🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2748. -- باب: ما حرم عليه من خائنة الأعين دون المكيدة في الحرب
-- باب: جنگ کی تدبیر کے علاوہ آنکھوں کی خیانت (کنکھیوں سے اشارہ کرنے) کے حرام ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13277
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ، أنبأ ⦗٦٤⦘ أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ، نا أَحْمَدُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، ثنا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: زَعَمَ السُّدِّيُّ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ أَيْ يَوْمُ فَتْحِ مَكَّةَ أَمَّنَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَّا أَرْبَعَةَ نَفَرٍ وَامْرَأَتَيْنِ مِنْهُمْ عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَأَمَّا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ فَإِنَّهُ اخْتَبَأَ عِنْدَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا دَعَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ إِلَى الْبَيْعَةِ جَاءَ بِهِ حَتَّى أَوْقَفَهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ بَايِعْ عَبْدَ اللهِ، فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ ثَلَاثًا كُلُّ ذَلِكَ يَأْبَى، فَبَايَعَهُ بَعْدَ ثَلَاثٍ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:" أَمَا فِيكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ يَقُومُ إِلَى هَذَا حَيْثُ رَآنِي قَدْ كَفَفْتُ يَدِي عَنْ بَيْعَتِهِ فَيَقْتُلَهُ؟"، قَالُوا: مَا يُدْرِينَا يَا رَسُولَ اللهِ مَا فِي نَفْسِكَ هَلَّا أَوْمَأْتَ إِلَيْنَا بِعَيْنِكَ؟ قَالَ: إِنَّهُ" لَا يَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ لِنَبِيٍّ خَائِنَةُ الْأَعْيُنِ".
سیدنا سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب فتح کا دن آیا یعنی فتح مکہ کا دن، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چار مردوں اور دو عورتوں کے سوا سب لوگوں کو امان دے دی، ان میں عبداللہ بن سعد بن ابی سرح بھی تھا۔ پھر پوری حدیث ذکر کی یہاں تک کہ فرمایا: رہا عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تو وہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو وہ اسے لے کر آئے یہاں تک کہ اسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کھڑا کر دیا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! عبداللہ کی بیعت لے لیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا اور تین مرتبہ اس کی طرف دیکھا، ہر بار انکار کرتے رہے، پھر تیسری مرتبہ کے بعد اس کی بیعت لے لی۔ پھر اپنے صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”کیا تم میں کوئی سمجھدار آدمی نہیں تھا جو اس کی طرف اٹھتا جب اس نے دیکھا کہ میں نے اس کی بیعت سے اپنا ہاتھ روک رکھا ہے، اور اسے قتل کر دیتا؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں کیا معلوم کہ آپ کے دل میں کیا ہے؟ آپ نے اپنی آنکھ سے ہماری طرف اشارہ کیوں نہ کر دیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کی آنکھ خیانت کرنے والی ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13277]

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13277 in Urdu