السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2905. جماع أبواب نكاح حرائر أهل الكتاب، وإمائهم وإماء المسلمين -- باب: ما جاء في تحريم حرائر أهل الشرك دون أهل الكتاب، وتحريم المؤمنات على الكفار
یہ جامع ابواب ہیں جن میں اہلِ کتاب کی آزاد عورتوں، ان کی لونڈیوں اور مسلمانوں کی لونڈیوں سے نکاح کا بیان ہے۔ -- باب: اہلِ کتاب کے علاوہ دیگر مشرکین کی آزاد عورتوں کی حرمت کا بیان، اور کافروں پر مومن عورتوں کی حرمت کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 13979
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ: قُرِئَ عَلَى ابْنِ ⦗٢٧٩⦘ وَهْبٍ، أَخْبَرَكَ حُيِيُّ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْمَعَافِرِيُّ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو" أَنَّ آخِرَ سُورَةٍ نَزَلَتْ سُورَةُ الْمَائِدَةِ"، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ فَأَيُّهُمَا كَانَ، فَقَدْ أُبِيحَ مِنْهُ نِكَاحُ حَرَائِرِ أَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ: وَأَحَبُّ إِلِيَّ لَوْ لَمْ يَنْكِحْهُنَّ مُسْلِمٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ سب سے آخری سورہ مائدہ نازل ہوئی۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب کی آزاد عورتوں سے نکاح جائز رکھا گیا ہے اور مجھے زیادہ محبوب ہے کہ مسلمان ان سے نکاح نہ کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13979]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اہل کتاب کی آزاد عورتوں سے نکاح جائز رکھا گیا ہے اور مجھے زیادہ محبوب ہے کہ مسلمان ان سے نکاح نہ کریں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13979]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 13980
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَسْأَلُ عَنْ نِكَاحِ الْمُسْلِمِ الْيَهُودِيَّةَ وَالنَّصْرَانِيَّةَ، فَقَالَ: تَزَوَّجْنَاهُنَّ زَمَنَ الْفَتْحِ بِالْكُوفَةِ مَعَ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَنَحْنُ لَا نَكَادُ نَجِدُ الْمُسْلِمَاتِ كَثِيرًا، فَلَمَّا رَجَعْنَا طَلَّقْنَاهُنَّ، وَقَالَ" لَا يَرِثْنَ مُسْلِمًا، وَلَا يَرِثُهُنَّ، وَنِسَاءُهُمْ لَنَا حِلٌّ، وَنِسَاءُنَا عَلَيْهِمْ حَرَامٌ".
ابوزبیر کہتے ہیں کہ انہوں نے سنا جب سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے سوال کیا گیا کہ مسلمان کا نکاح یہودیہ یا عیسائی عورت سے کرنے کا کیا حکم ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ہم نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ فتح کے وقت کوفہ میں ان سے شادی کی جب ہمیں مسلمان عورتیں زیادہ میسر نہ تھیں اور جب ہم واپس پلٹے تو ہم نے ان کو طلاقیں دے دیں۔ انہوں نے فرمایا: ”یہ عورتیں مسلمان کی وارث نہ ہوں گی اور نہ مسلمان ان کے وارث ہوں گے، اور ان کی عورتیں ہمارے لیے حلال ہیں جبکہ ہماری عورتیں ان کے لیے حرام ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13980]
تخریج الحدیث: «اخرجه الشافعي، في الام 4/8»
الحكم على الحديث: اخرجه الشافعي، في الام 4/8
حدیث نمبر: 13981
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ بَكْرُ بْنُ سَهْلِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْقُرَشِيُّ الدِّمْيَاطِيُّ بِدِمْيَاطَ، ثنا شُعَيْبُ بْنُ يَحْيَى التُّجِيبِيُّ، عَنْ نَافِعِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ عُمَرَ مَوْلَى غُفْرَةَ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَبْدُ اللهِ بْنُ السَّائِبِ، مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ نَكَحَ ابْنَةَ الْفُرَافِصَةِ الْكَلْبِيَّةَ وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ عَلَى نِسَائِهِ، ثُمَّ أَسْلَمَتْ عَلَى يَدَيْهِ.
عبداللہ بن سائب جو بنو المطلب میں سے ہیں، نقل فرماتے ہیں کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے اپنی (دوسری) بیویوں کے ہوتے ہوئے فرافصہ کلبیہ کی بیٹی سے شادی کی، یہ عیسائی تھیں، پھر وہ ان کے ہاتھ پر مسلمان ہو گئیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13981]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 13982
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أنبأ سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِي الْحُوَيْرِثِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" تَزَوَّجَ بِنْتَ الْفُرَافِصَةِ وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ مَلَكَ عُقْدَةَ نِكَاحِهَا، وَهِيَ نَصْرَانِيَّةٌ حَتَّى حَنِفَتْ حِينَ قَدِمَتْ عَلَيْهِ"، قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي أَيْضًا أَنَّ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللهِ نَكَحَ امْرَأَةً مِنْ كَلْبٍ نَصْرَانِيَّةً حَتَّى حَنِفَتْ حِينَ قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ، قَالَ عَمْرٌو: وَحَدَّثَنِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ شَيْخٌ مِنْ بَنِي الْأَشْهَلِ، أَنَّ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ نَكَحَ يَهُودِيَّةً.
محمد بن جبیر بن مطعم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرافصہ کی عیسائی بیٹی سے شادی کی، جب وہ ان کے پاس آئیں تو مسلمان ہو گئیں۔
(ب) عمرو کہتے ہیں: انہوں نے مجھے یہ بھی بیان کیا کہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے قبیلہ کلب کی ایک عیسائی عورت سے نکاح کیا، جب وہ مدینہ آئیں تو مسلمان ہو گئیں۔
(ج) عبداللہ بن عبدالرحمن بنو اشہل کے شیخ تھے، فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13982]
(ب) عمرو کہتے ہیں: انہوں نے مجھے یہ بھی بیان کیا کہ سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے قبیلہ کلب کی ایک عیسائی عورت سے نکاح کیا، جب وہ مدینہ آئیں تو مسلمان ہو گئیں۔
(ج) عبداللہ بن عبدالرحمن بنو اشہل کے شیخ تھے، فرماتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13982]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره»
الحكم على الحديث: حسن لغيره
حدیث نمبر: 13983
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدٌ السُّكَّرِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ ⦗٢٨٠⦘ مُحَمَّدِ بْنِ الْأَزْهَرِ، ثنا الْغَلَابِيُّ، ثنا غُنْدَرٌ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هُبَيْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ:" تَزَوَّجَ طَلْحَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَهُودِيَّةً".
ہبیرہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13983]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13984
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَرْدَسْتَانِيُّ، أنبأ أَبُو نَصْرٍ الْعِرَاقِيُّ، أنبأ سُفْيَانُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَوْهَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" تَزَوَّجَ طَلْحَةُ يَهُودِيَّةً".
ہبیرہ بن یریم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ نے یہودیہ عورت سے نکاح کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13984]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13985
وَبِهَذَا الْإِسْنَادِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي زِيَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ قَالَ: كَتَبَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ:" إِنَّ الْمُسْلِمَ يَنْكِحُ النَّصْرَانِيَّةَ، وَلَا يَنْكِحُ النَّصْرَانِيُّ الْمُسْلِمَةَ".
زید بن وہب فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے خط لکھا کہ مسلمان عیسائی عورت سے شادی کر سکتا ہے جبکہ عیسائی مرد مسلمان عورت سے شادی نہیں کر سکتا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13985]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 13986
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ، أنبأ أَبُو الْقَاسِمِ سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ اللَّخْمِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَارِثِ الْهِلَالِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" إِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ بَعَثَ مُحَمَّدًا صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ، فَدِينُنَا خَيْرُ الْأَدْيَانِ، وَمِلَّتُنَا فَوْقَ الْمِلَلِ، وَرِجَالُنَا فَوْقَ نِسَائِهِمْ، وَلَا يَكُونُ رِجَالُهُمْ فَوْقَ نِسَائِنَا" قَالَ أَبُو الْقَاسِمِ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ سُفْيَانَ إِلَّا النُّعْمَانُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَهْلُ الْكِتَابِ الَّذِي يَحِلُّ نِكَاحُ حَرَائِرِهِمْ أَهْلُ الْكِتَابَيْنِ الْمَشْهُورَيْنِ التَّوْرَاةِ وَالْإِنْجِيلِ: وَهُمُ الْيَهُودُ، وَالنَّصَارَى مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، دُونَ الْمَجُوسِ، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَهَذَا الْأَثَرُ الْمَشْهُورُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَحَمَلَهُ أَهْلُ الْعِلْمِ مَعَ الِاسْتِدْلَالِ بِرِوَايَةٍ بِحَالَةٍ عَلَى الْجِزْيَةِ فَهُمْ مُلْحَقُونَ بِهِمْ فِي حَقْنِ الدَّمِ بِالْجِزْيَةِ دُونَ غَيْرِهَا وَاللهُ أَعْلَمُ.
عکرمہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ اللہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا، تاکہ وہ تمام ادیان پر غالب آئے۔ ہمارا دین تمام ادیان سے بہتر اور ہماری ملت تمام ملتوں سے افضل ہے اور ہمارے مرد ان کی عورتوں پر فوقیت رکھتے ہیں اور ان کے مرد ہماری عورتوں پر فوقیت نہیں رکھ سکتے۔
ابو القاسم کہتے ہیں: اسے سفیان سے صرف نعمان نے روایت کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جن اہل کتاب کی آزاد عورتوں سے نکاح حلال ہے وہ دو مشہور کتابوں تورات اور انجیل والے ہیں، یعنی بنی اسرائیل کے یہودی اور عیسائی، لیکن مجوس کی عورتیں جائز نہیں ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ «سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ» ”ان (یعنی مجوس) کے ساتھ اہل کتاب والا طریقہ رکھو۔“ تو اہل علم نے بجالہ کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے اس کو جزیہ پر محمول کیا ہے، چنانچہ وہ جزیہ کے ذریعے جان محفوظ ہونے میں ان (اہل کتاب) کے ساتھ ملا دیے گئے ہیں، اس کے علاوہ میں نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13986]
ابو القاسم کہتے ہیں: اسے سفیان سے صرف نعمان نے روایت کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جن اہل کتاب کی آزاد عورتوں سے نکاح حلال ہے وہ دو مشہور کتابوں تورات اور انجیل والے ہیں، یعنی بنی اسرائیل کے یہودی اور عیسائی، لیکن مجوس کی عورتیں جائز نہیں ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرماتے ہیں کہ «سُنُّوا بِهِمْ سُنَّةَ أَهْلِ الْكِتَابِ» ”ان (یعنی مجوس) کے ساتھ اہل کتاب والا طریقہ رکھو۔“ تو اہل علم نے بجالہ کی روایت سے استدلال کرتے ہوئے اس کو جزیہ پر محمول کیا ہے، چنانچہ وہ جزیہ کے ذریعے جان محفوظ ہونے میں ان (اہل کتاب) کے ساتھ ملا دیے گئے ہیں، اس کے علاوہ میں نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13986]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13987
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، أنبأ الرَّبِيعُ، أنبأ ⦗٢٨١⦘ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ:" لَيْسَ نَصَارَى الْعَرَبِ بِأَهْلِ الْكِتَابِ، إِنَّمَا أَهْلُ الْكِتَابِ بَنُو إِسْرَائِيلَ وَالَّذِينَ جَاءَتْهُمُ التَّوْرَاةُ وَالْإِنْجِيلُ، فَأَمَّا مَنْ دَخَلَ فِيهِمْ مِنَ النَّاسِ فَلَيْسُوا مِنْهُمْ"، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: وَقَدْ رُوِّينَا عَنْ عُمَرَ وَعَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي نَصَارَى الْعَرَبِ بِمَعْنَى هَذَا وَأَنَّهُ لَا تُؤْكَلُ ذَبَائِحُهُمْ وَذَلِكَ يَرِدُ فِي مَوْضِعِهِ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى.
حضرت عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عرب کے نصاریٰ اہل کتاب نہیں ہیں، اہل کتاب تو بنو اسرائیل ہیں جن کے پاس تورات و انجیل آئی، لیکن جو لوگ ان میں شامل ہو گئے وہ ان میں سے نہیں ہیں۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما عرب کے نصاریٰ کو بھی اسی معنیٰ میں لیتے ہیں اور یہ کہ ان کا ذبیحہ نہ کھایا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13987]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ عنہما عرب کے نصاریٰ کو بھی اسی معنیٰ میں لیتے ہیں اور یہ کہ ان کا ذبیحہ نہ کھایا جائے گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13987]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 13988
وَأَمَّا الَّذِي أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ، ثنا ابْنُ أَبِي الشَّوَارِبِ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ فَيْرُوزَ، عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ:" رَأَيْتُ امْرَأَةَ حُذَيْفَةَ مَجُوسِيَّةً"، فَهَذَا غَيْرُ ثَابِتٍ وَالْمَحْفُوظُ عَنْ حُذَيْفَةَ أَنَّهُ نَكَحَ يَهُودِيَّةً، وَاللهُ أَعْلَمُ.
معبد جہنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بیوی مجوسی دیکھی۔ یہ ثابت نہیں ہے، لیکن یہ درست ہے کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے یہودیہ سے نکاح کیا تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 13988]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر