السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2927. -- باب: ما يكره من ذكر الرجل إصابته أهله
-- باب: انسان کا اپنی بیوی سے ہم بستری کی باتیں لوگوں کے سامنے بیان کرنے کی کراہت و ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 14097
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ الْأَصْبَهَانِيُّ، أنبأ أَبُو سَعِيدِ بْنُ الْأَعْرَابِيِّ بِمَكَّةَ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ الزَّعْفَرَانِيُّ، ثنا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ الْعُمَرِيِّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ⦗٣١٤⦘ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَعْظَمَ الْأَمَانَةِ عِنْدَ اللهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ رَجُلٌ يُفْضِي إِلَى امْرَأَةٍ وَتُفْضِي إِلَيْهِ ثُمَّ يُفْشِي سِرَّهَا"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، عَنْ مَرْوَانَ.
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قیامت کے دن اللہ کے ہاں سب سے بڑی امانت یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی بیوی کے اور بیوی اپنے شوہر کے پاس آئے (یعنی صحبت کریں) پھر وہ شخص اس کے راز کو ظاہر کر دے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14097]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1437»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14098
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنَ الطُّفَاوَةِ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْمَدِينَةِ، فَلَمْ أَرَ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَشَدَّ تَشْمِيرًا، وَلَا أَقْوَمَ عَلَى ضَيْفٍ مِنْهُ، سَمِعْتُهُ يَقُولُ: نَهَضْتُ مَعَ رَسُولِ اللهِ حَتَّى أَتَى مَقَامَهُ الَّذِي يُصَلِّي فِيهِ قَالَ: وَخَلْفَهُ صَفَّانِ مِنْ رِجَالٍ، وَصَفٌّ مِنْ نِسَاءٍ، أَوْ صَفَّانِ مِنْ نِسَاءٍ، وَصَفٌّ مِنْ رِجَالٍ، فَأَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ:" إِنْ نَسَّانِيَ الشَّيْطَانُ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِي، فَلْيُسَبِّحِ الرِّجَالُ، وَلْتُصَفِّقِ النِّسَاءُ"، فَصَلَّى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَنْسَ شَيْئًا مِنْ صَلَاتِهِ فَقَالَ:" مَجَالِسَكُمْ مَجَالِسَكُمْ مَا مِنْكُمْ رَجُلٌ يَسْتَتِرُ بِسِتْرِ اللهِ إِذَا أَتَى أَهْلَهُ أَغْلَقَ عَلَيْهِ بَابَهُ، وَأَلْقَى عَلَيْهِ سِتْرَهُ"، قَالُوا: إِنَّا لَنَفْعَلُ ذَلِكَ قَالَ:" ثُمَّ يَجْلِسُ، فَيَقُولُ: فَعَلْتُ بِصَاحِبَتِي كَذَا وَفَعَلْتُ كَذَا"، فَسَكَتُوا، فَقَالَ:" هَلْ مِنْكُنَّ مَنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ؟" قَالَ: فَسَكَتْنَ، فَجَثَتْ فَتَاةٌ أَحْسَبُهُ قَالَ: كَعَابٌ عَلَى إِحْدَى رُكْبَتَيْهَا، فَتَطَاوَلَتْ لِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَرَاهَا، فَقَالَتْ: إِي وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُمْ لَيَتَحَدَّثُونَ وَإِنَّهُنَّ لَيَتَحَدَّثْنَ، فَقَالَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَا مَثَلُ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ؟ مَثَلُ الشَّيْطَانِ وَالشَّيْطَانَةِ لَقِيَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ فِي سِكَّةٍ، فَقَضَى مِنْهَا حَاجَتَهُ وَالنَّاسُ يَنْظُرُونَ، وَقَالَ: أَلَا لَا يُفْضِيَنَّ رَجُلٌ إِلَى رَجُلٍ، وَلَا امْرَأَةٌ إِلَى امْرَأَةٍ، إِلَّا إِلَى وَلَدٍ أَوْ وَالِدٍ"، وَقَالَ الثَّالِثَةُ، فَنَسِيتُهَا، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ طِيبَ الرِّجَالِ مَا وُجِدَ رِيحُهُ وَلَمْ يَظْهَرْ لَوْنُهُ، أَلَا إِنَّ طِيبَ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَلَمْ يُوجَدْ رِيحُهُ".
طفاوت کے ایک بزرگ فرماتے ہیں: میں مدینہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، میں نے کسی شخص کو ان سے زیادہ تیز چلتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی ان سے بڑھ کر کوئی مہمان نواز تھا۔ وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ چلا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جگہ آئے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے تھے۔ فرماتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے دو صفیں مردوں کی اور ایک صف عورتوں کی تھی یا دو صفیں عورتوں کی اور ایک صف مردوں کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”اگر شیطان مجھے نماز میں کچھ بھلا دے تو مرد «سُبْحَانَ اللَّهِ» ”سبحان اللہ“ کہیں اور عورتیں تالی بجائیں۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں کچھ نہیں بھولے، پھر فرمایا: ”اپنی جگہ رہنا، اپنی جگہ رہنا، کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے کہ جب وہ اپنی بیوی کے پاس آئے تو دروازہ بند کر لے اور پردہ ڈال لے؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: ہم ایسا ہی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر وہ (لوگوں میں) بیٹھ کر کہتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی سے یوں یوں کیا؟“ صحابہ رضی اللہ عنہم خاموش رہے۔ راوی کہتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم میں سے کسی عورت نے یہ کیا؟“ راوی کہتے ہیں: عورتیں بھی خاموش رہیں۔ ایک نوجوان لڑکی، میرا گمان ہے کہ انہوں نے نوخیز لڑکی کہا، اپنے ایک گھٹنے کے بل بیٹھ گئی، اس نے خود کو نمایاں کیا تاکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو دیکھ لیں، اس نے عرض کیا: اللہ کی قسم! اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مرد بھی یہ بیان کرتے ہیں اور عورتیں بھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو جس نے ایسا کیا وہ اس شیطان اور شیطاننی کی مانند ہیں جو کسی گلی میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور اپنی حاجت پوری کرتے ہیں حالانکہ لوگ انھیں دیکھ رہے ہوں۔“ اور فرمایا: ”کوئی مرد مرد کے ساتھ اور کوئی عورت عورت کے ساتھ نہ لیٹے، صرف بچے یا والد کے ساتھ اجازت ہے۔“
اور راوی کہتے ہیں: میں تیسری چیز بھول گیا، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی بو ہو اور رنگ ظاہر نہ ہو، اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور خوشبو موجود نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14098]
اور راوی کہتے ہیں: میں تیسری چیز بھول گیا، (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”مردوں کی خوشبو وہ ہے جس کی بو ہو اور رنگ ظاہر نہ ہو، اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس کا رنگ ظاہر ہو اور خوشبو موجود نہ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14098]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14099
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ، أنبأ أَبُو عَمْرِو بْنُ السَّمَّاكِ، ثنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي السَّمْحِ، عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الشِّيَاعُ حَرَامٌ" قَالَ حَنْبَلٌ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ يَعْنِي أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلِ: ابْنُ لَهِيعَةَ يَقُولُ: الشِّيَاعُ يَعْنِي الْمُفَاخَرَةُ بِالْجِمَاعِ قَالَ: وَقَالَ ابْنُ وَهْبٍ: السِّبَاعُ يُرِيدُ جُلُودَ السِّبَاعِ.
سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جماع کر کے فخر کرنا حرام ہے“، ابن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ «سِبَاع» سے مراد درندوں کا چمڑا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14099]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف