🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2762. -- باب: كان لا ينطق عن الهوى إن هو إلا وحي يوحى
-- باب: آپ ﷺ اپنی خواہش سے نہیں بولتے تھے، وہ تو صرف وحی ہوتی ہے جو نازل کی جاتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13331
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ثنا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: وَأنبأ أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ، أَخْبَرَنِي صَفْوَانُ بْنُ يَعْلَى، أَنَّ يَعْلَى، كَانَ يَقُولُ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: لَيْتَنِي أَرَى رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُنْزَلُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ ثَوْبٌ قَدْ أَظَلَّ عَلَيْهِ، وَمَعَهُ فِيهِ نَاسٌ مِنْ أَصْحَابِهِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ مُتَضَمِّخٌ بِطِيبٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ أَحْرَمَ فِي جُبَّةٍ بَعْدَ مَا تَضَمَّخَ بِطِيبٍ؟ فَنَظَرَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَاءَهُ الْوَحْيُ، فَأَشَارَ عُمَرُ إِلَى يَعْلَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِيَدِهِ أَنْ تَعَالَ، فَجَاءَهُ يَعْلَى، فَأَدْخَلَ رَأْسَهُ، فَإِذَا هُوَ مُحْمَرُّ الْوَجْهِ يَغِطُّ كَذَلِكَ سَاعَةً ثُمَّ سُرِّيَ عَنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْنَ الَّذِي سَأَلَنِي عَنِ الْعُمْرَةِ آنِفًا فَالْتَمَسَ الرَّجُلَ فَأُتِيَ بِهِ، فَقَالَ:" أَمَّا الطِّيبُ الَّذِي بِكَ فَاغْسِلْهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَأَمَّا الْجُبَّةُ فَانْزِعْهَا ثُمَّ اصْنَعْ فِي عُمْرَتِكَ كَمَا تَصْنَعُ فِي حَجِّكَ"، لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَفِي حَدِيثِ هَمَّامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِالْجِعْرَانَةِ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ وَعَلَيْهِ أَثَرُ خَلُوقٍ ثُمَّ ذَكَرَ مَعْنَاهُ وَفِيهِ قَالَ هَمَّامٌ: أَحْسَبُهُ قَالَ: كَغَطِيطِ الْبِكْرِ"، رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَبِي نُعَيْمٍ وَغَيْرِهِ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ عَنْ شَيْبَانَ كُلُّهُمْ عَنْ هَمَّامٍ قَالَ الْبُخَارِيُّ وَقَالَ مُسَدَّدٌ: ثنا يَحْيَى فَذَكَرَهُ وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ أَوْجُهٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
سیدنا یعلیٰ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ یعلیٰ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے: کاش! میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت دیکھوں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہو۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ مقام پر تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کپڑا تھا، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر سایہ کیا ہوا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ میں سے کچھ لوگ بھی تھے۔ ایک آدمی آیا جو کہ خوشبو میں لت پت تھا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ کا اس بندے کے بارے میں کیا خیال ہے، جو اپنے جبہ کو احرام بنا لیتا ہے خوشبو لگانے کے بعد؟“ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لمحہ کے لیے اس کو دیکھا، پھر وحی آگئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یعلیٰ کو ہاتھ سے اشارہ کیا کہ آؤ، یعلیٰ آئے اور اپنا سر (کپڑے کے) اندر داخل کیا تو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم زور زور سے سانس لے رہے ہیں، کچھ دیر یہی حالت رہی پھر یہ کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دور ہو گئی، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوال کرنے والا کہاں ہے؟ جس نے عمرہ کے بارے میں ابھی ابھی سوال کیا ہے؟“ ایک آدمی نے اس کو تلاش کیا اور پھر اس کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو خوشبو تجھے لگی ہوئی ہے، اس کو تین مرتبہ دھو لو اور جو جبہ ہے اس کو اتار لو۔ پھر اپنے عمرے میں ہر وہ کام کر جو اپنے حج میں کرتا ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13331]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري، مسلم 1180»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13332
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِرَاسٍ، بِمَكَّةَ، أنبأ أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُمَحِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أِيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" لَا أَدْرِي"، فَقَالَ" أِيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ؟ قَالَ:" لَا أَدْرِي"، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ لَهُ:" يَا جِبْرِيلُ أِيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟" قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ:" أِيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ؟" قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ:" سَلْ رَبَّكَ" قَالَ: فَانْتَفَضَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ انْتِفَاضَةً كَادَ يُصْعَقُ مِنْهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا أَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ اللهُ جَلَّ وَعَلَا لِجِبْرِيلَ: سَأَلَكَ مُحَمَّدٌ أِيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ فَقُلْتَ لَا أَدْرِي، وَسَأَلَكَ أِيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ، فَقُلْتَ لَا أَدْرِي، فَأَخْبِرْهُ أَنَّ خَيْرَ الْبِقَاعِ الْمَسَاجِدُ وَأَنَّ شَرَّ الْبِقَاعِ الْأَسْوَاقُ" وَفِي هَذَا الْمَعْنَى أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ.
ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے بہترین ٹکڑا کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معلوم نہیں۔“ پھر اس نے کہا: سب سے بدترین ٹکڑا کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معلوم نہیں۔“ راوی کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”اے جبرائیل! سب سے بہترین ٹکڑا کون سا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: مجھے پتا نہیں، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے جبرائیل! سب سے بدترین ٹکڑا کون سا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: معلوم نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے رب سے سوال کریں۔“ راوی کہتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام پر ایسی کپکپی طاری ہو گئی کہ قریب تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش ہو کر گر جاتے، تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا: میں اس سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین سے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ سے پوچھا: کون سی جگہ سب سے بہتر ہے؟ تو تو نے کہا: مجھے معلوم نہیں، اور اس نے تجھ سے پوچھا: کون سی جگہ سب سے بری ہے؟ تو تو نے کہا: مجھے معلوم نہیں، تو انہیں بتلا دے: ”مساجد سب سے بہترین جگہ ہیں اور بازار سب سے بری جگہ ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13332]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں