السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2856. -- باب: الابن يزوجها إذا كان عصبة لها بغير البنوة
-- باب: اس بیان میں کہ بیٹا اس عورت کا نکاح کروا سکتا ہے جب وہ بیٹے کے رشتے کے علاوہ کسی اور جہت سے اس کا عصبہ (ولی) بنتا ہو۔
حدیث نمبر: 13755
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ قَالَا: ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ خَطَبَ أُمَّ سُلَيْمٍ، فَقَالَتْ: يَا أَبَا طَلْحَةَ أَلَسْتَ تَعْلَمُ أَنَّ إِلَهَكَ الَّذِي تَعْبُدُ خَشَبَةٌ تَنْبُتُ مِنَ الْأَرْضِ نَجَرَهَا حَبَشِيُّ بَنِي فُلَانٍ؟ إِنْ أَنْتَ أَسْلَمْتَ لَمْ أُرِدْ مِنْكَ مِنَ الصَّدَاقِ غَيْرَهُ قَالَ: حَتَّى أَنْظُرَ فِي أَمْرِي قَالَ: فَذَهَبَ ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللهِ، قَالَتْ: يَا أَنَسُ زَوِّجْ أَبَا طَلْحَةَ"، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَنَسُ بْنُ مَالِكٍ ابْنُهَا وَعَصَبَتُهَا فَإِنَّهُ أَنَسُ بْنُ مَالِكِ بْنِ النَّضْرِ بْنِ ضَمْضَمِ بْنِ زَيْدِ بْنِ حَرَامٍ مِنْ بَنِي عَدِيِّ بْنِ النَّجَّارِ، وَأُمُّ سُلَيْمٍ هِيَ ابْنَةُ مِلْحَانَ بْنِ خَالِدِ بْنِ يَزِيدَ، وَاللهُ تَعَالَى أَعْلَمُ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کہنے لگیں: ”اے ابو طلحہ! کیا آپ جانتے نہیں کہ جس کی آپ عبادت کرتے ہیں، وہ لکڑی کا ہے جو زمین سے اگتی ہے؟ اسے بنو فلاں کے ایک حبشی نے تراشا ہے، اگر آپ اسلام قبول کر لیں تو میں اس کے علاوہ آپ سے حق مہر کا مطالبہ نہیں کروں گی۔“ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہنے لگے: (ٹھہرو) یہاں تک کہ میں اپنے معاملے میں غور کر لوں۔ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ چلے گئے پھر دوبارہ آئے تو کہنے لگے: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔“ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے کہا: ”اے انس! ابو طلحہ کا نکاح کر دو۔“
شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بیٹے اور عصبہ بھی ہیں کیونکہ انس بن مالک بن نصر بن ضمضم بن زید بن حرام بنو عدی بن النجار؛ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ملحان بن خالد بن یزید کی صاحبزادی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13755]
شیخ فرماتے ہیں کہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے بیٹے اور عصبہ بھی ہیں کیونکہ انس بن مالک بن نصر بن ضمضم بن زید بن حرام بنو عدی بن النجار؛ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا ملحان بن خالد بن یزید کی صاحبزادی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب النكاح/حدیث: 13755]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون قوله (قالت يا انس)»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 13755 in Urdu