🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2889. -- باب: ما يستدل به على قصر الآية على ما نزلت فيه أو نسخها
-- باب: اس بات پر دلالت کرنے والی روایات کا بیان کہ یہ آیت اپنے شانِ نزول تک محدود ہے یا منسوخ ہو چکی ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13880
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا خَرَجَ عَلَيْهِمَا وَرَأْسُهُ يَقْطُرُ، وَقَدْ كَانَ حَدَّثَهُمْ أَنَّهُ صَائِمٌ، فَقَالَ:" إِنَّهَا كَانَتْ حَسَنَةً هَمَمْتُ بِهَا، وَأَنَا قَاضِيهَا يَوْمًا آخَرَ، وَرَأَيْتُ جَارِيَةً لِي فَأَعْجَبَتْنِي فَغَشِيتُهَا أَمَا إِنِّي أَزِيدُكُمْ أَنَّهَا كَانَتْ بَغَتْ، فَأَرَدْتُ أَنْ أُحَصِّنَهَا"، ⦗٢٥٢⦘ وَرُوِيَ عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ قَالَ:" اعْلَمْ أَنَّ اللهَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ مِنْهُمَا جَمِيعًا كَمَا يَقْبَلُ مِنْهُمَا وَهُمَا مُتَفَرِّقَانِ، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" إِنْ لَمْ تَنْفَعْهُمَا تَوْبَتُهُمَا جَمِيعًا لَمْ تَنْفَعْهُمَا وَهُمَا مُتَفَرِّقَانِ قَالَ: وَقَرَأَ {إِنَّ اللهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ}".
سعید بن ابی الحسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ان کے پاس آئے اور سر سے پانی کے قطرے بہہ رہے تھے، اس نے ان کو بیان کیا کہ وہ روزہ دار تھے، کہتے ہیں: ”یہ (نفلی روزہ) ایک نیکی تھی جس کا میں نے ارادہ کیا تھا، اور میں کسی دوسرے دن اس کی قضا کر لوں گا۔ میں نے اپنی ایک لونڈی دیکھی جو مجھے اچھی لگی تو اس سے مجامعت کر لی۔“ کہتے ہیں: ”میں تمہیں مزید بیان کرنا چاہتا ہوں وہ زانیہ تھی، میں اس کو پاک دامن بنانا چاہتا تھا۔“
(ب) ابو مجلز رحمہ اللہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان دونوں کی توبہ قبول فرما لیں گے جیسے ان دونوں کی الگ الگ توبہ قبول فرماتے ہیں۔
(ج) سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگر ان دونوں کو اکٹھے توبہ نفع نہ دے گی تو الگ الگ بھی نفع نہ دیتی اور یہ آیت تلاوت کی: ﴿أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ﴾ [سورة التوبة: 104] ”اللہ اپنے بندوں سے توبہ قبول فرماتے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13880]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13881
فَأَمَّا الْحَدِيثُ الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ التَّمِيمِيُّ، ثنا الْإِمَامُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنبأ بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ إِلَى عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ فَقَالَ: أَلَا تَعْجَبُ أَنَّ الْحَسَنَ يَقُولُ:" إِنَّ الزَّانِيَ الْمَجْلُودَ لَا يَنْكِحُ إِلَّا مَجْلُودَةً مِثْلَهُ"، فَقَالَ عَمْرٌو: وَمَا يُعْجِبُكَ؟ حَدَّثَنَاهُ سَعِيدٌ الْمَقْبُرِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يُنَادِي بِهَا نِدَاءً، فَهَكَذَا رَوَاهُ عَمْرٌو وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ فِي سَبَبِ نُزُولِ الْآيَةِ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ الْمَنْعَ وَقَعَ عَنْ نِكَاحِ تِلْكَ الْبَغَايَا، وَرُوِّينَا عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ وَمِنْ أَوْجُهٍ أُخَرَ مَا دَلَّ عَلَى أَنَّ الْمَنْعَ وَقَعَ عَنْ نِكَاحِهِنَّ إِمَّا لِشِرْكِهِنَّ وَإِمَّا لِشَرْطِهِنَّ إِرْسَالَهُنَّ لِلزِّنَا، وَاللهُ أَعْلَمُ.
حضرت حبیب معلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل کوفہ سے ایک شخص حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ کے پاس آیا اور کہنے لگا: حضرت حسن رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جس زانی کو حد لگائی گئی ہو وہ حد لگائی گئی زانیہ عورت سے ہی نکاح کرتا ہے، تو عمرو رحمہ اللہ کہنے لگے: آپ کو تعجب کس چیز کا ہے؟ ہمیں یہ حدیث سعید مقبری نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے۔
(ب) اور حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما اس طرح منادی کروایا کرتے تھے۔
(ج) حضرت عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد سے اور دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ اس آیت کا سببِ نزول یہ ہے کہ زانیہ عورتوں سے نکاح کرنے سے منع کیا گیا۔
(د) حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے دوسری سند سے منقول ہے کہ نکاح کی ممانعت ان کے شرک یا زنا کی چھٹی دینے کی وجہ سے تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13881]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13882
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو مَنْصُورٍ النَّضْرَوِيّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، ثنا الْعَوَّامُ بْنُ حَوْشَبٍ، أنبأ الْعَلَاءُ بْنُ بَدْرٍ، أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةً فَأَصَابَ فَاحِشَةً وَضُرِبَ الْحَدَّ ثُمَّ جِيءَ بِهِ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَفَرَّقَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ، ثُمَّ قَالَ لِلرَّجُلِ:" لَا تَتَزَوَّجْ إِلَّا مَجْلُودَةً مِثْلَكَ" فَهَذَا مُنْقَطِعٌ، وَرُوِيَ عَنْ حَنَشِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ أَنَّ قَوْمًا اخْتَصَمُوا إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، فَزَنَى أَحَدُهُمَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: فَفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، وَحَنَشٌ غَيْرُ قَوِيٍّ.
علاء بن بدر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرد نے عورت سے نکاح کیا، پھر مرد نے زنا کر لیا جس کی وجہ سے حد لگائی گئی۔ پھر اس کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا تو انہوں نے میاں بیوی کے درمیان تفریق ڈال دی۔ پھر مرد سے کہا: تو شادی صرف حد لگائی گئی عورت سے کر سکتا ہے۔
(ب) حنش بن معتمر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک قوم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس فیصلہ لے کر آئی کہ شادی کے بعد میاں بیوی میں سے کسی نے دخول سے قبل زنا کر لیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ان کے درمیان تفریق ڈال دی گئی۔
پہلی روایت منقطع ہے، اور حنش قوی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13882]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ جامع التحصيل 599»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13883
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو مُحَمَّدٍ عُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَهْدِيٍّ قَالَ: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ:" هُمَا زَانِيَانِ مَا اجْتَمَعَا".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جتنی دیر وہ اکٹھے رہیں گے وہ زانی ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13883]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13884
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ أنا سَعِيدٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ يَحْيَى الْجَزَّارِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّهُ قَالَ:" هُمَا زَانِيَانِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا"، ⦗٢٥٣⦘ فَقَدْ رُوِيَ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ مَا دَلَّ عَلَى الرُّخْصَةِ.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جدا ہونے تک وہ دونوں زانی ہیں۔
(ب) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ایسی روایت بھی منقول ہے جو رخصت پر دلالت کرتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13884]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13885
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَعُبَيْدُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ، أنبأ سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ:" رَجُلٌ زَنَى بِامْرَأَةٍ ثُمَّ تَابَا، وَأَصْلَحَا أَلَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا؟ فَتَلَا هَذِهِ الْآيَةَ: {ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ، ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ} [النحل: ١١٩] قَالَ:" فَرَدَّدَهَا عَلَيْهِ مِرَارًا حَتَّى ظَنَّ أَنَّهُ قَدْ رَخَّصَ فِيهَا".
علقمہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ ایک مرد نے عورت سے زنا کر لیا، پھر دونوں نے توبہ کر کے اپنی حالت سنوار لی، کیا ان دونوں کی شادی ہو سکتی ہے؟ انہوں نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿ثُمَّ إِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِينَ عَمِلُوا السُّوءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ وَأَصْلَحُوا إِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ [سورة النحل: 119] ”پھر تیرا رب ان لوگوں کے لیے جو جہالت کی بنا پر برے عمل کرتے ہیں، پھر وہ توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کریں تو تیرا رب اس کے بعد بخشنے والا ہے“، انہوں نے بار بار یہ آیت پڑھی یہاں تک کہ اس نے گمان کر لیا کہ اس میں رخصت دی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13885]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13886
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو جَنَابٍ الْكَلْبِيُّ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَرَأْتُ مِنَ اللَّيْلِ {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ} [الشورى: ٢٥] ، فَشَكَكْتُ فَلَمْ أَدْرِ كَيْفَ أَقْرَؤُهَا تَفْعَلُونَ أَوْ يَفْعَلُونَ، فَغَدَوْتُ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَهُ كَيْفَ أَقْرَؤُهَا، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدَهُ إِذْ أَتَاهُ رَجُلٌ، فَسَأَلَهُ عَنِ الرَّجُلِ يَزْنِي بِالْمَرْأَةِ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا، فَقَرَأَ عَلَيْهِ:" {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ} [الشورى: ٢٥] ".
بکیر بن اخنس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ میں نے رات کے وقت یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ﴾ [سورة الشورى: 25] ”اللہ وہ ذات ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے، اور غلطیاں معاف کرتا ہے، اور وہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔“
کہتے ہیں کہ میں شک میں تھا، مجھے معلوم نہ تھا کہ «يَفْعَلُونَ» ہے یا «تَفْعَلُونَ»، میں صبح کے وقت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس گیا، سوال کا ارادہ بھی تھا لیکن میرے بیٹھے ہوئے ایک شخص نے سوال کر دیا کہ ایک شخص پہلے عورت سے زنا کرتا ہے پھر شادی کر لیتا ہے، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس پر یہ آیت تلاوت کی: ﴿وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَعْفُو عَنِ السَّيِّئَاتِ وَيَعْلَمُ مَا تَفْعَلُونَ﴾ [سورة الشورى: 25] ”اللہ وہ ذات ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا ہے، اور غلطیاں معاف کرتا ہے، اور وہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13886]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13887
وَأَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا أَبُو جَنَابٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي حَيَّةَ الْكَلْبِيُّ بِهَذِهِ الْقِصَّةِ، وَقَالَ: أَيَتَزَوَّجُهَا؟ فَتَلَا عَبْدُ اللهِ الْآيَةَ وَقَالَ لِيَتَزَوَّجْهَا.
ابو جناب یحییٰ بن ابی حیہ کلبی اس قصے کے بارے میں فرماتے ہیں کہ کیا وہ اس سے شادی کرے؟ تو عبداللہ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی اور فرمایا: وہ اس سے شادی کر لے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13887]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13888
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ دَاوُدَ الرَّزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ بِهَا أنبأ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْجَهْمِ السَّمُرِيُّ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فِي رَجُلٍ يَفْجُرُ بِامْرَأَةٍ، ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا لَا يَزَالِانِ زَانِيَيْنِ قَالَ: وَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: هَذَا سِفَاحٌ، وَهَذَا نِكَاحٌ"، وَيُذْكَرُ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ نَحْوُ قَوْلِ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَقَدْ عُورِضَ بِقَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ كَمَا عُورِضَ بِقَوْلِهِ قَوْلُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَمَعَ مَنْ رَخَّصَ فِيهِ دَلَائِلُ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
حضرت عامر، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ مرد عورت سے زنا کرنے کے بعد شادی کرے تو وہ فرماتی تھیں: ”وہ دونوں ہمیشہ زانی ہی رہیں گے۔“
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے بارے میں سوال کیا گیا تو وہ فرمانے لگے: ”وہ زنا اور یہ نکاح ہے۔“ اور حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کی مانند ذکر کیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول کا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول سے معارضہ کیا گیا ہے، جیسے ان کے قول کا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول سے معارضہ کیا گیا ہے، اور جو اس کی اجازت دیتے ہیں ان کے ساتھ کتاب و سنت کے دلائل ہیں۔ وباللہ التوفیق [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13888]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں