السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2697. -- باب: من كره الإفراض عند تغير السلاطين، وصرفه عن المستحقين
-- باب: اس شخص کا بیان جس نے حکمرانوں کے بدلنے پر وظائف مقرر کرنے اور انہیں مستحقین کے علاوہ دوسروں پر خرچ کرنے کو ناپسند کیا
حدیث نمبر: 13040
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْكَعْبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ، ثنا أَبُو الْأَشْهَبِ، ثنا خُلَيْدٌ الْعَصَرِيُّ، عَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَيْسٍ قَالَ: كُنْتُ فِي نَفَرٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَمَرَّ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَهُوَ يَقُولُ:" بَشِّرِ الْكَنَّازِينَ بِكَيٍّ فِي ظُهُورِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جُنُوبِهِمْ، وَبِكَيٍّ مِنْ قِبَلِ أَقْفِيَتِهِمْ يَخْرُجُ مِنْ جِبَاهِهِمْ" قَالَ: ثُمَّ تَنَحَّى فَقَعَدَ إِلَى سَارِيَةٍ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا أَبُو ذَرٍّ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ فَقُلْتُ: مَا شَيْءٌ سَمِعْتُكَ تَقُولُ قَبْلُ؟ قَالَ: مَا قُلْتُ إِلَّا شَيْئًا سَمِعْتُهُ مِنْ نَبِيِّهِمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: مَا تَقُولُ فِي هَذَا الْعَطَاءِ؟ قَالَ:" خُذْهُ؛ فَإِنَّ فِيهِ الْيَوْمَ مَعُونَةً، فَإِذَا كَانَ ثَمَنًا لِدِينِكَ فَدَعْهُ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ شَيْبَانَ بْنِ فَرُّوخَ، وَهُوَ فِي الْعَطَاءِ مَوْقُوفٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مَرْفُوعًا.
سیدنا احنف بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں قریش کی جماعت میں تھا، سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ گزرے اور وہ کہہ رہے تھے: ”خوشخبری دے دو خزانہ جمع کرنے والوں کو داغ کی، جو ان کی پیٹھوں پر لگائے جائیں گے تو ان کے پہلوؤں سے نکلیں گے اور ان کی گدیوں پر لگائے جائیں گے تو ان کی پیشانیوں سے نکلیں گے“، پھر وہ ایک کنارے پر بیٹھ گئے، میں نے کہا: یہ کون ہے؟ انہوں نے کہا: یہ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ ہیں، میں ان کے پاس کھڑا ہوا اور ان سے کہا: یہ کیا تھا جو میں نے ابھی آپ سے سنا جو آپ کہہ رہے تھے؟ انہوں نے کہا: میں وہی کہہ رہا تھا جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، میں نے کہا: آپ اس عطا کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ انہوں نے کہا: اس کو لیتے رہو اس میں مدد ہے، پھر جب یہ تمہارے دین کی قیمت ہو جائے تو اسے چھوڑ دینا۔
عطا والا حصہ موقوف ہے، اور ایک دوسری سند سے مرفوع بھی روایت کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13040]
عطا والا حصہ موقوف ہے، اور ایک دوسری سند سے مرفوع بھی روایت کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13040]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 992»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13041
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي الْحَوَارِي، ثنا سُلَيْمُ بْنُ مُطَيْرٍ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ وَادِي الْقُرَى قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي مُطَيْرٌ أَنَّهُ خَرَجَ حَاجًّا، حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالسُّوَيْدَاءِ إِذَا أَنَا بِرَجُلٍ قَدْ جَاءَ كَأَنَّهُ يَطْلُبُ دَوَاءً أَوْ حُضَضًا، فَقَالَ: أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ يَعِظُ النَّاسَ وَيَأْمُرُهُمْ وَيَنْهَاهُمْ فَقَالَ:" يَا أَيُّهَا النَّاسُ، خُذُوا الْعَطَاءَ مَا كَانَ عَطَاءً، فَإِذَا تَجَاحَفَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْمُلْكِ، وَكَانَ عَنْ دِينِ أَحَدِكُمْ، فَدَعُوهُ".
مطیر حج کرنے کے لیے گئے، جب وہ سویداء مقام پر تھے تو ایک شخص دوائی تلاش کرتا ہوا آیا یا رسوت تلاش کرتا ہوا اور کہا: مجھے اس شخص نے خبر دی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم حجۃ الوداع میں فرماتے تھے اور لوگوں کو وصیت کرتے تھے اور نیکی کا حکم کرتے تھے اور برائی سے منع کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے لوگو! امام یا حاکم کی عطاء کو لے لیا کرو، جب تک وہ عطاء رہے، پھر جب قریش ایک دوسرے سے لڑیں بادشاہی پر اور عطاء تم میں سے کسی کے دین کے بدلے میں ہو تو اسے چھوڑ دینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13041]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً۔ ابوداود 2958»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً
حدیث نمبر: 13042
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنا مُحَمَّدٌ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا سُلَيْمُ بْنُ مُطَيْرٍ مِنْ أَهْلِ وَادِي الْقُرَى، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ قَالَ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حِجَّةِ الْوَدَاعِ أَمَرَ النَّاسَ وَنَهَاهُمْ ثُمَّ قَالَ:" اللهُمَّ هَلْ بَلَّغْتُ؟" قَالُوا: اللهُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ:" إِذَا تَجَاحَفَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْمُلْكِ فِيمَا بَيْنَهَا، وَعَادَ الْعَطَاءُ رِشَاءً، فَدَعُوهُ" فَقِيلَ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا ذُو الزَّوَائِدِ صَاحِبُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سلیم بن حطیر وادیِ قریٰ میں رہنے والے اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے ایک شخص سے سنا جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نیکی کا حکم دیا اور برائی سے منع کیا پھر فرمایا: ”اے اللہ! میں نے تیرا پیغام پہنچا دیا“، لوگوں نے کہا: ہاں پہنچا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب قریش کے لوگ آپس میں حکومت کی خاطر لڑیں اور عطا رشوت ہو جائے تو اسے چھوڑ دو۔“ لوگوں نے کہا: یہ کون شخص ہے؟ معلوم ہوا، وہ ذوالذوائد رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الفَيْءِ وَالغَنِيمَةِ/حدیث: 13042]
تخریج الحدیث: «ضعيف جداً»
الحكم على الحديث: ضعيف جداً