السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2732. -- باب: لا وقت فيما يعطى الفقراء والمساكين إلى ما يخرجون به من الفقر والمسكنة
-- باب: فقراء اور مساکین کو دینے کی کوئی حد مقرر نہیں ہے یہاں تک کہ وہ فقر اور مسکینی سے نکل جائیں
حدیث نمبر: 13209
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ بَنِي أَسَدٍ قَالَ: نَزَلْتُ أَنَا وَأَهْلِي بِبَقِيعِ الْغَرْقَدِ، فَقَالَ لِي أَهْلِي: اذْهَبْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُ عِنْدَهُ رَجُلًا يَسْأَلُهُ وَرَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا أَجِدُ مَا أُعْطِيكَ"، فَتَوَلَّى الرَّجُلُ عَنْهُ وَهُو مُغْضَبٌ وَهُوَ يَقُولُ: لَعَمْرِي إِنَّكَ تُعْطِي مَنْ شِئْتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَغْضَبُ عَلَيَّ أَنِّي لَا أَجِدُ مَا أُعْطِيهِ،" مَنْ سَأَلَ مِنْكُمْ وَلَهُ أُوقِيَّةٌ أَوْ عَدْلُهَا فَقَدْ سَأَلَ إِلْحَافًا" قَالَ الْأَسَدِيُّ: فَقُلْتُ:" اللِّقْحَةُ لَكَ خَيْرٌ مِنْ أُوقِيَّةٍ، وَالْأُوقِيَّةُ أَرْبَعُونَ دِرْهَمًا قَالَ: فَرَجَعْتُ وَلَمْ أَسْأَلْهُ، فَقَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللهِ صَلَى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ شَعِيرٌ وَزَبِيبٌ، فَقَسَمَ لَنَا مِنْهُ حَتَّى أَغْنَانَا اللهُ" قَالَ أَبُو دَاوُدَ، هَكَذَا رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، كَمَا قَالَ مَالِكٌ.
بنو اسد کا ایک آدمی کہتا ہے کہ میں اور میری گھر والی بقیع الغرقد میں آئے، مجھے میری گھر والی نے کہا کہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا اور آپ سے کوئی چیز مانگ کر لا (تاکہ) ہم کھائیں، میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا۔ میں نے ایک آدمی کو دیکھا جو سوال کر رہا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے تھے: ”میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے جو میں تجھے دوں۔“ وہ آدمی جب گیا تو وہ غصے میں تھا اور وہ یہ کہہ رہا تھا: ”اللہ کی قسم! تو اس کو دیتا ہے جس کو چاہتا ہے۔“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ غصہ ہو رہا ہے اور میرے پاس کوئی چیز ایسی نہیں ہے جو میں اسے دوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس آدمی نے سوال کیا اور حالانکہ اس کے پاس ایک اوقیہ یا اس کے برابر کی کوئی چیز ہے تو اس نے چمٹ کر سوال کیا ہے۔“ اسدی کہتے ہیں: میں نے (دل میں) کہا: ہماری دودھ والی اونٹنی اوقیہ سے بہتر ہے اور اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، اس (آدمی) نے کہا: تو میں لوٹا اور اس کے متعلق کوئی سوال نہ کیا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جو اور کشمش پیش کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سے ہمیں بھی حصہ دیا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں غنی کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب قسم الصدقات/حدیث: 13209]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك 2111»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13209 in Urdu