🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2831. -- باب: ما جاء في معانقة الرجل الرجل، إذا لم تكن مؤدية إلى تحريك شهوة
-- باب: مرد کا مرد سے معانقہ (گلے ملنے) کے متعلق جو مروی ہے جب کہ وہ شہوت ابھارنے کا سبب نہ بنے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13572
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادٌ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ يَعْنِي خَالِدَ بْنَ ذَكْوَانَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ بُشَيْرِ بْنِ كَعْبٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَنَزَةَ، أَنَّهُ قَالَ لِأَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَيْثُ سُيِّرَ مِنَ الشَّامِ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكَ عَنْ حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذًا أُخْبِرُكَ بِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ سِرًّا، قُلْتُ: إِنَّهُ لَيْسَ بِسِرٍّ، هَلْ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَافِحُكُمْ إِذْ لَقِيتُمُوهُ؟ قَالَ: مَا لَقِيتُهُ قَطُّ إِلَّا صَافَحَنِي، وَبَعَثَ إِلِيَّ ذَاتَ يَوْمٍ وَلَمْ أَكُنْ فِي أَهْلِي، فَلَمَّا جِئْتُ أُخْبِرْتُ أَنَّهُ أَرْسَلَ إِلِيَّ فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ عَلَى سَرِيرِهِ فَالْتَزَمَنِي، فَكَانَتْ تِلْكَ الْحَالَةُ أَجْوَدَ وَأَجْوَدَ.
عنزہ کے ایک آدمی نے ابوذر رضی اللہ عنہ کو کہا، جب ان کو شام سے نکالا گیا کہ: ”میں تم سے حدیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھنا چاہتا ہوں۔“ انہوں نے کہا: ”تب تو میں تجھے بتلا دوں گا، مگر یہ کہ وہ کوئی راز کی بات ہو۔“ میں نے کہا: ”وہ راز کی بات نہیں ہے۔ کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم تم سے مصافحہ کرتے تھے، جب تم ان سے ملاقات کرتے؟“ تو انہوں نے کہا: ”جب بھی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ملا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے مصافحہ ہی کیا ہے اور میری طرف ایک دن کسی کو بھیجا اور میں گھر میں نہیں تھا۔ جب میں گھر میں آیا تو مجھے بتایا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو میری طرف بھیجا، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم چارپائی پر بیٹھے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ سے لپٹ گئے، یہ بہت اچھا موقع تھا، بہت اچھا تھا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13572]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13573
وَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُقْرِئِ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا حَنْظَلَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قِيلَ: يَا رَسُولَ اللهِ أَيَنْحَنِي بَعْضُنَا لِبَعْضٍ إِذَا الْتَقَيْنَا؟ قَالَ:" لَا" قَالَ: فَيَلْتَزِمُ بَعْضُنَا بَعْضًا؟ قَالَ:" لَا" قَالَ: فَيُصَافِحُ بَعْضُنَا بَعْضًا؟ قَالَ:" نَعَمْ"، وَهَذَا يَتَفَرَّدُ بِهِ حَنْظَلَةُ السَّدُوسِيُّ وَقَدْ كَانَ اخْتَلَطَ، تَرَكَهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ لِاخْتِلَاطِهِ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کہا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا جب ہم ملاقات کریں تو ایک دوسرے کے لیے جھکیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“۔ پھر پوچھا: ہم ایک دوسرے کو گلے مل لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں“، پھر پوچھا: مصافحہ کر لیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔
اس روایت کو بیان کرنے میں حنظلہ سدوسی منفرد ہیں اور وہ اختلاط کا شکار ہو گئے تھے، یحییٰ قطان نے ان کے اختلاط کی وجہ سے انہیں ترک کر دیا تھا۔ واللہ اعلم۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13573]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13574
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْأَسَدِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ بِمَاءٍ لَهُ، فَبَلَغَهُ أَنَّ الْحُسَيْنَ بْنَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، تَوَجَّهَ الْعِرَاقَ، فَلَحِقَهُ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ فِي أَمْرِهِ بِالرُّجُوعِ، فَأَبَى أَنْ يَرْجِعَ، فَاعْتَنَقَهُ ابْنُ عُمَرَ وَبَكَى، وَقَالَ:" أَسْتَوْدِعُكَ اللهَ مِنْ قَتِيلٍ" هَكَذَا رَوَاهُ شَبَابَةُ، وَرَوَاهُ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الشَّعْبِيِّ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما پانی پر تھے، ان کو خبر ملی کہ حسین بن علی رضی اللہ عنہما عراق کی طرف جا رہے ہیں تو وہ ان سے ملے، لمبی حدیث ذکر کی جس میں ان کو لوٹنے کا حکم دیا تو انھوں نے لوٹنے سے انکار کر دیا، ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے گلے ملے اور رو پڑے اور فرمایا: «أَسْتَوْدِعُكَ اللّٰهَ مِنْ قَتِيلٍ» ”میں تجھے تیرے قتل ہونے کے ڈر سے اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13574]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13575
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السَّرَّاجُ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْقَاضِي، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ غَالِبٍ التَّمَّارِ قَالَ: كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ يَكْرَهُ الْمُصَافَحَةَ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلشَّعْبِيِّ، فَقَالَ:" كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَقَوْا صَافَحُوا، فَإِذَا قَدِمُوا مِنْ سَفَرٍ عَانَقَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا" وَاللهُ أَعْلَمُ.
محمد بن سیرین رحمہ اللہ مصافحہ کو ناپسند کرتے تھے۔ راوی کہتا ہے کہ میں نے اس بات کا ذکر شعبی رحمہ اللہ سے کیا تو انہوں نے کہا: محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی جب بھی ملتے تھے تو مصافحہ کرتے تھے اور جب سفر سے آتے تو گلے ملتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13575]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں