السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2856. -- باب: الابن يزوجها إذا كان عصبة لها بغير البنوة
-- باب: اس بیان میں کہ بیٹا اس عورت کا نکاح کروا سکتا ہے جب وہ بیٹے کے رشتے کے علاوہ کسی اور جہت سے اس کا عصبہ (ولی) بنتا ہو۔
حدیث نمبر: 13752
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أنبأ حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو يَعْلَى الْمَوْصِلِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، حَدَّثَنِي ابْنُ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَصَابَتْهُ مُصِيبَةٌ، فَلْيَقُلْ إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ، اللهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَأْجُرْنِي فِيهَا وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا"، فَلَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُهَا، فَجَعَلْتُ كُلَّمَا طَلَبْتُ أَبْدَلَنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا قُلْتُ فِي نَفْسِي، وَمَنْ خَيْرٌ مِنْ أَبِي سَلَمَةَ؟ ثُمَّ قُلْتُهَا، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَعَثَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَخْطُبُهَا عَلَيْهِ، فَقَالَتْ لِابْنِهَا: يَا عُمَرُ قُمْ، فَزَوِّجْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَزَوَّجَهُ" لَفْظُ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ اللهِ، وَلَيْسَ فِي رِوَايَةِ الْأَصْبَهَانِيِّ ذِكْرُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَلَا ذِكْرُ الْعِدَّةِ، وَلَكِنْ قَالَ: قَالَتْ: فَخَطَبَنِي رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْ أَوْلِيَائِي شَاهِدٌ قَالَ: إِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْهُمْ شَاهِدٌ، وَلَا غَائِبٌ إِلَّا سَيَرْضَى بِهِ، فَقُلْتُ: يَا عُمَرُ قُمْ فَزَوِّجْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَعُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ كَانَ عَصَبَةً لَهَا، وَذَاكَ لِأَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ هِيَ هِنْدُ بِنْتُ أَبِي أُمَيَّةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ، وَعُمَرُ هُوَ ابْنُ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَبُو سَلَمَةَ اسْمُهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْأَسَدِ بْنِ هِلَالِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ مَخْزُومٍ.
ابن عمر بن ابی سلمہ اپنے والد (عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ) سے اور وہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس کو مصیبت پہنچے وہ «إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ”بے شک ہم اللہ ہی کے لیے ہیں اور ہم اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں“ پڑھے۔ (اور یہ کہے:) «اللَّهُمَّ عِنْدَكَ أَحْتَسِبُ مُصِيبَتِي، فَأْجُرْنِي فِيهَا، وَأَبْدِلْنِي بِهَا خَيْرًا مِنْهَا» ”اے اللہ! میں اپنی مصیبت پر تیری جانب سے صبر (کے ثواب) کی امید رکھتی ہوں، اس مصیبت میں مجھے اجر دے اور مجھے اس سے اچھا نعم البدل عطا فرما۔““ (ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:) جب ابو سلمہ رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو میں نے یہ کلمات کہنے شروع کر دیے۔ لیکن جب بھی میں ان کے نعم البدل کا تذکرہ کرتی تو اپنے دل میں سوچتی کہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ سے بہتر کون ہوگا؟ پھر میں یہ کلمات کہتی رہی۔ جب عدت مکمل ہوگئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو پیغامِ نکاح دے کر بھیجا تو ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے اپنے بیٹے سے کہا: اے عمر! کھڑے ہو جاؤ، آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کر دیں، تو انہوں نے آپ کا نکاح کر دیا۔
(ب) یہ ابو عبداللہ رحمہ اللہ کی حدیث ہے، لیکن اصبہانی کی روایت میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عدت کا تذکرہ نہیں ہے۔ لیکن اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا۔ میں نے کہا: میرے ولیوں میں سے کوئی موجود نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی (ولی) موجود یا غائب ایسا نہیں جو میرے اس نکاح پر راضی نہ ہو۔“ میں نے کہا: اے عمر! کھڑے ہو جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کر دو۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ ان کا عصبہ بھی تھا؛ کیونکہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا نسب نامہ یہ ہے: ہند بنت ابی امیہ بن المغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم اور عمر یہ ابن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ ہیں اور ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13752]
(ب) یہ ابو عبداللہ رحمہ اللہ کی حدیث ہے، لیکن اصبہانی کی روایت میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اور عدت کا تذکرہ نہیں ہے۔ لیکن اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے نکاح کا پیغام دیا۔ میں نے کہا: میرے ولیوں میں سے کوئی موجود نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی (ولی) موجود یا غائب ایسا نہیں جو میرے اس نکاح پر راضی نہ ہو۔“ میں نے کہا: اے عمر! کھڑے ہو جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نکاح کر دو۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ ان کا عصبہ بھی تھا؛ کیونکہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا نسب نامہ یہ ہے: ہند بنت ابی امیہ بن المغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم اور عمر یہ ابن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ ہیں اور ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عبدالاسد بن ہلال بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13752]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ او اصله في الصحيح لغير هذا۔ وانظر الاروآ 1819»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13753
أَخْبَرَنَا بِذَلِكَ أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، أنبأ عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي مَنِيعٍ، حَدَّثَنِي جَدِّي، عَنِ الزُّهْرِيِّ، فَذَكَرَهُ وَسَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ الْأَرْدَسْتَانِيَّ يَقُولُ: سَمِعْتُ أَبَا نَصْرٍ الْكَلَابَاذِيَّ الْحَافِظَ رَحِمَهُ اللهُ، يَقُولُ:" عُمَرُ بْنُ أَبِي سَلَمَةَ تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ تِسْعِ سِنِينَ وَمَاتَ فِي خِلَافَةِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ".
حافظ ابو نصر کلاباذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ نو سال کے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ عبدالملک بن مروان کی خلافت میں فوت ہوئے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13753]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13754
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو جَعْفَرٍ الرَّزَّازُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ، ثنا الْوَاقِدِيُّ، ثنا عُمَرُ بْنُ عُثْمَانَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ أُمَّ سَلَمَةَ قَالَ:" مُرِي ابْنَكِ أَنْ يُزَوِّجَكِ، أَوْ قَالَ: زَوَّجَهَا ابْنُهَا وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صَغِيرٌ لَمْ يَبْلُغْ"، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَابِ النِّكَاحِ مَا لَمْ يَكُنْ لِغَيْرِهِ.
سلمہ بن عبداللہ بن سلمہ بن ابی سلمہ اپنے والد سے اور وہ دادا رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے بیٹے کو حکم دے کہ وہ تیرا نکاح کر دے“ یا فرمایا: ”اس کے بیٹے نے نکاح کر دیا“ وہ ابھی بالغ بھی نہ ہوئے تھے۔
شیخ فرماتے ہیں: نکاح کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ (خصوصیات) حاصل تھیں جو آپ کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہ تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13754]
شیخ فرماتے ہیں: نکاح کے معاملے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو وہ (خصوصیات) حاصل تھیں جو آپ کے علاوہ کسی اور کو حاصل نہ تھیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13754]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13755
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ خَطَبَ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ إِلَهَكَ الَّذِي تَعْبُدُ خَشَبَةٌ تَنْبُتُ مِنَ الْأَرْضِ نَجَرَهَا حَبَشِيُّ بَنِي فُلَانٍ؟ إِنْ أَنْتَ أَسْلَمْتَ لَمْ أُرِدْ مِنْكَ مِنَ الصَّدَاقِ غَيْرَهُ قَالَ: حَتَّى أَنْظُرَ فِي أَمْرِي قَالَ: فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، قَالَتْ: يَا أَنَسُ زَوِّجْ أَبَا طَلْحَةَ"، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ابْنُهَا وَعَصَبَتُهَا فَإِنَّهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّضْرِ بْنِ ضَمْضَمِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَرَامٍ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ هِيَ ابْنَةُ مِلْحَانَ بْنِ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ”اے ابو طلحہ! کیا آپ جانتے نہیں کہ جس کی آپ عبادت کرتے ہیں، وہ لکڑی کا ہے جو زمین سے اگتی ہے؟ اسے بنو فلاں کے ایک حبشی نے تراشا ہے، اگر آپ اسلام قبول کر لیں تو میں اس کے علاوہ آپ سے حق مہر کا مطالبہ نہیں کروں گی۔“ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: (ٹھہرو) یہاں تک کہ میں اپنے معاملے میں غور کر لوں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ چلے گئے پھر دوبارہ آئے تو کہنے لگے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے انس! ابو طلحہ کا نکاح کر دو۔“
شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بیٹے اور عصبہ بھی ہیں کیونکہ انس بن مالک بن نصر بن ضمضم بن زید بن حرام بنو عدی بن النجار؛ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ملحان بن خالد بن یزید کی صاحبزادی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13755]
شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بیٹے اور عصبہ بھی ہیں کیونکہ انس بن مالک بن نصر بن ضمضم بن زید بن حرام بنو عدی بن النجار؛ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ملحان بن خالد بن یزید کی صاحبزادی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13755]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون قوله (قالت يا انس)»
الحكم على الحديث: صحيح