🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2866. -- باب: ما جاء في عضل الولي والمرأة تدعو إلى كفاءة
-- باب: ولی کے نکاح سے روکنے (عضل) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان، درآں حالیکہ عورت ہمسر (کفو) کی طرف بلا رہی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q13790
قَالَ اللهُ تَعَالَى وَهُوَ أَصْدَقُ الْقَائِلِينَ: {فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ} [البقرة: 232] .
اللہ تعالیٰ نے، اور وہ سب کہنے والوں سے زیادہ سچا ہے، فرمایا: ﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ ”تو انہیں اپنے (سابقہ) شوہروں سے نکاح کرنے سے نہ روکو۔“ [سورة البقرة: 232] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: Q13790]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13790
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَفْصِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي قَوْلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ: {فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ} [البقرة: ٢٣٢] قَالَ: حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ الْمُزَنِيُّ أَنَّهَا نَزَلَتْ فِيهِ قَالَ:" كُنْتُ زَوَّجْتُ أُخْتًا لِي مِنْ رَجُلٍ، فَطَلَّقَهَا حَتَّى إِذَا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا جَاءَ، فَخَطَبَهَا، فَقُلْتُ لَهُ: زَوَّجْتُكَ وَأَفْرَشْتُكَ وَأَكْرَمْتُكَ، فَطَلَّقْتَهَا، ثُمَّ جِئْتَ تَخْطُبُهَا، لَا وَاللهِ لَا تَعُودُ إِلَيْهَا أَبَدًا قَالَ: وَكَانَ رَجُلًا لَا بَأْسَ بِهِ وَكَانَتِ امْرَأَتُهُ تُرِيدُ أَنْ تَرْجِعَ إِلَيْهِ قَالَ: فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ هَذِهِ الْآيَةَ، فَقُلْتُ: الْآنَ أَفْعَلُ يَا رَسُولَ اللهِ فَزَوَّجْتُهَا إِيَّاهُ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ حَفْصٍ.
حضرت حسن رحمہ اللہ اللہ تعالیٰ کے اس قول ﴿فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ﴾ [سورة البقرة: 232] ”تم ان عورتوں کو مت روکو جو اپنے خاوندوں سے نکاح کرنا چاہیں۔“ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ مجھے سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی کہ میں نے اپنی بہن کا نکاح ایک مرد سے کر دیا، اس نے طلاق دے دی، جب اس کی عدت ختم ہوئی تو اس نے دوبارہ نکاح کا پیغام دیا۔ میں نے اس سے کہا: میں نے تیرا نکاح کیا اور تیری عزت کی لیکن تو نے طلاق دے دی۔ پھر نکاح کا پیغام لے کر آگئے ہو۔ اللہ کی قسم! اب تو اس کی طرف کبھی نہ لوٹے گا۔ راوی کہتے ہیں: آدمی میں کوئی عیب بھی نہ تھا اور عورت بھی واپسی کا ارادہ رکھتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اب میں نے اس کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13790]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 1530»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13791
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ بِهَمَذَانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السَّمُرِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ مُوسَى، يَقُولُ: ثنا الزُّهْرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ مَوَالِيهَا، ⦗٢٢٤⦘ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ أَصَابَهَا، فَلَهَا مَهْرُهَا بِمَا أَصَابَهَا، وَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ" وَرُوِّينَا عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللهِ، وَشُرَيْحٍ، قَالُوا:" لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ إِلَّا امْرَأَةً يَعْضِلُهَا الْوَلِيُّ فَتَأْتِي السُّلْطَانَ أَوِ الْقَاضِيَ" وَعَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ قَالَ: كَتَبَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِنْ كَانَ كُفُؤًا، فَقُولُوا لِأَبِيهَا يُزَوِّجُهَا، فَإِنْ أَبَى، فَزَوِّجُوهَا، وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ، وَاللهُ أَعْلَمُ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جس عورت نے اپنے اولیاء کی اجازت کے بغیر نکاح کر لیا، اس کا نکاح باطل ہے، اس کا نکاح باطل ہے۔ اگر خاوند نے ہمبستری کر لی تو عورت کے لیے حق مہر ہے، اگر ولی آپس میں جھگڑا کریں تو بادشاہ اس کا ولی ہے جس کا کوئی ولی نہیں۔“
(ب) مجالد، شعبی سے اور وہ سیدنا علی اور سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما اور شریح سے نقل فرماتے ہیں کہ نکاح ولی کے بغیر جائز نہیں، مگر وہ عورت جس کو اس کا ولی روکے تو وہ بادشاہ یا قاضی کے پاس آ جائے۔
(ج) زیاد بن علاقہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے لکھا: اگر کفو موجود ہو تو عورت کے باپ سے کہو کہ ان کی شادی کر دیں، اگر وہ انکار کرے تو تم اس کی شادی کر دو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13791]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ انظر الارواء 1340»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں