السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2935. جماع أبواب العيب في المنكوحة -- باب: ما يرد به النكاح من العيوب
یہ جامع ابواب ہیں جن میں منکوحہ (جس عورت سے نکاح کیا جائے) میں عیب پائے جانے کے مسائل کا بیان ہے۔ -- باب: ان عیوب کا بیان جن کی وجہ سے نکاح کو رد کیا جا سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 14229
كَمَا أَخْبَرَنَا أَبُو حَازِمٍ الْعَبْدَوِيُّ الْحَافِظُ، أنبأ أَبُو الْفَضْلِ بْنُ خُمَيْرَوَيْهِ الْهَرَوِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ نَجْدَةَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ قَالَ: قَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" أَيُّمَا رَجُلٍ نَكَحَ امْرَأَةً وَبِهَا بَرَصٌ، أَوْ جُنُونٌ، أَوْ جُذَامٌ، أَوْ قَرْنٌ ⦗٣٥١⦘ فَزَوْجُهَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَمَسَّهَا إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ، فَإِنْ مَسَّهَا فَلَهَا الْمَهْرُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ فَرْجِهَا".
سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جس شخص نے کسی عورت سے نکاح کیا اور وہ پھلبہری، دیوانگی، کوڑھ والی یا قرن والی ہو تو خاوند کو اختیار ہے جب تک اس نے اس کے ساتھ مجامعت نہ کی ہو۔ اگر وہ چاہے تو اسے روک لے اور چاہے تو طلاق دے دے، اور اگر اس نے مجامعت کر لی تو اس کے عوض اسے حق مہر ادا کرنا ہو گا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14229]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه سعيد بن منصور 821»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14230
قَالَ: وَحَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا هُشَيْمٌ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّهُ قَالَ:" ذَلِكَ إِذَا دَخَلَ بِهَا قَالَ: وَإِنْ عَلِمَ بِذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ وَإِنْ شَاءَ فَارَقَ بِغَيْرِ طَلَاقٍ".
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ (حکم) اس وقت ہے جب اس نے اس کے ساتھ دخول کر لیا ہو۔“ فرمایا: ”اور اگر اسے دخول سے پہلے اس (عیب) کا علم ہو جائے تو اگر چاہے تو اسے رکھ لے اور اگر چاہے تو طلاق کے بغیر اس سے جدا ہو جائے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14230]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14231
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنبأ أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا ابْنُ بُكَيْرٍ، ثنا مَالِكٌ، أَنَّهُ بَلَغَهُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّهُ قَالَ:" أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَبِهِ جُنُونٌ وَضَرَرٌ فَإِنَّهَا تَخْتَرْ فَإِنْ شَاءَتْ فَارَقَتْهُ وَإِنْ شَاءَتْ قَرَّتْ".
سعید بن مسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جس مرد نے کسی عورت سے شادی کی لیکن وہ مرد دیوانہ یا کسی دوسری بیماری میں مبتلا ہے تو اس عورت کو اختیار حاصل ہے، چاہے تو وہ اس مرد کے ساتھ رہے یا اس سے جدا ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14231]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف