السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2696. -- باب: الاختيار في التعجيل بقسمة مال الفيء إذا اجتمع
-- باب: مالِ فے جمع ہو جانے پر اس کی تقسیم میں جلدی کرنے کو ترجیح دینے کا بیان
حدیث نمبر: 13026
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا ابْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ الْفَيْءُ يَقْسِمُهُ مَنْ يَوْمِهِ".
سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب مالِ فئی آتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی دن تقسیم کر دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13026]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 2356»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13027
قَالَ: وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ: ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا ابْنُ الْمُصَفَّى، ثنا أَبُو الْمُغِيرَةِ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَمْرٍو، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ. زَادَ فِيهِ: فَأَعْطَى الْعَزَبَ حَظًّا، وَأَعْطَى الْآهِلَ حَظَّيْنِ، فَدَعَانِي فَأَعْطَانِي حَظَّيْنِ، وَكَانَ لِي أَهْلٌ، ثُمَّ دَعَا عَمَّارًا فَأَعْطَاهُ حَظًّا وَاحِدًا.
صفوان بن عمرو سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیلے کو ایک حصہ دیا اور اہل والے کو دو حصے دیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا، مجھے دو حصے دیے اور میرے گھر والے بھی تھے، پھر عمار رضی اللہ عنہ کو بلایا، اسے ایک حصہ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13027]
تخریج الحدیث: «حسن۔ ابوداود 2953»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13028
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الشَّعِيرِيُّ، ثنا مَحْمَشُ بْنُ عِصَامٍ، أنبأ حَفْصُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ مِنَ الْبَحْرَيْنِ، فَقَالَ:" انْثُرُوهُ فِي الْمَسْجِدِ"، قَالَ: وَكَانَ أَكْثَرَ مَالٍ أُتِيَ بِهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ وَلَمْ يَلْتَفِتْ إِلَيْهِ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلَاةَ جَاءَ فَجَلَسَ إِلَيْهِ، فَمَا كَانَ يَرَى أَحَدًا إِلَّا أَعْطَاهُ، إِذْ جَاءَهُ الْعَبَّاسُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعْطِنِي؛ فَإِنِّي فَادَيْتُ نَفْسِي وَفَادَيْتُ عَقِيلًا، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خُذْ"، فَحَثَا فِي ثَوْبِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ يُقِلُّهُ فَلَمْ يَسْتَطِعْ، فَقَالَ: مُرْ بَعْضَهُمْ يَرْفَعْهُ إِلِيَّ، قَالَ:" لَا"، قَالَ: فَارْفَعْهُ أَنْتَ عَلَيَّ، قَالَ:" لَا"، فَنَثَرَ مِنْهُ ثُمَّ احْتَمَلَهُ فَأَلْقَاهُ عَلَى كَاهِلِهِ، ثُمَّ انْطَلَقَ، ⦗٥٨٠⦘ قَالَ: فَمَا زَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتْبِعُهُ بَصَرَهُ حَتَّى خَفِيَ عَلَيْهِ عَجَبًا مِنْ حِرْصِهِ، فَمَا قَامَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَمَّ مِنْهَا دِرْهَمٌ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ فَقَالَ: وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بحرین سے مال لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مسجد میں پھیلا دو“ اور یہ سب سے زیادہ مال تھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے نکلے اور آپ نے اس کی طرف توجہ نہ کی، جب نماز پوری کر لی تو آ کر اس کے پاس بیٹھ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی کو نہ دیکھتے مگر اسے دے دیتے تھے۔ جب سیدنا عباس رضی اللہ عنہ آئے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے بھی دیں، میں نے اپنا اور عقیل کا فدیہ دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ لے لو“، انہوں نے اپنے کپڑے میں لپ بھر بھر کر ڈالا، پھر اٹھانا چاہا لیکن نہ اٹھا سکے تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ کسی کو حکم دیجیے وہ اٹھوانے میں میری مدد کرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: تو آپ خود ہی اٹھوا دیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں (میں بھی نہیں اٹھواؤں گا)“ پھر انہوں نے اس میں سے کچھ سامان نکال دیا، پھر اس کو اٹھا کر اپنی کمر پر ڈال لیا اور چلے گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل انہیں اپنی نگاہ کے تعاقب میں دیکھتے رہے، یہاں تک کہ وہ چھپ گئے (نظر نہیں آرہے تھے) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی حرص سے تعجب کر رہے تھے، جب تک وہاں ایک درہم بھی باقی تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں رہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13028]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13029
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو سَلَمَةَ مَنْصُورٌ، ثنا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، ثنا مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا يَوْمًا وَعُرْوَةُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَقَالَتْ: لَوْ رَأَيْتُمَا نَبِيَّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرْضَةٍ مَرَضَهَا، وَكَانَتْ لَهُ عِنْدِي سِتَّةُ دَنَانِيرَ، قَالَ مُوسَى بْنُ جُبَيْرٍ: أَوْ سَبْعَةٌ، فَأَمَرَنِي نَبِيُّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُفَرِّقَهَا، فَشَغَلَنِي وَجَعُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى عَافَاهُ اللهُ، ثُمَّ سَأَلَنِي عَنْهَا فَقَالَ:" أَكُنْتِ فَرَّقْتِ السِّتَّةَ أَوِ السَّبْعَةَ؟" قَالَتْ: لَا وَاللهِ، شَغَلَنِي وَجَعُكَ، قَالَتْ: فَدَعَا بِهَا، ثُمَّ فَرَّقَهَا فَقَالَ:" مَا ظَنُّ نَبِيِّ اللهِ لَوْ لَقِيَ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهِيَ عِنْدَهُ".
ابو امامہ کہتے ہیں کہ میں اور عروہ ایک دن عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ انہوں نے کہا: اگر تم دونوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مرض میں دیکھ لیتے۔ اس وقت میرے پاس چھ دینار تھے۔ موسیٰ بن جبیر کہتے ہیں: یا سات کہا۔ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ ان کو تقسیم کر دوں، پس مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری نے مشغول کر دیا یہاں تک کہ اللہ نے آپ کو آرام دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ان کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تو نے چھ یا سات دینار تقسیم کر دیے ہیں؟“ میں نے کہا: نہیں، مجھے آپ کی بیماری نے مشغول کر دیا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ منگوائے، پھر ان کو تقسیم کر دیا اور فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا گمان ہے کہ وہ اللہ سے ملیں اور ان کے پاس وہ ہوں؟“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13029]
تخریج الحدیث: «حسن۔ احمد 24212»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13030
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ السَّقَّاءِ، أنا أَبُو الْحَسَنِ الطَّرَائِفِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ سَاهِمُ الْوَجْهِ، قَالَتْ: فَحَسِبْتُ ذَلِكَ مِنْ وَجَعٍ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ سَاهِمَ الْوَجْهِ؟ فَقَالَ:" مِنْ أَجْلِ الدَّنَانِيرِ السَّبْعَةِ الَّتِي أَتَتْنَا أَمْسِ وَلَمْ نَقْسِمْهَا"، وَهِيَ فِي خَصْمِ الْفِرَاشِ.
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ اترا ہوا تھا۔ میں نے خیال کیا کہ بیماری کی وجہ سے ایسے ہے۔ میں نے کہا: آپ کے چہرے کا رنگ کیوں بدلا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان سات دیناروں کی وجہ سے جو کل آئے تھے اور ہم نے ان کو تقسیم نہیں کیا اور وہ بستر میں پڑے ہوئے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13030]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13031
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، ح قَالَ: وَأنا أَبُو سَعِيدٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ: أَبُو عُبَيْدٍ، حَدَّثَنِي حَجَّاجٌ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ:" كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يُبَيِّتُ مَالًا، وَلَا يُقِيلُهُ" قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: إِنْ جَاءَهُ غُدْوَةً لَمْ يَنْتَصِفِ النَّهَارُ حَتَّى يَقْسِمَهُ، وَإِنْ جَاءَهُ عَشِيَّةً لَمْ يَبِتْ حَتَّى يَقْسِمَهُ هَذَا مُرْسَلٌ.
حسن بن محمد کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم مال کے ساتھ نہ رات گزارتے تھے اور نہ قیلولہ کرتے تھے۔ ابوعبید کہتے ہیں: اگر صبح کے وقت مال آتا دوپہر سے پہلے اسے تقسیم کر دیتے، اگر شام کے وقت آتا تو رات ہونے سے پہلے اسے تقسیم کر دیتے۔
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13031]
یہ روایت مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13031]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13032
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا الْحُرُّ بْنُ مَالِكٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا مَالِكُ بْنُ مِغْوَلٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِعَبْدِ اللهِ بْنِ الْأَرْقَمِ:" اقْسِمْ بَيْتَ مَالِ الْمُسْلِمِينَ فِي كُلِّ شَهْرٍ مَرَّةً، اقْسِمْ مَالِ الْمُسْلِمِينَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً"، ثُمَّ قَالَ:" اقْسِمْ بَيْتَ الْمَالِ فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً"، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، لَوْ أَبْقَيْتَ فِي مَالِ الْمُسْلِمِينَ بَقِيَّةً تَعُدُّهَا لِنَائِبَةٍ أَوْ صَوْتٍ، يَعْنِي خَارِجَةً، قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ لِلرَّجُلِ الَّذِي كَلَّمَهُ:" جَرَى الشَّيْطَانُ عَلَى لِسَانِكِ، لَقَّنَنِي اللهُ حُجَّتَهَا وَوَقَانِي شَرَّهَا، أَعُدُّ لَهَا مَا أَعَدَّ لَهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَاعَةَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کو فرمایا کہ مسلمانوں کے بیت المال کو ہر مہینہ میں ایک مرتبہ تقسیم کرو، ہر جمعہ کو ایک دفعہ تقسیم کرو، ہر روز ایک دفعہ تقسیم کرو۔ قوم میں سے ایک آدمی نے کہا: اے امیر المومنین! اگر آپ مسلمانوں کے مال میں سے کچھ باقی رکھ لیں جسے حوادثات وغیرہ کے لیے تیار رکھا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ کہنے والے سے کہا: شیطان اس کی زبان پر چلا، اللہ نے مجھے اس کو روکنے کی تلقین کی ہے اور اس کے شر سے مجھے بچایا ہے، میں اس کے لیے وہی تیار رکھوں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار رکھا، یعنی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13032]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13033
وَفِيمَا أَجَازَ لِي أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ رِوَايَتَهُ عَنْهُ، أَنَّ أَبَا الْعَبَّاسِ مُحَمَّدَ بْنَ يَعْقُوبَ حَدَّثَهُمْ، أنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنا الشَّافِعِيُّ، أنا غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّهُ لَمَّا قَدِمَ عَلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَا أُصِيبَ مِنَ الْعِرَاقِ قَالَ لَهُ صَاحِبُ بَيْتِ الْمَالِ: أَنَا أُدْخِلُهُ بَيْتَ الْمَالِ، قَالَ:" لَا وَرَبِّ الْكَعْبَةِ، لَا يُؤْوَى تَحْتَ سَقْفِ بَيْتٍ حَتَّى أَقْسِمَهُ"، فَأَمَرَ بِهِ فَوُضِعَ فِي الْمَسْجِدِ، وَوُضِعَتْ عَلَيْهَا الْأَنْطَاعُ، وَحَرَسَهُ رِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا مَعَهُ الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، أَخَذَ بِيَدِ أَحَدِهِمَا، أَوْ أَحَدُهُمَا أَخَذَ يَدَهُ، فَلَمَّا رَأَوْهُ كَشَطُوا الْأَنْطَاعَ عَنِ الْأَمْوَالِ، فَرَأَى مَنْظَرًا لَمْ يَرَ مِثْلَهُ، رَأَى الذَّهَبَ فِيهِ وَالْيَاقُوتَ وَالزَّبَرْجَدَ وَاللُّؤْلُؤَ يَتَلَأْلَأُ، فَبَكَى، فَقَالَ لَهُ أَحَدُهُمَا: إِنَّهُ وَاللهِ مَا هُوَ بِيَوْمِ بُكَاءٍ، وَلَكِنَّهُ يَوْمُ شُكْرٍ وَسُرُورٍ، فَقَالَ:" إِنِّي وَاللهِ مَا ذَهَبْتُ حَيْثُ ذَهَبْتُ، وَلَكِنَّهُ وَاللهِ مَا كَثُرَ هَذَا فِي قَوْمٍ قَطُّ إِلَّا وَقَعَ بَأْسُهُمْ بَيْنَهُمْ". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى الْقِبْلَةِ وَرَفَعَ يَدَيْهِ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ:" اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَكُونَ مُسْتَدْرَجًا؛ فَإِنِّي أَسْمَعُكَ تَقُولُ {سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ} [الأعراف: ١٨٢] "، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ سُرَاقَةُ بْنُ جُعْشُمٍ؟" فَأُتِيَ بِهِ أَشْعَرَ الذِّرَاعَيْنِ دَقِيقَهُمَا، فَأَعْطَاهُ سِوَارَيْ كِسْرَى فَقَالَ:" الْبَسْهُمَا"، فَفَعَلَ، فَقَالَ:" قُلِ: اللهُ أَكْبَرُ"، قَالَ: اللهُ أَكْبَرُ، قَالَ:" قُلِ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي سَلَبَهُمَا مِنْ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ وَأَلْبَسَهُمَا سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ أَعْرَابِيًّا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ"، وَجَعَلَ يُقَلِّبُ بَعْضَ ذَلِكَ بَعْضًا، فَقَالَ:" إِنَّ الَّذِي أَدَّى هَذَا لَأَمِينٌ"، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَنَا أُخْبِرُكَ، أَنْتَ أَمِينُ اللهِ، وَهُمْ يُؤَدُّونَ إِلَيْكَ مَا أَدَّيْتَ إِلَى اللهِ، فَإِذَا رَتَعْتَ رَتَعُوا، قَالَ:" صَدَقْتَ"، ثُمَّ فَرَّقَهُ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَإِنَّمَا أَلْبَسَهُمَا سُرَاقَةَ؛ لِأَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِسُرَاقَةَ وَنَظَرَ إِلَى ذِرَاعَيْهِ:" كَأَنِّي بِكَ قَدْ لَبِسْتَ سُوَارَيْ كِسْرَى" قَالَ: وَلَمْ يَجْعَلْ لَهُ إِلَّا سِوَارَيْنِ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ قَالَ: أَنْفَقَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ⦗٥٨٢⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَلَى أَهْلِ الرَّمَادَةِ حَتَّى وَقَعَ مَطَرٌ، فَتَرَحَّلُوا، فَخَرَجَ إِلَيْهِمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَاكِبًا فَرَسًا، فَنَظَرَ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَتَرَحَّلُونَ بِظَعَائِنِهِمْ، فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي مُحَارِبِ بْنِ خَصْفَةَ: أَشْهَدُ أَنَّهَا انْحَسَرَتْ عَنْكَ، وَلَسْتَ بِابْنِ أَمَةٍ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَيْلَكَ ذَلِكَ لَوْ كُنْتُ أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ مَالِي أَوْ مِنْ مَالِ الْخَطَّابِ، إِنَّمَا أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ مِنْ مَالِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب عمر رضی اللہ عنہ کے پاس عراق سے مال لایا گیا تو بیت المال کے نگران نے کہا: میں اسے بیت المال میں داخل کر دوں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: رب کعبہ کی قسم! اسے بیت المال کی چھت کے نیچے پناہ نہ دی جائے گی حتیٰ کہ میں اسے تقسیم کر دوں۔ حکم دیا کہ وہ مال مسجد میں لایا جائے اور چمڑے مسجد میں رکھے گئے، مہاجرین اور انصار رضی اللہ عنہم نے ان پر پہرہ دیا۔ جب صبح ہوئی تو عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ عباس بن عبدالمطلب اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما ایک دوسرے کے ہاتھ تھامے ہوئے آئے۔ انھوں نے مال سے چمڑوں کو ہٹایا، پس بے مثال منظر دیکھا، اس میں سونا، یاقوت، جواہرات اور موتی دیکھے اور رونے لگ گئے۔ ایک نے کہا: آج رونے کی کیا وجہ ہے؟ آج تو شکر اور خوشی کا دن ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! جو میں نے سوچا ہے تو نے وہ نہیں سوچا۔ اللہ کی قسم! یہ کسی قوم میں جب بھی زیادہ ہوا تو ان کی لڑائی آپس میں ہی ہونے لگی۔ پھر قبلہ رخ ہوئے، اپنے ہاتھ آسمان کی طرف بلند کیے اور کہا: اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں کہ میں پکڑا جاؤں۔ میں تجھے سنتا ہوں تو کہتا ہے: ﴿سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ﴾ [سورة الأعراف: 182] ”ہم ان کو ایسے پکڑیں گے کہ ان کو علم بھی نہ ہوگا“، پھر کہا: سراقہ بن جعشم کہاں ہیں؟ ان کو لایا گیا، ان کو کسریٰ کے دو کنگن دیے اور کہا: انہیں پہن لو۔ پھر کہا: «اللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ کہو۔ پھر کہا: «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ کہو، جس نے ان کو کسریٰ بن ہرمز سے لیا اور سراقہ بن جعشم کو پہنایا، وہ بنی مدلج کے دیہاتی تھے۔ وہ ان کو پھیرنے لگے۔ پس کہا: جس نے یہ دیے ہیں وہ امین ہے۔ ایک آدمی نے ان سے کہا: میں تجھے خبر دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے امین ہو اور وہ آپ کو دیتے ہیں، جو تم اللہ کی طرف دیتے ہو۔ جب تو خوش حال ہوگا تو وہ بھی خوش حال ہوں گے، عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تو نے سچ کہا۔ پھر اسے تقسیم کر دیا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ نے سراقہ کو پہنائے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ سے کہا تھا اور اس کی کلائیوں کی طرف دیکھا: ”گویا کہ میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو نے کسریٰ کے کنگن پہنے ہیں“ اور ان کے لیے صرف وہی دو کنگن تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں اہل مدینہ کے ثقہ لوگوں نے خبر دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قحط والوں پر خرچ کیا، حتیٰ کہ بارش ہوئی تو وہ واپس گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی طرف گئے، ان کی طرف دیکھا کہ وہ کوچ کر رہے ہیں تو عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ بنی محارب کے ایک آدمی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ (قحط) آپ سے چھٹ گیا ہے اور آپ لونڈی کے بیٹے نہیں ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو اگر میں نے اپنے مال سے یا خطاب کے مال سے خرچ کیا ہوتا، تو میں نے تو ان پر اللہ کے مال سے خرچ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13033]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: آپ نے سراقہ کو پہنائے، اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سراقہ سے کہا تھا اور اس کی کلائیوں کی طرف دیکھا: ”گویا کہ میں تجھے دیکھ رہا ہوں کہ تو نے کسریٰ کے کنگن پہنے ہیں“ اور ان کے لیے صرف وہی دو کنگن تھے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہمیں اہل مدینہ کے ثقہ لوگوں نے خبر دی، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قحط والوں پر خرچ کیا، حتیٰ کہ بارش ہوئی تو وہ واپس گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ بھی گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی طرف گئے، ان کی طرف دیکھا کہ وہ کوچ کر رہے ہیں تو عمر رضی اللہ عنہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ بنی محارب کے ایک آدمی نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ (قحط) آپ سے چھٹ گیا ہے اور آپ لونڈی کے بیٹے نہیں ہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: تیرے لیے ہلاکت ہو اگر میں نے اپنے مال سے یا خطاب کے مال سے خرچ کیا ہوتا، تو میں نے تو ان پر اللہ کے مال سے خرچ کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13033]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13034
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، وَأَبُو الْحَسَنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، وَأَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، قَالُوا: أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَجَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِغَنَائِمَ مِنْ غَنَائِمِ الْقَادِسِيَّةِ، فَجَعَلَ يَتَصَفَّحُهَا وَيَنْظُرُ إِلَيْهَا وَهُوَ يَبْكِي، وَمَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، هَذَا يَوْمُ فَرَحٍ، وَهَذَا يَوْمُ سُرُورٍ، قَالَ: فَقَالَ:"" أَجَلْ، وَلَكِنْ لَمْ يُؤْتَ هَذَا قَوْمٌ قَطُّ إِلَّا أَوْرَثَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ"".
مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس قادسیہ کی غنیمت آئی تو اسے دیکھ کر رونے لگے، ساتھ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ تھے، انہوں نے کہا: کیوں رو رہے ہو؟ یہ دن خوشی کا دن ہے۔ کہا: ہاں، لیکن یہ کبھی بھی نہیں لایا گیا مگر دشمنی اور بغض ان میں ڈال دیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13034]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13035
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، أنا أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَ: لَمَّا أُتِيَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِكُنُوزِ كِسْرَى قَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ أَرْقَمَ الزُّهْرِيُّ: أَلَا تَجْعَلُهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ يَعْنِي، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَا نَجْعَلُهَا فِي بَيْتِ الْمَالِ حَتَّى نَقْسِمَهَا"، وَبَكَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: مَا يُبْكِيكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَوَاللهِ إِنَّ هَذَا لَيَوْمُ شُكْرٍ، وَيَوْمُ سُرُورٍ، وَيَوْمُ فَرِحٍ؟ فَقَالَ عُمَرُ:" إِنَّ هَذَا لَمْ يُعْطِهِ اللهُ قَوْمًا قَطُّ إِلَّا أَلْقَى اللهُ بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ".
ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس کسریٰ کے خزانے لائے گئے تو سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ اسے بیت المال میں رکھ دیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیت المال میں نہ رکھنا، ہم اسے تقسیم کر دیں گے، اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رونا شروع کر دیا، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کہا: اے امیر المؤمنین! کیوں رو رہے ہو؟ یہ دن تو شکر اور خوشی کا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ یہ جس قوم کو بھی دیتا ہے تو ان میں دشمنی اور بغض آ جاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13035]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح