🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
2762. -- باب: كان لا ينطق عن الهوى إن هو إلا وحي يوحى
-- باب: آپ ﷺ اپنی خواہش سے نہیں بولتے تھے، وہ تو صرف وحی ہوتی ہے جو نازل کی جاتی ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13332
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ، ثنا أَبُو خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ فِرَاسٍ، بِمَكَّةَ، أنبأ أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ الْجُمَحِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالْقَانِيُّ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ أِيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" لَا أَدْرِي"، فَقَالَ" أِيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ؟ قَالَ:" لَا أَدْرِي"، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَقَالَ لَهُ:" يَا جِبْرِيلُ أِيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ؟" قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ:" أِيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ؟" قَالَ: لَا أَدْرِي قَالَ:" سَلْ رَبَّكَ" قَالَ: فَانْتَفَضَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ انْتِفَاضَةً كَادَ يُصْعَقُ مِنْهَا مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: مَا أَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ اللهُ جَلَّ وَعَلَا لِجِبْرِيلَ: سَأَلَكَ مُحَمَّدٌ أِيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ فَقُلْتَ لَا أَدْرِي، وَسَأَلَكَ أِيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ، فَقُلْتَ لَا أَدْرِي، فَأَخْبِرْهُ أَنَّ خَيْرَ الْبِقَاعِ الْمَسَاجِدُ وَأَنَّ شَرَّ الْبِقَاعِ الْأَسْوَاقُ" وَفِي هَذَا الْمَعْنَى أَخْبَارٌ كَثِيرَةٌ.
ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! سب سے بہترین ٹکڑا کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معلوم نہیں۔“ پھر اس نے کہا: سب سے بدترین ٹکڑا کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”معلوم نہیں۔“ راوی کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبرائیل علیہ السلام آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”اے جبرائیل! سب سے بہترین ٹکڑا کون سا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: مجھے پتا نہیں، تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”اے جبرائیل! سب سے بدترین ٹکڑا کون سا ہے؟“ تو انہوں نے کہا: معلوم نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے رب سے سوال کریں۔“ راوی کہتا ہے کہ جبرائیل علیہ السلام پر ایسی کپکپی طاری ہو گئی کہ قریب تھا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم بے ہوش ہو کر گر جاتے، تو جبرائیل علیہ السلام نے کہا: میں اس سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ نے جبرائیل امین سے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھ سے پوچھا: کون سی جگہ سب سے بہتر ہے؟ تو تو نے کہا: مجھے معلوم نہیں، اور اس نے تجھ سے پوچھا: کون سی جگہ سب سے بری ہے؟ تو تو نے کہا: مجھے معلوم نہیں، تو انہیں بتلا دے: ”مساجد سب سے بہترین جگہ ہیں اور بازار سب سے بری جگہ ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13332]

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13332 in Urdu