🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2840. -- باب: لا نكاح إلا بولي
-- باب: اس فرمانِ نبوی ﷺ ”ولی (سرپرست) کے بغیر کوئی نکاح درست نہیں“ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13596
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ إِسْحَاقَ الْبَغَوِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَتْ لِي أُخْتٌ فَخُطِبَتْ إِلِيَّ، فَكُنْتُ أَمْنَعُهَا النَّاسَ، فَأَتَانِي ابْنُ عَمٍّ لِي، فَخَطَبَهَا، فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، فَاصْطَحَبَا مَا شَاءَ اللهُ، ثُمَّ طَلَّقَهَا طَلَاقًا يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ، ثُمَّ تَرَكَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، فَلَمَّا خُطِبَتْ إِلِيَّ، أَتَانِي فَخَطَبَهَا مَعَ الْخُطَّابِ، فَقُلْتُ: مَنَعْتُهَا النَّاسَ وَآثَرْتُكَ بِهَا، ثُمَّ طَلَّقْتَهَا طَلَاقًا لَهُ رَجْعَةٌ، ثُمَّ تَرَكْتَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، فَلَمَّا خُطِبَتْ إِلِيَّ أَتَيْتَنِي مَعَ الْخُطَّابِ لَا أُزَوِّجُكَ أَبَدًا، فَأَنْزَلَ اللهُ تَعَالَى: {وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ} [البقرة: ٢٣٢] فَكَفَّرْتُ عَنْ يَمِينِي، فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ" لَفْظُ حَدِيثِ الْعَقَدِيِّ..
معقل بن یسار رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میری ایک بہن تھی۔ لوگوں نے میری طرف اس سے شادی کرنے کا پیغام بھیجا، لیکن میں نے لوگوں کو منع کر دیا۔ آخر کار میرے چچا کا بیٹا آیا، اس نے شادی کا ارادہ ظاہر کیا اور میں نے اس سے شادی کر دی۔ وہ اکٹھے رہے جب تک اللہ نے چاہا، پھر اس نے طلاق دے دی۔ وہ رجوع کا بھی مالک تھا، لیکن اس نے رجوع نہ کیا اور اس طرح عدت گزر گئی۔ جب دوسرے لوگوں کے پیغام میری طرف آنے لگے تو وہ بھی دوسرے پیغام دینے والوں کے ساتھ پھر شادی کا پیغام لے کر آ گیا تو میں نے کہا: ”لوگوں کو میں نے شادی سے منع کیا اور تجھے میں نے ترجیح دی۔ پھر تو نے اس کو طلاق دے دی حالانکہ تو رجوع بھی کر سکتا تھا، پھر تو نے اسے چھوڑے رکھا یہاں تک کہ اس کی عدت گزر گئی اور اب جب کہ دوسری طرف سے پیغام آ رہے ہیں تو تو بھی پیغام دینے والوں کے ساتھ آ گیا ہے۔ میں تیری اس سے کبھی بھی شادی نہیں کروں گا۔“ تو اللہ پاک نے یہ آیت نازل کر دی: ﴿وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ [سورة البقرة: 232] پھر میں نے اپنی قسم کا کفارہ دیا اور اس سے شادی کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13596]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13597
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ، فَذَكَرَهُ بِمَعْنَاهُ مُخْتَصَرًا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَقُلْتُ:" وَاللهِ لَا أُنْكِحُهَا أَبَدًا" قَالَ: فَفِيَّ نُزُولُ هَذِهِ الْآيَةِ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْعَقَدِيِّ. ⦗١٦٨⦘ قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا أَبْيَنُ مَا فِي الْقُرْآنِ مِنْ أَنَّ لِلْوَلِيِّ مَعَ الْمَرْأَةِ فِي نَفْسِهَا حَقًّا وَأَنَّ عَلَى الْوَلِيِّ أَنْ لَا يَعْضِلَهَا إِذَا رَضِيَتْ أَنْ تُنْكَحَ بِالْمَعْرُوفِ قَالَ: وَجَاءَتِ السُّنَّةُ بِمِثْلِ مَعْنَى كِتَابِ اللهِ تَعَالَى.
ابوعامر نے اسی طرح ذکر کیا ہے، صرف یہ فرق ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں کبھی اس کا نکاح تجھ سے نہیں کروں گا۔ پھر میرے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: قرآنی آیات میں یہ واضح آیت ہے کہ ولی کے لیے اس عورت کے ساتھ اس کی ذات میں حق ہے اور ولی پر لازم ہے کہ اسے نہ روکے جب وہ دستور کے مطابق اپنا نکاح کرنا چاہے اور فرمایا: کتاب اللہ کے مطلب کے مطابق یہی سنت ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13597]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13598
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أنبأ ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" لَا تُنْكَحُ امْرَأَةٌ بِغَيْرِ أَمْرِ وَلِيِّهَا فَإِنْ نَكَحَتْ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَإِنْ أَصَابَهَا فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنِ اشْتَجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ".
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیوی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت اپنے ولی کے حکم کے بغیر نکاح نہ کرے۔ اگر اس نے نکاح کر لیا تو وہ نکاح باطل ہوگا، تین دفعہ یہ الفاظ دہرائے۔ اگر مرد نے اس سے جماع کر لیا تو اس کے لیے اس جیسی عورتوں کا مہر (مہر مثل) ہوگا جماع کرنے کی وجہ سے اور اگر ولی آپس میں اختلاف کریں تو سلطان ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13598]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13599
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ فَارِسٍ، أنبأ أَبُو مَسْعُودٍ أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ، أنبأ عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى أَخْبَرَهُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنبأ حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ نِكَاحُهَا بَاطِلٌ، وَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنِ اشْتَجَرُوا، فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ"، لَفْظُ حَدِيثِ حَجَّاجٍ وَفِي رِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ:" بِغَيْرِ إِذَنْ مَوَالِيهَا، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ وَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا أَصَابَهَا" ثُمَّ الْبَاقِي مِثْلُهُ، وَرَوَاهُ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا"، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ الشَّافِعِيُّ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ خَالِدٍ، وَعَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت بھی اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کرتی ہے تو اس کا نکاح باطل ہے اور اس کے لیے حق مہر ہوگا جو اس سے جماع کیا گیا۔ اگر ولی آپس میں اختلاف کریں تو سلطان ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13599]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13600
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْمَوْلَى عِنْدَ كَثِيرٍ مِنَ النَّاسِ هُوَ ابْنُ الْعَمِّ خَاصَّةً، وَلَيْسَ هُوَ كَذَلِكَ، وَلَكِنَّهُ الْوَلِيُّ فَكُلُّ وَلِيٍّ لِلْإِنْسَانِ، فَهُوَ مَوْلَاهُ مِثْلُ الْأَبِ وَالْأَخِ، وَابْنِ الْأَخِ، وَالْعَمِّ، وَابْنِ الْعَمِّ، وَمَا وَرَاءَ ذَلِكَ مِنَ الْعَصَبَةِ كُلِّهِمْ وَمِنْهُ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي} [مريم: ٥] قَالَ: وَمِمَّا يُبَيِّنُ لَكَ أَنَّ الْمَوْلَى كُلُّ وَلِيٍّ فِي حَدِيثِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نَكَحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوْلَاهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ" أَرَادَ بِالْمَوْلَى الْوَلِيَّ وَقَالَ اللهُ تَعَالَى: {يَوْمَ لَا يُغْنِي مَوْلًى عَنْ مَوْلًى شَيْئًا} [الدخان: ٤١] ، أَفَتَرَى إِنَّمَا عُنِيَ ابْنُ الْعَمِّ خَاصَّةً دُونَ سَائِرِ أَهْلِ بَيْتِهِ".
ابوعبید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بہت سے لوگوں کے نزدیک مولیٰ سے مراد خاص طور پر چچا زاد ہے، حالانکہ ایسا نہیں ہے، بلکہ مولیٰ سے مراد ولی ہے، چنانچہ انسان کا ہر ولی اس کا مولیٰ ہے، جیسے باپ، بھائی، بھتیجا، چچا، چچا زاد اور ان کے بعد کے تمام عصبہ رشتہ دار۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: ﴿وَإِنِّي خِفْتُ الْمَوَالِيَ مِنْ وَرَائِي﴾ ”اور میں اپنے بعد اپنے وارثوں (موالی) سے ڈرتا ہوں۔“ [سورة مريم: 5] فرمایا: اور جو بات تمہارے لیے واضح کرتی ہے کہ مولیٰ سے مراد ہر ولی ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ حدیث ہے: ”جو عورت بھی اپنے مولیٰ کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح باطل ہے۔“ اس میں مولیٰ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ولی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿يَوْمَ لَا يُغْنِي مَوْلًى عَنْ مَوْلًى شَيْئًا﴾ ”جس دن کوئی مولیٰ کسی مولیٰ کے کچھ کام نہ آئے گا۔“ [سورة الدخان: 41] کیا تم سمجھتے ہو کہ اس سے صرف چچا زاد مراد ہے، گھر کے باقی افراد نہیں؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13600]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13601
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى، ثنا بَقِيَّةُ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ قَالَ: قَالَ لِيَ ⦗١٧٠⦘ الزُّهْرِيُّ: إِنَّ مَكْحُولًا يَأْتِينَا وَسُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى وَايْمُ اللهِ إِنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى لَأَحْفَظُ الرَّجُلَيْنِ.
سند کی بحث ہے۔ امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مکحول رحمہ اللہ ہمارے اور سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ کے پاس آتا تھا، اللہ کی قسم! سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ ان دونوں سے زیادہ ثقہ راوی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13601]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13602
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأُشْنَانِيُّ قَالُوا: أَنْبَأَ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدُوسٍ قَالَ: سَمِعْتُ عُثْمَانَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ يَقُولُ: قُلْتُ لِيَحْيَى بْنِ مَعِينٍ: فَمَا حَالُ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى فِي الزُّهْرِيِّ، فَقَالَ: ثِقَةٌ.
اس میں بھی سند پر بحث کی گئی ہے۔ عثمان بن سعید دارمی رحمہ اللہ نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے امام زہری رحمہ اللہ سے روایت میں سلیمان بن موسیٰ رحمہ اللہ کا حال پوچھا تو انہوں نے کہا: وہ ثقہ ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13602]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13603
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ وَذُكِرَ عِنْدَهُ أَنَّ ابْنَ عُلَيَّةَ، يَذْكُرُ حَدِيثَ ابْنِ جُرَيْجٍ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ"، قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَلَقِيتُ الزُّهْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ عَنْهُ فَلَمْ يَعْرِفْهُ، وَأَثْنَى عَلَى سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، فَقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: إِنَّ جُرَيْجًا لَهُ كُتُبٌ مُدَوَّنَةٌ وَلَيْسَ هَذَا فِي كُتُبِهِ يَعْنِي حِكَايَةَ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ.
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کے پاس ابن علیہ کا تذکرہ کیا گیا کہ وہ ابن جریج سے حدیث بیان کرتا ہے: «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» ”ولی کے بغیر نکاح نہیں ہوتا“، ابن جریج کہتے ہیں کہ میں زہری سے ملا اور اس کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا: میں اس کو نہیں جانتا البتہ سلیمان بن موسیٰ کی تعریف کی، تو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے کہا کہ ابن جریج کے پاس مدون کتب تھیں، لیکن ان کتب میں ابن علیہ کا ابن جریج سے روایت کرنا موجود نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13603]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13604
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ: سَمِعْتُ الْعَبَّاسَ بْنَ مُحَمَّدٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يَقُولُ فِي حَدِيثِ:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ" الَّذِي يَرْوِيهِ ابْنُ جُرَيْجٍ، قُلْتُ لَهُ: ابْنُ عُلَيَّةَ يَقُولُ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: فَسَأَلْتُ عَنْهُ الزُّهْرِيَّ، فَقَالَ: لَسْتُ أَحْفَظُهُ، فَقَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ: لَيْسَ يَقُولُ هَذَا إِلَّا ابْنُ عُلَيَّةَ، وَإِنَّمَا⦗١٧١⦘ عَرَضَ ابْنُ عُلَيَّةَ كُتُبَ ابْنِ جُرَيْجٍ عَلَى عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ فَأَصْلَحَهَا، فَقُلْتُ لِيَحْيَى: مَا كُنْتُ أَظُنُّ أَنَّ عَبْدَ الْمَجِيدِ هَكَذَا، فَقَالَ: كَانَ أَعْلَمَ النَّاسِ بِحَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ وَلَكِنَّهُ لَمْ يَبْذُلْ نَفْسَهُ لِلْحَدِيثِ.
عباس بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کو اس روایت کے متعلق کہتے ہوئے سنا «لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ» ”ولی کے بغیر کوئی نکاح نہیں“ جس کو ابن جریج رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ ابن علیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن جریج رحمہ اللہ نے کہا: میں نے امام زہری رحمہ اللہ سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے کہا: مجھے یاد نہیں۔ یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے کہا: یہ بات صرف ابن علیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں۔ ابن علیہ رحمہ اللہ نے ابن جریج رحمہ اللہ کی کتابیں عبدالمجید بن عبدالعزیز بن ابی رواد پر پیش کیں تو انہوں نے ان کی اصلاح کی۔ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ سے کہا کہ میرا گمان نہیں تھا کہ عبدالمجید رحمہ اللہ ایسے ہیں، تو انہوں نے کہا: وہ عبدالمجید رحمہ اللہ ابن جریج رحمہ اللہ کی روایت کو سب سے زیادہ جاننے والے تھے لیکن انہوں نے اپنے آپ کو حدیث (کی روایت) کے لیے وقف نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13604]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13605
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ مُحَمَّدَ بْنَ هَارُونَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَعْفَرَ الطَّيَالِسِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ يُوهِنُ رِوَايَةَ ابْنِ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَنَّهُ أَنْكَرَ مَعْرِفَةَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى، وَقَالَ: لَمْ يَذْكُرْهُ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، غَيْرُ ابْنِ عُلَيَّةَ، وَإِنَّمَا سَمِعَ ابْنُ عُلَيَّةَ، مِنِ ابْنِ جُرَيْجٍ سَمَاعًا لَيْسَ بِذَاكَ إِنَّمَا صَحَّحَ كُتُبَهُ عَلَى كُتُبِ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَضَعَّفَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ رِوَايَةَ إِسْمَاعِيلَ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ جِدًّا.
جعفر طیالسی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے یحییٰ بن معین رحمہ اللہ کو ابن علیہ کی ابن جریج سے اس روایت کو کمزور قرار دیتے ہوئے سنا کہ انہوں نے (یعنی زہری نے) سلیمان بن موسیٰ کی حدیث کو پہچاننے سے انکار کیا، اور انہوں نے کہا: اسے ابن جریج سے ابن علیہ کے علاوہ کسی نے ذکر نہیں کیا، اور ابن علیہ کا ابن جریج سے سماع کچھ (معتبر) نہیں، انہوں نے تو صرف اپنی کتابوں کی تصحیح عبدالمجید بن عبدالعزیز کی کتابوں سے کی تھی۔ اور یحییٰ بن معین رحمہ اللہ نے اسماعیل (بن علیہ) کی ابن جریج سے روایت کو بہت زیادہ ضعیف قرار دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13605]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں