🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2843. -- باب: ما جاء في إنكاح الثيب
-- باب: شوہر دیدہ (بیوہ یا مطلقہ) عورت کے نکاح کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13687
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ بْنِ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ ابْنُ أَبِي عَاصِمٍ، ثنا دُحَيْمٌ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا شَيْبَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْكَحَ ابْنَةً لَهُ ثَيِّبًا كَانَتْ عِنْدَ رَجُلٍ فَكَرِهَتْ ذَلِكَ، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ فَرَدَّ نِكَاحَهَا" وَرَوَاهُ عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، وَسَمَّى الْمَرْأَةَ خَنْسَاءَ بِنْتَ خِدَامٍ، فَذَكَرَهُ مُرْسَلًا وَقَدْ قِيلَ عَنْهُ مَوْصُولًا وَالْمُرْسَلُ لَهُ أَصَحُّ وَفِيمَا مَضَى مِنَ الْمَوْصُولِ كِفَايَةٌ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی نے اپنی شادی شدہ بیٹی کا، جو پہلے ایک آدمی کے نکاح میں رہ چکی تھی، نکاح کر دیا تو اس نے اسے ناپسند کیا، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح رد کر دیا۔
عمر بن ابی سلمہ نے اسے اپنے والد سے روایت کیا اور اس عورت کا نام خنساء بنت خذام بتایا اور اسے مرسل ذکر کیا، اور ان سے موصول بھی بیان کیا گیا ہے، لیکن ان سے مرسل زیادہ صحیح ہے، اور گزشتہ موصول روایات کافی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13687]
تخریج الحدیث: «منكر»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13688
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ الْبُوزَنَجِرْدِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ" امْرَأَةً تُوُفِّيَ زَوْجُهَا وَلَهَا مِنْهُ وَلَدٌ، فَخَطَبَهَا عَمُّ وَلَدِهَا إِلَى وَالِدِهَا، فَقَالَ لَهُ: زَوِّجْنِيهَا، فَأَبَى، فَزَوَّجَهَا غَيْرَهُ بِغَيْرِ رَضًا مِنْهَا، فَأَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" أَزَوَّجْتَهَا غَيْرَ عَمِّ وَلَدِهَا؟" قَالَ: نَعَمْ زَوَّجْتُهَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ لَهَا مِنْ عَمِّ وَلَدِهَا، فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا وَزَوَّجَهَا عَمَّ وَلَدِهَا كَذَا قَالَ".
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا، اس کا ایک لڑکا تھا۔ لڑکے کے چچا نے اس عورت سے منگنی کا پیغام اس کے والد کی طرف بھیجا کہ تو اس کی شادی مجھ سے کر دے تو اس نے انکار کر دیا، اس نے اس عورت کی شادی اس کی رضامندی کے بغیر کر دی تو وہ عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور سارا واقعہ ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی طرف آدمی بھیجا پھر کہا: ”کیا تو نے اس کی شادی اس کے بیٹے کے چچا کے علاوہ کسی اور سے کر دی؟“ اس نے کہا: جی ہاں، میں نے اس کی شادی اس کے بیٹے کے چچا سے بہتر لڑکے سے کر دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں میں تفریق کر دی اور اس کے بیٹے کے چچا سے اس کی شادی کر دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13688]
تخریج الحدیث: «منكر»

الحكم على الحديث: منكر
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13689
وَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنبأ أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدُ آبَادِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ، ثنا عَبْدُ الصَّمَدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ امْرَأَةً أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنَّ أَبِي زَوَّجَنِي، وَأَنَا كَارِهَةٌ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَزَوَّجَ عَمَّ وَلَدِي قَالَ: فَرَدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِكَاحَهُ" هَذَا هُوَ الصَّحِيحُ مُرْسَلٌ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ.
ابو سلمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک عورت آئی، اس نے عرض کیا: میرے والد نے میری شادی ایسی جگہ پر کی ہے جس کو میں ناپسند کرتی ہوں، میں اپنے بیٹے کے چچا سے شادی کرنا چاہتی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا نکاح رد کر دیا۔
یہی صحیح ہے کہ یہ ابوسلمہ سے مرسل ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13689]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں