السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2887. -- باب: ما جاء في تسري العبد
-- باب: غلام کے لونڈی رکھنے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13853
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثَنِي سُفْيَانُ عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ قَالَ: كَانَ عَبِيدُ ابْنِ عُمَرَ يَتَسَرُّونَ فَلَا يَعِيبُ عَلَيْهِمْ.
سیدنا نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام لونڈیوں سے شادی کرتے تھے اور وہ ان پر عیب نہ لگاتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13853]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13854
وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ نُجَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ:" لَا يَطَأُ الرَّجُلُ وَلِيدَةً، إِلَّا وَلِيدَةً إِنْ شَاءَ بَاعَهَا، وَإِنْ شَاءَ وَهَبَهَا، وَإِنْ شَاءَ صَنَعَ بِهَا مَا شَاءَ"، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: قَدْ مَنَعَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ الْعَبْدَ مِنَ التَّسَرِّي فِي الْجَدِيدِ وَعَارَضَ الْأَثَرَ الْأَوَّلَ بِهَذَا، وَهَذَا إِنَّمَا قَالَهُ ابْنُ عُمَرَ فِي الْحُرِّ، إِذَا اشْتَرَى وَلِيدَةً، بِشَرْطٍ فَاسِدٍ.
حضرت نافع رحمہ اللہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ کوئی مرد لونڈی سے مجامعت نہ کرے، سوائے اس لونڈی کے جسے وہ چاہے تو فروخت کر دے، چاہے تو ہبہ کر دے اور چاہے تو اس کے ساتھ جو سلوک چاہے کرے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے جدید قول میں غلام کی لونڈی سے شادی کی ممانعت ہے اور انہوں نے پہلے اثر کا اس اثر سے معارضہ کیا ہے، حالانکہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس آزاد شخص کے بارے میں فرماتے ہیں، جو لونڈی فاسد شرط کے ذریعے خریدتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13854]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کے جدید قول میں غلام کی لونڈی سے شادی کی ممانعت ہے اور انہوں نے پہلے اثر کا اس اثر سے معارضہ کیا ہے، حالانکہ یہ ابن عمر رضی اللہ عنہما اس آزاد شخص کے بارے میں فرماتے ہیں، جو لونڈی فاسد شرط کے ذریعے خریدتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13854]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبل الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13855
فَقَدْ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" لَا يَحِلُّ لِرَجُلٍ أَنْ يَطَأَ فَرْجًا إِلَّا فَرْجًا، إِنْ شَاءَ وَهَبَهُ، وَإِنْ شَاءَ بَاعَهُ وَإِنْ شَاءَ أَعْتَقَهُ، لَيْسَ فِيهِ شَرْطٌ"، أَخْبَرَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ إِسْمَاعِيلُ الصَّفَّارُ، ثنا ابْنُ عَفَّانَ، ثنا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ فَذَكَرَهُ.
سیدنا نافع، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”کوئی شخص لونڈی سے مجامعت نہ کرے لیکن اس کو فروخت کر دے یا ہبہ کر دے، یا آزاد کر دے، اس میں شرط نہیں ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13855]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13856
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ قَالَ: زَوَّجَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَبْدًا لَهُ وَلِيدَةً لَهُ، فَطَلَّقَهَا، فَقَالَ:" ارْجِعْ فَأَبَى" قَالَ: فَقَالَ:" هِيَ لَكَ طَأْهَا بِمِلْكِ يَمِينِكَ"، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فِي الْجَدِيدِ: وَابْنُ عَبَّاسٍ، إِنَّمَا قَالَ ذَلِكَ لِعَبْدٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَقَالَ: لَيْسَ لَكَ طَلَاقٌ، وَأَمَرَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا، فَأَبَى، فَقَالَ: فَهِيَ لَكَ فَاسْتَحِلَّهَا بِمِلْكِ الْيَمِينِ، يُرِيدُ أَنَّهَا لَهُ حَلَالٌ بِالنِّكَاحِ وَلَا طَلَاقَ لَهُ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هُوَ كَمَا قَالَ.
ابو معبد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کی شادی لونڈی سے کردی تو اس نے طلاق دے دی۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”رجوع کرو“، اس نے انکار کردیا۔ راوی کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”یہ تیری ملکیت ہے تو اس سے مجامعت کر“، ان کی مراد یہ تھی کہ یہ نکاح کی وجہ سے حلال ہوگئی ہے اور طلاق کا اختیار نہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ اپنے جدید قول میں فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام سے کہا، جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی کہ ”تیری طلاق نہیں، اپنی بیوی کو روکے رکھ۔“ تو اس نے انکار کردیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا مقصد یہ تھا کہ یہ تیرے لیے نکاح کی وجہ سے حلال ہے، اس پر طلاق نہیں ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بات ویسے ہی ہے جیسے انہوں نے فرمائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13856]
امام شافعی رحمہ اللہ اپنے جدید قول میں فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام سے کہا، جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی کہ ”تیری طلاق نہیں، اپنی بیوی کو روکے رکھ۔“ تو اس نے انکار کردیا۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا مقصد یہ تھا کہ یہ تیرے لیے نکاح کی وجہ سے حلال ہے، اس پر طلاق نہیں ہے۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بات ویسے ہی ہے جیسے انہوں نے فرمائی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13856]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13857
فَقَدْ رَوَى عَطَاءٌ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" الْأَمْرُ إِلَى الْمَوْلَى أُذِنَ لَهُ، أَوْ لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ وَيَتْلُو هَذِهِ الْآيَةَ: {ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ} [النحل: ٧٥] "، ⦗٢٤٦⦘ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ مَنْصُورٌ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فَذَكَرَهُ، وَقَدْ رُوِيَ فِي حَدِيثِ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ.
عطاء، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ فرمایا کرتے تھے: ”معاملہ مالک کے اختیار میں ہے، خواہ غلام کو اجازت دی گئی ہو یا نہ دی گئی ہو۔“ پھر اس آیت کی تلاوت کی: ﴿ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ﴾ [سورة النحل: 75] ”اللہ نے ایسے غلام کی مثال بیان کی جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔“
ابو معبد کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت میں بھی ایسی بات منقول ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13857]
ابو معبد کی ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت میں بھی ایسی بات منقول ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13857]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 800»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13858
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو حَازِمٍ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ هُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ،" أَنَّ غُلَامًا لِابْنِ عَبَّاسٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَتَيْنِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" أَرْجِعْهَا فَأَبَى" قَالَ:" هِيَ لَكَ اسْتَحِلَّهَا بِمِلْكِ الْيَمِينِ"، فِي هَذَا دَلَالَةٌ عَلَى أَنَّهُ إِنَّمَا أَمَرَ بِالرُّجُوعِ إِلَيْهَا بَعْدَ تَطْلِيقَتَيْنِ، وَلَا رَجْعَةَ لِلْعَبْدِ بَعْدَهُمَا، فَكَأَنَّهُ اعْتَقَدَ أَنَّ الطَّلَاقَ لَمْ يَقَعْ، حَيْثُ لَمْ يَأْذَنْ فِيهِ، فَحِينَ أَبَى قَالَ: هِيَ لَكَ اسْتَحِلَّهَا بِمِلْكِ الْيَمِينِ، وَمَذْهَبُ الْجَمَاعَةِ عَلَى صِحَّةِ طَلَاقِهِ وَاللهُ أَعْلَمُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: إِنَّمَا أَحَلَّ اللهُ التَّسَرِّيَ لِلْمَالِكِينَ، وَلَا يَكُونُ الْعَبْدُ مَالِكًا بِحَالٍ قَالَ اللهُ تَعَالَى: {ضَرَبَ اللهُ مَثَلًا عَبْدًا مَمْلُوكًا لَا يَقْدِرُ عَلَى شَيْءٍ} [النحل: ٧٥] ، وَذَكَرَ مَا رَوَيْنَا فِي كِتَابِ الْبُيُوعِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ بَاعَ عَبْدًا لَهُ مَالٌ، فَمَالُهُ لِلْبَائِعِ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ".
ابو معبد فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا ایک غلام تھا، اس نے اپنی بیوی کو دو طلاقیں دے دیں، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رجوع کرو۔ اس نے انکار کر دیا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ تیری ملکیت ہونے کی وجہ سے حلال ہے (یعنی نکاح کی وجہ سے)
دلالت: یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دو طلاقوں کے بعد غلام کو رجوع کا حکم دیا لیکن اس نے انکار کر دیا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا اعتقاد تھا کہ غلام بغیر اجازت کے طلاق نہیں دے سکتا، اس لیے تو فرمایا: یہ تمہاری ملکیت ہے (یعنی نکاح کی وجہ سے) حالانکہ ایک جماعت کا اتفاق ہے کہ اس کی طلاق درست ہے۔ واللہ اعلم
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مالکوں کو لونڈی سے شادی کرنا جائز رکھا ہے اور غلام کسی حال میں بھی مالک نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ﴾ [سورة النحل: 75] ”اللہ نے ایسے غلام کی مثال بیان کی جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔“
(ب) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غلام فروخت کیا اور غلام کا مال بھی تھا تو مال فروخت کرنے والے کا ہے، الا یہ کہ خریدنے والا شرط لگا لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13858]
دلالت: یہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے دو طلاقوں کے بعد غلام کو رجوع کا حکم دیا لیکن اس نے انکار کر دیا تو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا اعتقاد تھا کہ غلام بغیر اجازت کے طلاق نہیں دے سکتا، اس لیے تو فرمایا: یہ تمہاری ملکیت ہے (یعنی نکاح کی وجہ سے) حالانکہ ایک جماعت کا اتفاق ہے کہ اس کی طلاق درست ہے۔ واللہ اعلم
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مالکوں کو لونڈی سے شادی کرنا جائز رکھا ہے اور غلام کسی حال میں بھی مالک نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا عَبْدًا مَّمْلُوكًا لَّا يَقْدِرُ عَلَىٰ شَيْءٍ﴾ [سورة النحل: 75] ”اللہ نے ایسے غلام کی مثال بیان کی جو کسی چیز پر قدرت نہیں رکھتا۔“
(ب) حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے غلام فروخت کیا اور غلام کا مال بھی تھا تو مال فروخت کرنے والے کا ہے، الا یہ کہ خریدنے والا شرط لگا لے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13858]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبل الذي قبله»
الحكم على الحديث: صحيح