السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2696. -- باب: الاختيار في التعجيل بقسمة مال الفيء إذا اجتمع
-- باب: مالِ فے جمع ہو جانے پر اس کی تقسیم میں جلدی کرنے کو ترجیح دینے کا بیان
حدیث نمبر: 13036
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ، أنا أَبُو سَعِيدٍ قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِي بِخَطِّ يَدِي، عَنْ أَبِي دَاوُدَ قَالَ: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا حَمَّادٌ، ثنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أُتِيَ بِفَرْوَةِ كِسْرَى فَوُضِعَتْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَفِي الْقَوْمِ سُرَاقَةُ بْنُ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ، قَالَ: فَأَلْقَى إِلَيْهِ سِوَارَيْ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ فَجَعَلَهُمَا فِي يَدِهِ، فَبَلَغَا مَنْكِبَيْهِ، فَلَمَّا رَآهُمَا فِي يَدَيْ سُرَاقَةَ قَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ، سُوَارَيْ كِسْرَى بْنِ هُرْمُزَ فِي يَدِ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكِ بْنِ جُعْشُمٍ أَعْرَابِيٍّ مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ"، ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ رَسُولَكَ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يُصِيبَ مَالًا فَيُنْفِقَهُ فِي سَبِيلِكَ وَعَلَى عِبَادِكَ، وَزَوَيْتَ ذَلِكَ عَنْهُ نَظَرًا مِنْكَ لَهُ وَخِيَارًا"، ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَ إِنِّي قَدْ عَلِمْتُ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يُصِيبَ مَالًا فَيُنْفِقَهُ فِي سَبِيلِكَ وَعَلَى عِبَادِكَ، فَزَويْتَ ذَلِكَ عَنْهُ نَظَرًا مِنْكَ لَهُ وَخِيَارًا، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ يَكُونَ هَذَا مَكْرًا ⦗٥٨٣⦘ مِنْكَ بِعُمَرَ". ثُمَّ قَالَ: تَلَا {أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ} [المؤمنون: ٥٦] .
حسن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس کسریٰ کی پوستین لائی گئی، وہ ان کے سامنے رکھی گئی۔ قوم میں سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ بھی تھے۔ پس ان کو کسریٰ بن ہرمز کے کنگن ڈال دیے تو ان دونوں کو اس کے ہاتھ میں ڈال دیا، وہ کندھوں تک پہنچ گئے۔ جب دونوں کو سراقہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ میں دیکھا تو کہا: «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“ کسریٰ بن ہرمز کے کنگن سراقہ بن مالک بنی مدلج کے دیہاتی کے ہاتھوں میں ہیں۔ پھر کہا: اے اللہ! میں جانتا ہوں، تیرے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پسند کرتے تھے کہ ان کو مال ملے اور وہ تیرے راستے میں خرچ کریں اور تیرے بندوں پر اور تو نے ان کو اس سے ہٹا دیا اور بہتری کی، اے اللہ! میں جانتا ہوں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ پسند کرتے تھے کہ ان کو مال ملے اور وہ تیرے راستے میں خرچ کریں، پس تو نے ان کو بھی ہٹا دیا اور بہتری کی۔ اے اللہ! میں تیری پناہ میں آتا ہوں کہ تیری طرف سے عمر کے ساتھ کوئی آزمائش نہ ہو۔ پھر یہ آیت تلاوت کی: ﴿أَيَحْسَبُونَ أَنَّمَا نُمِدُّهُمْ بِهِ مِنْ مَالٍ وَبَنِينَ * نُسَارِعُ لَهُمْ فِي الْخَيْرَاتِ بَلْ لَا يَشْعُرُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 55-56] ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13036]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13037
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا مِسْعَرٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ سَعِيدٍ قَالَ: قَسَمَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَوْمًا مَالًا، فَجَعَلُوا يُثْنُونَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" مَا أَحْمَقَكُمْ لَوْ كَانَ هَذَا لِي مَا أَعْطَيْتُكُمْ دِرْهَمًا وَاحِدًا".
سعید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن مال تقسیم کیا، وہ (لوگ) اس کی تعریف کرنے لگے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: تم کتنے احمق ہو، اگر یہ میرا ہوتا تو میں تم کو ایک درہم بھی نہ دیتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13037]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13038
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِذَا صَلَّى صَلَاةً جَلَسَ، فَمَنْ كَانَتْ لَهُ حَاجَةٌ كَلَّمَهُ، وَمَنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ دَخَلَ، فَصَلَّى ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ يَجْلِسْ، قَالَ: فَجِئْتُ فَقُلْتُ: يَا يَرْفَأُ، بِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ شَكْوَى؟ قَالَ:" لَا وَالْحَمْدُ لِلَّهِ"، قَالَ: فَجَاءَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَلَسَ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ جَاءَ يَرْفَأُ فَقَالَ: قُمْ يَا ابْنَ عَفَّانَ، قُمْ يَا ابْنَ عَبَّاسٍ، فَدَخَلْنَا عَلَى عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَعِنْدَهُ صَبْرَةٌ مِنَ الْمَالِ، عَلَى كُلِّ صَبْرَةٍ مِنْهَا كَثْفٌ، فَقَالَ:" إِنِّي نَظَرْتُ فِي أَهْلِ الْمَدِينَةِ فَوَجَدْتُكُمَا أَكْثَرَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَشِيرَةً، فَخُذَا هَذَا الْمَالَ فَاقْتَسِمَاهُ، فَإِنْ بَقِيَ شَيْءٌ فَرُدَّاهُ". فَأَمَّا عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَحَثَا، وَأَمَّا أَنَا فَقُلْتُ: وَإِنْ نَقَصَ شَيْءٌ أَتْمَمْتَهُ لَنَا؟ قَالَ:" شِنْشِنَةٌ مِنْ أَخْزَمَ، أَمَا تَرَى هَذَا كَانَ عِنْدَ اللهِ، وَمُحَمَّدٌ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ الْقَدَّ؟" قَالَ: قُلْتُ: بَلَى وَاللهِ لَقَدْ كَانَ هَذَا عِنْدَ اللهِ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ يَأْكُلُونَ الْقَدَّ، وَلَوْ فُتِحَ هَذَا عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ غَيْرَ الَّذِي تَصْنَعُ، قَالَ: فَكَأَنَّهُ فَزِعَ مِنْهُ، فَقَالَ:" وَمَا كَانَ يَصْنَعُ؟" قُلْتُ: لَأَكَلَ وَأَطْعَمَنَا، قَالَ: فَنَشَجَ حَتَّى اخْتَلَفَتْ أَضْلَاعُهُ وَقَالَ:" لَوَدِدْتُ أَنِّي خَرَجْتُ مِنْهَا كَفَافًا، لَا عَلَيَّ وَلَا لِيَ".
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جب نماز پڑھاتے تو بیٹھ جاتے، جس کسی کو کوئی ضرورت ہوتی وہ آپ سے بات کرتا اور جس کی کوئی ضرورت نہ ہوتی تو آپ اندر چلے جاتے، پس ایک دن آپ نے نماز پڑھائی اور نہ بیٹھے، میں گیا میں نے کہا: اے یرفاء! کیا امیر المؤمنین بیمار تو نہیں ہیں؟ اس نے کہا: نہیں، «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں“۔ پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے وہ بھی بیٹھ گئے، تھوڑی ہی دیر بعد یرفاء آگیا اس نے کہا: اے ابن عفان اور اے ابن عباس (رضی اللہ عنہما)! کھڑے ہوجاؤ۔ پس ہم سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گئے اور آپ کے پاس مال کا ڈھیر تھا، ہر ڈھیر میں سہارا تھا۔ انہوں نے کہا: میں نے اہل مدینہ میں اکثر خاندان والا تم دونوں کو پایا ہے۔ پس یہ مال لے جاؤ اور تقسیم کر دو، اگر کوئی چیز بچ جائے تو اسے لوٹا دینا، پس سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے تو لپ بھر کر لے لیا، اور میں نے کہا: اگر کوئی چیز کم ہوئی تو دیں گے؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: عادت ہے برے اخلاق سے۔ کیا تم خیال کرتے ہو یہ اللہ کی طرف سے ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحاب چمڑا کھاتے تھے؟ میں نے کہا: ہاں، اللہ کی قسم! یہ اللہ کی طرف سے ہے اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب چمڑا کھاتے تھے اور اگر یہ (مال) محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر آتا تو وہ ایسا نہ کرتے جیسا تم کر رہے ہو، گویا وہ اس سے ڈر گئے اور کہا: وہ کیا کرتے؟ میں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھاتے اور ہمیں کھلاتے۔ وہ رونے لگ گئے، حتیٰ کہ ہچکی بندھ گئی اور کہا: میں چاہتا ہوں میں اس سے ایسے برابر سرابر نکل جاؤں کہ نہ میرے اوپر کوئی چیز ہو اور نہ میرے لیے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13038]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13039
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَخْتَرِيُّ الرَّزَّازُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا عَوْفٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ بْنُ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: هَلْ تَدْرِي مَا قَالَ أَبِي لِأَبِيكَ؟ قَالَ: قُلْتُ: لَا، قَالَ: إِنَّ أَبِي قَالَ لِأَبِيكَ:" يَا أَبَا مُوسَى، أَيَسُرُّكَ أَنَّ إِسْلَامَنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَجِهَادَنَا مَعَهُ، وَعَمَلَنَا مَعَهُ، كُلَّهُ بَرَدَ لَنَا، وَإِنَّ كُلَّ عَمَلٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدَهُ نَجَوْنَا مِنْهُ، كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ؟" قَالَ: فَقَالَ أَبُوكَ لِأَبِي:" وَاللهِ لَقَدْ جَاهَدْنَا بَعْدَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَصَلَّيْنَا، وَصُمْنَا، وَعَمِلْنَا خَيْرًا كَثِيرًا، وَأَسْلَمَ عَلَى أَيْدِينَا أُنَاسٌ كَثِيرٌ، وَإِنَّا نَرْجُو بِذَلِكَ"، قَالَ أَبِي:" ⦗٥٨٤⦘ وَلَكِنِّي أَنَا وَالَّذِي نَفْسُ عُمَرَ بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنَّ ذَلِكَ بَرَدَ لَنَا، وَأَنَّ كُلَّ شَيْءٍ عَمِلْنَاهُ بَعْدُ نَجَوْنَا مِنْهُ كَفَافًا رَأْسًا بِرَأْسٍ"، فَقُلْتُ: وَاللهِ إِنَّ أَبَاكَ خَيْرٌ مِنْ أَبِي رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ بِشْرٍ عَنْ رَوْحِ بْنِ عُبَادَةَ.
ابوبردہ بن ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: کیا تم جانتے ہو کہ میرے والد نے تمہارے والد سے کیا کہا؟ میں نے کہا: نہیں۔ انہوں نے کہا: میرے باپ نے تمہارے باپ سے کہا: اے ابوموسیٰ! کیا تجھے پسند ہے کہ ہمارا اسلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہمارا جہاد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور ہمارا ہر عمل آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو اور آپ کے بعد ہم جو بھی عمل کریں، ہم بس نجات پا جائیں؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: تمہارے باپ نے میرے باپ سے کہا: اللہ کی قسم! ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جہاد کیا اور ہم نے نماز پڑھی اور ہم نے روزہ رکھا اور ہم نے بہت زیادہ اچھے اعمال کیے اور ہمارے ہاتھوں پر بہت زیادہ لوگ اسلام لائے اور ہم اس کی امید کرتے ہیں۔ میرے باپ نے کہا: لیکن اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں چاہتا ہوں کہ یہ ہمارا معاملہ آسان کر دے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو ہم نے عمل کیا ہم بس اس کے ذریعے سے نجات پا جائیں۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! تمہارے والد میرے والد سے بہتر تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13039]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 3915»
الحكم على الحديث: صحيح