السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2732. -- باب: لا وقت فيما يعطى الفقراء والمساكين إلى ما يخرجون به من الفقر والمسكنة
-- باب: فقراء اور مساکین کو دینے کی کوئی حد مقرر نہیں ہے یہاں تک کہ وہ فقر اور مسکینی سے نکل جائیں
حدیث نمبر: 13203
أَخْبَرَنَا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الْحَرْفِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ح وَأنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، وَحَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هَارُونَ بْنِ رِئَابٍ، عَنْ هَارُونَ الْأَسَدِيِّ، عَنْ كِنَانَةَ بْنِ نُعَيْمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ الْمُخَارِقِ الْهِلَالِيِّ قَالَ: تَحَمَّلْتُ حَمَالَةً، فَقَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهَا فَقَالَ:" أَقِمْ يَا قَبِيصَةُ حَتَّى تَأْتِيَنَا الصَّدَقَةُ، فَنَأْمُرَ لَكَ بِهَا، ثُمَّ قَالَ:" يَا قَبِيصَةُ إنَّ الْمَسْأَلَةَ لَا تَحِلُّ إِلَّا لِإِحْدَى ثَلَاثٍ: رَجُلٍ تَحَمَّلَ حَمَالَةً، فَسَأَلَ فِيهَا حَتَّى يُصِيبَهَا بِهَا، ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ اجْتَاحَتْ مَالَهُ، فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ سِدَادًا، ثُمَّ يُمْسِكُ، وَرَجُلٍ أَصَابَتْهُ حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ، فَقَامَ ثَلَاثَةٌ مِنْ ذَوِي الْحِجَا مِنْ قَوْمِهِ، فَقَالُوا: أَصَابَتْ فُلَانًا فَاقَةٌ أَوْ حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ، فَسَأَلَ حَتَّى يُصِيبَ ⦗٣٧⦘ سِدَادًا مِنْ عَيْشٍ أَوْ قِوَامًا مِنْ عَيْشٍ، ثُمَّ يُمْسِكُ، وَمَا سِوَاهُنَّ مِنَ الْمَسَائِلِ سُحْتٌ يَأْكُلُهَا صَاحِبُهَا سُحْتًا" قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ كَمَا مَضَى.
سیدنا قبیصہ بن مخارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں مقروض ہوگیا، اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قبیصہ! ٹھہرو یہاں تک کہ ہمارے پاس صدقہ آئے تو ہم تمہارے لیے اس کا حکم دیں گے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”اے قبیصہ! مانگنا صرف تین آدمیوں کے لیے جائز ہے: وہ آدمی جس کو چٹی پڑگئی تو اس نے سوال کیا، یہاں تک کہ وہ قرض ادا ہوگیا، پھر وہ رک جائے؛ وہ آدمی جسے اچانک آفت پہنچی اور اس کا مال برباد ہوگیا اس نے مانگا، یہاں تک کہ اس کا معاملہ سیدھا ہوگیا، پھر وہ رک گیا؛ تیسرا سخت ضرورت مند آدمی جس کے متعلق اس کی قوم کے تین آدمی گواہی دیں تو اس نے سوال کیا، یہاں تک کہ گزر بسر آسان ہوگئی، پھر وہ رک گیا، اس کے علاوہ مانگنا حرام ہے، (جو ایسا کرتا ہے) وہ حرام کھاتا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات دو یا تین مرتبہ فرمائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13203]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13204
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَعْلَى مَوْلًى لِفَاطِمَةَ، ح وَأنبأ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، ثنا سُفْيَانُ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، حَدَّثَنِي يَعْلَى بْنُ أَبِي يَحْيَى، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِلسَّائِلِ حَقٌّ، وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسٍ"، وَفِي رِوَايَةِ الْفِرْيَابِيِّ" وَإِنْ جَاءَ عَلَى فَرَسِهِ".
فاطمہ بنت حسین بن علی رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوال کرنے والے کا حق ہے، اگرچہ وہ گھوڑے پر ہی کیوں نہ سوار ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13204]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13205
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا زُهَيْرٌ، عَنْ شَيْخٍ، رَأَيْتُ سُفْيَانَ عِنْدَهُ عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ حُسَيْنٍ، عَنْ أَبِيهَا، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پچھلی روایت کی طرح ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13205]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13206
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا أَبُو شِهَابٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللهِ الثَّقَفِيِّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّهُ سَمِعَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" إِنَّ اللهَ فَرَضَ عَلَى الْأَغْنِيَاءِ فِي أَمْوَالِهِمْ بِقَدْرِ مَا يَكْفِي فُقَرَاءَهُمْ، فَإِنْ جَاعُوا وَعَرُوا جَهَدُوا فِي مَنْعِ الْأَغْنِيَاءِ، فَحَقٌّ عَلَى اللهِ أَنْ يُحَاسِبَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيُعَذِّبَهُمْ عَلَيْهِ" مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ هَذَا هُوَ ابْنُ الْحَنَفِيَّةِ وَأَبُو جَعْفَرٍ هُوَ مُحَمَّدُ بِنُ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ أَبِي شِهَابٍ، وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي شِهَابٍ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ أَبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ يَعْنِي أَبَا جَعْفَرٍ، فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي:.
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مال دار لوگوں پر یہ فرض کیا ہے کہ وہ اپنے مال کی اتنی مقدار سے فقیر لوگوں کی مدد کریں جو ان کو کفایت کر جائے، اگر وہ بھوکے ہوں یا وہ ننگے ہوں اور اگر مال داروں نے ایسا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ کو یہ حق حاصل ہے کہ قیامت والے دن ان کا محاسبہ کرے گا اور ان کو اس بات پر عذاب دے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13206]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13207
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ، جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ فِي وَجْهِهِ"، فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا ⦗٣٨⦘ الْغِنَى؟ قَالَ:" خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنَ الذَّهَبِ" قَالَ يَحْيَى بْنُ آدَمَ: فَقَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ لِسُفْيَانَ: حِفْظِي أَنَّ شُعْبَةَ كَانَ لَا يَرْوِي عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، فَقَالَ سُفْيَانُ، فَقَدْ حَدَّثَنَا زُبَيْدٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندے نے سوال کیا حالانکہ اس کے پاس اتنا مال تھا جو اسے کفایت کرے تو قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کے چہرے پر نوچنے، دانت لگانے اور زخموں کے نشانات ہوں گے“، پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول! غنی کیا ہے؟ فرمایا: ”پچاس درہم یا اس کے برابر سونا۔“
یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: عبداللہ بن عثمان نے سفیان سے کہا: مجھے یاد ہے کہ شعبہ حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے تھے، تو سفیان نے کہا: یہ حدیث ہمیں زبید نے بھی محمد بن عبدالرحمن بن یزید سے بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13207]
یحییٰ بن آدم کہتے ہیں: عبداللہ بن عثمان نے سفیان سے کہا: مجھے یاد ہے کہ شعبہ حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتے تھے، تو سفیان نے کہا: یہ حدیث ہمیں زبید نے بھی محمد بن عبدالرحمن بن یزید سے بیان کی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13207]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13208
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، فَذَكَرَ مَعْنَى هَذِهِ الْحِكَايَةِ بَلْ إِنَّمَا عَنْ يَحْيَى بْنِ آدَمَ، عَنْ سُفْيَانَ، ثُمَّ قَالَ يَعْقُوبُ: هِيَ حِكَايَةٌ بَعِيدَةٌ وَلَوْ كَانَ حَدِيثُ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ زُبَيْدٍ مَا خَفِيَ عَلَى أَهْلِ الْعِلْمِ.
یعقوب کہتے ہیں کہ یہ بعید از قیاس حکایت ہے، اگر حکیم بن جبیر کی حدیث «عَنْ زُبَیْدٍ» ہوتی تو یہ اہل علم پر مخفی نہ رہتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13208]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13209
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَقَالَ لِي أَهْلِي: اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ"، فَتَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُو مُغْضَبٌ وَهُوَ يَقُولُ: لَعَمْرِي إِنَّكَ تُعْطِي مَنْ شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَغْضَبُ عَلَيَّ أَنِّي لَا أَجِدُ مَا أُعْطِيهِ،" مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا" قَالَ الْأَسَدِيُّ: فَقُلْتُ:" اللِّقْحَةُ لَكَ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا قَالَ: فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ، فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ شَعِيرٌ وَزَبِيبٌ، فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ حَتَّى أَغْنَانَا اللهُ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ، هَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، كَمَا قَالَ مَالِكٌ.
بنو اسد کا ایک آدمی کہتا ہے کہ میں اور میری گھر والی بقیع الغرقد میں آئے، مجھے میری گھر والی نے کہا کہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا اور آپ سے کوئی چیز مانگ کر لا (تاکہ) ہم کھائیں، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو سوال کر رہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جو میں تجھے دوں۔“ وہ آدمی جب گیا تو وہ غصے میں تھا اور وہ یہ کہہ رہا تھا: ”اللہ کی قسم! تو اس کو دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ غصہ ہو رہا ہے اور میرے پاس کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو میں اسے دوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی نے سوال کیا اور حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ یا اس کے برابر کی کوئی چیز ہے تو اس نے چمٹ کر سوال کیا ہے۔“ اسدی کہتے ہیں: میں نے (دل میں) کہا: ہماری دودھ والی اونٹنی اوقیہ سے بہتر ہے اور اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس (آدمی) نے کہا: تو میں لوٹا اور اس کے متعلق کوئی سوال نہ کیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو اور کشمش پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ہمیں بھی حصہ دیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں غنی کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13209]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 2111»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13210
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ شَرِيكٍ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا ابْنُ أَبِي الرِّجَالِ يَعْنِي عَبْدَ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، يَقُولُ: قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ: اسْتُشْهِدَ أَبِي يَوْمَ أُحُدٍ مَالِكُ بْنُ سِنَانٍ وَتَرَكَنَا بِغَيْرِ مَالٍ قَالَ: وَأَصَابَتْنَا حَاجَةٌ شَدِيدَةٌ، فَقَالَتْ لِي أُمِّي: يَا بُنِيَّ ائْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلْهُ لَنَا شَيْئًا، فَجِئْتُهُ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ وَجَلَسْتُ وَهُوَ فِي أَصْحَابِهِ جَالِسٌ، فَقَالَ حِينَ اسْتَقْبَلَنِي:" إِنَّهُ مَنْ يَسْتَغْنِ أَغْنَاهُ اللهُ، وَمَنْ يَسْتَعْفِفْ أَعَفَّهُ اللهُ، وَمَنِ اسْتَكْفَ كَفَّهُ" قَالَ: قُلْتُ: مَا يُرِيدُ غَيْرِي، فَانْصَرَفْتُ وَلَمْ أُكَلِّمْهُ فِي شَيْءٍ، فَقَالَتْ لِي أُمِّي: مَا فَعَلْتَ؟ فَأَخْبَرْتُهَا الْخَبَرَ قَالَ فَصَبَرْنَا وَاللهُ يَرْزُقُنَا شَيْئًا فَتَبَلَّغْنَا بِهِ حَتَّى أَلَحَّتْ عَلَيْنَا حَاجَةٌ هِيَ أَشَدُّ مِنْهَا فَقَالَتْ ⦗٣٩⦘ لِي أُمِّي: ائْتِ رَسُولَ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَلْهُ لَنَا شَيْئًا قَالَ: فَجِئْتُهُ وَهُوَ جَالِسٌ فِي أَصْحَابِهِ فَسَلَّمْتُ وَجَلَسْتُ فَاسْتَقْبَلَنِي، وَقَالَ بِالْقَوْلِ الْأَوَّلِ وَزَادَ فِيهِ" وَمَنْ سَأَلَ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ فَهُوَ مُلْحِفٌ"، قُلْتُ فِي نَفْسِي: لَنَا الْيَاقُوتَةُ وَهِيَ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ قَالَ: وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا قَالَ: فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ قَالَ أَنْبَأَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْيَاقُوتَةُ نَاقَةٌ.
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میرے والد مالک بن سنان جنگِ احد میں شہید ہو گئے اور ہمارے لیے کوئی ترکہ نہ چھوڑا، ہم سخت ضرورت مند ہو گئے تو میری ماں نے مجھ سے کہا: اے بیٹے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤ اور ہمارے لیے کچھ مانگ لاؤ، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور سلام کیا اور بیٹھ گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم میں بیٹھے ہوئے تھے، پھر میری جانب متوجہ ہو کر فرمایا: ”جو بے پروا ہو گیا اللہ تعالیٰ اس کو بے پروا کر دے گا، جو پاک دامن رہا اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرمائے گا اور جو کفایت چاہے اللہ تعالیٰ اسے کفایت دے گا“، حضرت ابو سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے سوچا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد میں ہوں، میں واپس آ گیا اور کوئی بات نہ کی، میری ماں نے پوچھا تو میں نے ساری خبر دے دی، ہم نے صبر کیا، اللہ تعالیٰ ہمیں کچھ رزق دیتا رہا جس سے ہم گزارا کرتے رہے، یہاں تک کہ ہمیں پہلے سے بھی زیادہ سخت ضرورت نے آ گھیرا، میری ماں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لینے کے لیے بھیجا، میں آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہم کی مجلس میں تھے، میں نے سلام کیا اور بیٹھ گیا، آپ میری طرف متوجہ ہوئے اور پہلے والی بات کی جس میں یہ الفاظ زیادہ تھے کہ: ”جس بندے نے سوال کیا حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ ہے تو وہ چمٹ کر سوال کرنے والا ہے (یعنی چمٹنے والا ہے)“، میں نے اپنے دل میں سوچا، میرے پاس یاقوت ہے وہ «أُوقِيَّة» ”اوقیہ“ سے زیادہ ہے، اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، میں واپس آ گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال نہیں کیا، ابوعبید کہتے ہیں: یاقوت اونٹنی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13210]
تخریج الحدیث: «حسن۔ احمد 11059»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13211
وَحَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الزَّاهِدُ، أنبأ أَبُو الطَّيِّبِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدُونَ الذُّهْلِيُّ، ثنا أَبُو عُمَرَ، وَأَحْمَدُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ دَاوُدَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ سَأَلَ وَلَهُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا فَهُوَ مُلْحِفٌ".
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے پاس چالیس درہم ہوں اور وہ سوال کرے گویا کہ وہ لوگوں سے چمٹ کر مانگنے والا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13211]
تخریج الحدیث: «نسائي 3/ 98»
الحكم على الحديث: نسائي 3/ 98
حدیث نمبر: 13212
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ جَعْفَرٍ الْمَدِينِيُّ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ، وَحَدَّثَنِي أَبُو كَبْشَةَ السَّلُولِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ الْحَنْظَلِيَّةِ الْأَنْصَارِيَّ، صَاحِبَ رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ح وَأنبأ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، وَاللَّفْظُ لَهُ ثنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ الصَّفَّارُ، ثنا أَبُو شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، ثنا النُّفَيْلِيُّ، ثنا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي كَبْشَةَ السَّلُولِيِّ، ثنا سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ: قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَسَأَلَاهُ، فَأَمَرَ لَهُمَا بِمَا سَأَلَا وَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ أَنْ يَكْتُبَ لَهُمَا بِمَا سَأَلَا قَالَ: فَأَمَّا الْأَقْرَعُ فَلَفَّ كِتَابَهُ فِي عِمَامَتِهِ وَانْطَلَقَ، وَأَمَّا عُيَيْنَةُ فَأَخَذَ كِتَابَهُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ تَرَى إِنِّي حَامِلٌ إِلَى قَوْمِي كِتَابًا لَا أَدْرِي مَا فِيهِ كَصَحِيفَةِ الْمُلْتَمِسِ قَالَ: فَأَخَذَهُ النَّبِيُّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَظَرَ فِيهِ، فَقَالَ:" قَدْ كُتِبَ لَكَ بِالَّذِي أَمَرْتُ لَكَ بِهِ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً وَهُوَ مِنْهَا غَنِيٌّ، فَإِنَّمَا يَسْتَكْثِرُ مِنَ النَّارِ"، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ وَمَا الْغِنَى الَّذِي لَا يَنْبَغِي مَعَهُ الْمَسْأَلَةُ؟ قَالَ:" أَنْ يَكُونَ لَهُ شِبَعُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ" وَلَيْسَ شَيْءٌ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ بِمُخْتَلِفٍ، فَكَأَنَّ النَّبِيَّ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِمَ مَا يُغْنِي كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ فَجَعَلَ غِنَاهُ بِهِ، وَذَلِكَ لِأَنَّ النَّاسَ يَخْتَلِفُونَ فِي قَدْرِ كِفَايَاتِهِمْ، فَمِنْهُمْ مَنْ يُغْنِيهِ خَمْسُونَ دِرْهَمًا لَا يُغْنِيهِ أَقَلُّ مِنْهَا، وَمِنْهُمْ مَنْ لَهُ كَسْبٌ يُدِرُّ عَلَيْهِ كُلَّ يَوْمٍ مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ وَلَا عِيَالَ لَهُ، فَهُوَ مُسْتَغْنٍ بِهِ.
سیدنا سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس رضی اللہ عنہما آئے، ان دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سوال کے مطابق دینے کا حکم دیا اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو حکم دیا کہ جو کچھ انہوں نے سوال کیا ہے، اس کو لکھ دو۔ راوی کہتے ہیں کہ اقرع رضی اللہ عنہ نے اپنے خط کو اپنے عمامے میں لپیٹ لیا اور چلا گیا اور عیینہ رضی اللہ عنہ نے اپنا خط پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگیا اور اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میں یہ خط اپنی قوم کی طرف لے کر جانے والا ہوں اور میں بھی نہیں جانتا کہ اس میں کیا ہے۔
راوی کہتا ہے کہ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑا اور اس میں دیکھا اور فرمایا: ”اس میں وہ چیز لکھی گئی ہے جس کا میں نے تیرے لیے حکم دیا تھا۔“
پھر لمبی حدیث ذکر کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندے نے سوال کیا حالانکہ وہ اس چیز سے بے پروا ہے (یعنی اس کو ضرورت نہیں) تو وہ جہنم کی آگ کو اکٹھا کر رہا ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی! غنیٰ کیا چیز ہے کہ بعد میں سوال کی گنجائش ہی نہ رہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کے لیے سیر ہونا ہے ایک دن اور رات یا ایک رات اور دن۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13212]
راوی کہتا ہے کہ اس کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پکڑا اور اس میں دیکھا اور فرمایا: ”اس میں وہ چیز لکھی گئی ہے جس کا میں نے تیرے لیے حکم دیا تھا۔“
پھر لمبی حدیث ذکر کی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس بندے نے سوال کیا حالانکہ وہ اس چیز سے بے پروا ہے (یعنی اس کو ضرورت نہیں) تو وہ جہنم کی آگ کو اکٹھا کر رہا ہے۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا کہ اے اللہ کے نبی! غنیٰ کیا چیز ہے کہ بعد میں سوال کی گنجائش ہی نہ رہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کے لیے سیر ہونا ہے ایک دن اور رات یا ایک رات اور دن۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ قِسْمِ الصَّدَقَاتِ/حدیث: 13212]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح