السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2943. -- باب: المعتقة تختار الفراق ولم تمس فلا صداق لها
-- باب: اس آزاد کی گئی لونڈی کا بیان جو علیحدگی اختیار کر لے درآں حالیکہ اسے چھوا (ہم بستری) نہ گیا ہو تو اس کے لیے کوئی مہر نہیں ہے۔
حدیث نمبر: 14288
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنبأ عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنبأ سَعِيدٌ هُوَ ابْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، أَنَّهُ قَالَ فِي الْأَمَةِ إِذَا أُعْتِقَتْ قَبْلَ أَنْ يُدْخَلَ بِهَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا" فَلَا شَيْءَ لَهَا لَا يَجْتَمِعُ عَلَيْهِ أَنْ تَذْهَبَ نَفْسُهَا وَمَالُهُ"، وَاللهُ أَعْلَمُ وَبِهِ التَّوْفِيقُ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب لونڈی کو دخول سے پہلے آزاد کر دیا جائے اور وہ (جدائی کا) اختیار کر لے تو اس کے لیے کچھ بھی (مہر) نہیں ہے، خاوند پر یہ دونوں جمع نہیں ہوں گے کہ اس کی بیوی بھی چلی جائے اور اس کا مال بھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14288]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح