🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2926. -- باب: الاستتار في حال الوطء
-- باب: ہم بستری کے دوران پردہ کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14095
أَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرٍ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ قَتَادَةَ، أنبأ أَبُو عَلِيٍّ حَامِدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّفَّاءُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو غَسَّانَ، ثنا مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهْ فَلْيَسْتَتِرْ، وَلَا يَتَجَرَّدَانِ تَجَرُّدَ الْعِيرَيْنِ"، تَفَرَّدَ بِهِ مِنْدَلُ بْنُ عَلِيٍّ وَلَيْسَ بِالْقَوِيِّ، وَهُوَ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ ثَابِتًا فَمَحْمُودٌ فِي الْأَخْلَاقِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَأَكْرَهُ أَنْ يَطَأَهَا وَالْأُخْرَى تَنْظُرُ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنَ التَّسَتُّرِ، وَلَا مَحْمُودِ الْأَخْلَاقِ، وَلَا يُشَبِّهُ الْعِشْرَةَ بِالْمَعْرُوفِ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يُعَاشِرَهَا بِالْمَعْرُوفِ.
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی کے پاس آئے تو پردہ کرلے اور وہ دونوں کپڑے نہ اتاریں جیسے دو گدھے برہنہ ہوتے ہیں۔“
اسے صرف مندل بن علی نے روایت کیا ہے اور وہ قوی نہیں ہے، اگرچہ یہ ثابت نہیں لیکن یہ اچھے اخلاق میں شمار ہوتا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: مجھے یہ ناپسند ہے کہ ایک وطی کر رہا ہو اور دوسری اسے دیکھ رہی ہو، اس لیے کہ یہ بھی ستر نہیں ہے اور نہ اچھا اخلاق اور نہ ہی حسن معاشرت میں شامل ہے۔ حالانکہ اسے حکم دیا گیا ہے کہ بیوی کے ساتھ حسن معاشرت رکھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14095]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14096
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أنبأ أَبُو الْحَسَنِ الْكَارِزِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ: قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ رَحِمَهُ اللهُ فِي حَدِيثِ الْحَسَنِ فِي الرَّجُلِ يُجَامِعُ امْرَأَتَهُ وَالْأُخْرَى تَسْمَعُ قَالَ: كَانُوا يَكْرَهُونَ الْوَجْسَ، حَدَّثَنَاهُ عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ غَالِبٍ الْقَطَّانِ، عَنِ الْحَسَنِ. قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْوَجْسُ هُوَ الصَّوْتُ الْخَفِيُّ، وَقَدْ رُوِيَ فِي مِثْلِ هَذَا مِنَ الْكَرَاهَةِ مَا هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ، وَهُوَ فِي بَعْضِ طُرُقِ الْحَدِيثِ حَتَّى الصَّبِيُّ فِي الْمَهْدِ.
ابوعبید رحمہ اللہ حضرت حسن رحمہ اللہ کی حدیث میں کہتے ہیں کہ ایک شخص اپنی بیوی سے مجامعت کرتا ہے اور دوسری سنتی ہے، فرماتے ہیں کہ وہ مخفی آواز کو بھی ناپسند کرتے تھے اور بعض میں تو اتنی کراہت بیان کی گئی ہے کہ بچہ اپنے جھولے میں بھی نہ سنے۔
(ب) حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث میں ہے کہ وہ اپنی دو لونڈیوں کے درمیان سوتے۔
(ج) عکرمہ رحمہ اللہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ اپنی دو لونڈیوں کے درمیان سوتے۔ ابوعبید رحمہ اللہ کہتے ہیں: یہ صرف سونے کی حالت ہے، جماع کی نہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14096]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں