السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2748. -- باب: ما حرم عليه من خائنة الأعين دون المكيدة في الحرب
-- باب: جنگ کی تدبیر کے علاوہ آنکھوں کی خیانت (کنکھیوں سے اشارہ کرنے) کے حرام ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 13277
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، أنبأ ⦗٦٤⦘ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: زَعَمَ السُّدِّيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ أَيْ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ مِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ فَإِنَّهُ اخْتَبَأَ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْ عَبْدَ اللهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَى، فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:" أَمَا فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي قَدْ كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلَهُ؟"، قَالُوا: مَا يُدْرِينَا يَا رَسُولَ اللهِ مَا فِي نَفْسِكَ هَلَّا أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ؟ قَالَ: إِنَّهُ" لَا يَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ لِنَبِيٍّ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ".
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب فتح کا دن آیا یعنی فتح مکہ کا دن، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مردوں اور دو عورتوں کے سوا سب لوگوں کو امان دے دی، ان میں عبداللہ بن سعد بن ابی سرح بھی تھا۔ پھر پوری حدیث ذکر کی یہاں تک کہ فرمایا: رہا عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو وہ اسے لے کر آئے یہاں تک کہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا کر دیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عبداللہ کی بیعت لے لیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور تین مرتبہ اس کی طرف دیکھا، ہر بار انکار کرتے رہے، پھر تیسری مرتبہ کے بعد اس کی بیعت لے لی۔ پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں تھا جو اس کی طرف اٹھتا جب اس نے دیکھا کہ میں نے اس کی بیعت سے اپنا ہاتھ روک رکھا ہے، اور اسے قتل کر دیتا؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں کیا معلوم کہ آپ کے دل میں کیا ہے؟ آپ نے اپنی آنکھ سے ہماری طرف اشارہ کیوں نہ کر دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13277]
حدیث نمبر: 13278
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بِشْرٍ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الْحَرْبُ خُدْعَةٌ" أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ صَدَقَةَ بْنِ الْفَضْلِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُجْرٍ، وَزُهَيْرٍ، كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ..
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑائی دھوکا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13278]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13279
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ كَعْبٍ قَالَ: سَمِعْتُ كَعْبَ بْنَ مَالِكٍ، يُحَدِّثُ حِينَ تَخَلَّفَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: وَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُرِيدُ غَزْوَةً يَغْزُوهَا، إِلَّا وَرَّى بِغَيْرِهَا، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنِ ابْنِ بُكَيْرٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنِ اللَّيْثِ.
کعب بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، جب وہ جنگ سے پیچھے رہ گئے تھے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ کرنے کا ارادہ کرتے اس کے علاوہ کی طرف توریہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13279]
تخریج الحدیث: «بخاري، مسلم 2769»
الحكم على الحديث: بخاري، مسلم 2769
حدیث نمبر: 13280
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ، فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللهَ وَرَسُولَهُ؟" فَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ؟ قَالَ:" نَعَمْ" قَالَ: فَأْذَنْ لِي فَأَقُولَ، قَالَ:" قَدْ أَذِنْتُ لَكَ" فَذَكَرَ الْقِصَّةَ فِي احْتِيَالِهِ فِي قَتْلِ كَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ، قَالَ: فَلَمَّا اسْتَمْكَنَ مِنْهُ قَتَلُوهُ، فَأَتَوُا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْحَرْبُ خَدْعَةٌ" أَخْرَجَاهُ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دی ہے،“ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! یہ بات آپ کو پسند ہے کہ میں اس کو قتل کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ پھر صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے تجھے اجازت دی،“ پھر انہوں نے کعب بن اشرف کے قتل کا قصہ بیان کیا کہ جب میں نے اس کو قتل کر لیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لڑائی دھوکا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13280]