا ہوں کہ میری اجرت مسلمانوں پر صدقہ ہو۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”ایسا نہ کرو، میں نے بھی یہ ارادہ کیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے عطیہ دیتے تو میں عرض کرتا: اسے دے دیجیے جو مجھ سے زیادہ اس کا محتاج ہو۔ حتیٰ کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مال دیا تو میں نے عرض کیا: اسے دے دیجیے جو مجھ سے زیادہ اس کا محتاج ہو۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’اسے لے لو اور اپنے مال میں شامل کر لو یا اسے صدقہ کر دو، اور اس مال میں سے جو تمہارے پاس اس طرح آئے کہ نہ تمہیں اس کی لالچ ہو اور نہ تم نے اس کا سوال کیا ہو تو اسے لے لو، اور جو اس طرح نہ آئے تو اپنے نفس کو اس کے پیچھے نہ لگاؤ۔‘“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13015]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 7164»
الحكم على الحديث: صحيح