السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2944. -- باب: أجل العنين
-- باب: عنین (نامرد) کو دی جانے والی مہلت کا بیان۔
حدیث نمبر: 14289
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللهِ الْمُنَادِي، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ الْأَزْرَقُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ فِي الْعِنِّينِ:" يُؤَجَّلُ سَنَةً فَإِنْ قَدِرَ عَلَيْهَا وَإِلَّا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا وَلَهَا الْمَهْرُ وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ"، قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ: هَذَا عَلَى قَوْلِهِ:" إِنَّ الْخَلْوَةَ تُقَرِّرُ الْمَهْرَ وَتُوجِبُ الْعِدَّةَ"، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ عُمَرَ دُونَ هَذِهِ الزِّيَادَةِ. وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، مُرْسَلًا" أَنَّهُ كَانَ يُؤَجِّلُ سَنَةً" وَقَالَ: فِيهِ لَا أَعْلَمُهُ إِلَّا مِنْ يَوْمِ يُرْفَعُ إِلَى السُّلْطَانِ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نامرد آدمی کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔ اگر وہ درست ہو جائے تو ٹھیک، ورنہ دونوں کے درمیان تفریق کر دی جائے گی۔ عورت کے لیے مہر اور عدت دونوں ہوں گی۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ان کے اس قول کی بنا پر ہے کہ خلوت مہر کو ثابت اور عدت کو واجب کر دیتی ہے۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت فرماتے ہیں کہ ایک سال کی مہلت کو تب شمار کریں گے جب مقدمہ بادشاہ کے سامنے پیش ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14289]
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ ان کے اس قول کی بنا پر ہے کہ خلوت مہر کو ثابت اور عدت کو واجب کر دیتی ہے۔
(ب) شعبی رحمہ اللہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت فرماتے ہیں کہ ایک سال کی مہلت کو تب شمار کریں گے جب مقدمہ بادشاہ کے سامنے پیش ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14289]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14290
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْأَصْبَهَانِيُّ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ عُمَرَ الْحَافِظُ، ثنا أَبُو طَلْحَةَ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْفَزَارِيُّ، ثنا بُنْدَارٌ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، وَحُصَيْنَ بْنَ قَبِيصَةَ يُحَدِّثَانِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ:" يُؤَجَّلُ سَنَةً، فَإِنْ أَتَاهَا وَإِلَّا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا".
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک سال کی مہلت دی جائے۔ اگر تندرست ہو جائے تو ٹھیک، وگرنہ ان کے درمیان تفریق کر دی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14290]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14291
قَالَ: وَثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ عَنْ أَبِي النُّعْمَانِ قَالَ: أَتَيْنَا الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي الْعِنِّينِ فَقَالَ:" يُؤَجَّلُ سَنَةً".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نامرد شخص کو ایک سال کی مہلت دی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14291]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14292
قَالَ: وَحَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الرُّكَيْنِ، عَنْ أَبِي طَلْقٍ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ:" الْعِنِّينُ يُؤَجَّلُ سَنَةً".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نامرد شخص کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14292]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14293
قَالَ: وَحَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ أَرْطَاةَ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ نُعَيْمٍ، أَنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ" أَجَّلَهُ سَنَةً مِنْ يَوْمِ رَافَعَتْهُ"، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: وَكَذَلِكَ قَالَ سُفْيَانُ، وَمَالِكٌ مِنْ يَوْمِ تُرَافِعُهُ.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے جس وقت اس کا معاملہ بادشاہ کے سامنے پیش ہو۔
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس دن سے مہلت کو شمار کیا جائے جس وقت مقدمہ قاضی کے سامنے پیش ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14293]
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس دن سے مہلت کو شمار کیا جائے جس وقت مقدمہ قاضی کے سامنے پیش ہو۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14293]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14294
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ الْفَقِيهُ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ الشُّرَيْحِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ الْبَغَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أنبأ شُعْبَةُ، عَنِ الرُّكَيْنِ بْنِ الرَّبِيعِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا طَلْقٍ، يُحَدِّثُ عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ رُفِعَ إِلَيْهِ" رَجُلٌ عَجَزَ أَنْ يَأْتِيَ امْرَأَتَهُ فَأَجَّلَهُ سَنَةً".
مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک شخص جو اپنی بیوی کی حاجت پوری کرنے سے عاجز آگیا، اس کا مقدمہ آیا تو انہوں نے اس کو ایک سال کی مہلت دی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14294]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14295
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أنبأ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ شُعْبَةَ، حَدَّثَنِي الرُّكَيْنُ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ قَبِيصَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يَذْكُرُهُ عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ فِي الْعِنِّينِ:" يُؤَجَّلُ سَنَةً، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا وَإِلَّا فُرِّقَ بَيْنَهُمَا".
حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نامرد شخص کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اسے ایک سال کی مہلت دی جائے گی، اگر وہ دخول کے قابل ہو جائے تو درست، وگرنہ دونوں کے درمیان تفریق کر دی جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14295]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14296
قَالَ: وَحَدَّثَنِي الرُّكَيْنُ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا طَلْقٍ، يَقُولُ: إِنَّ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ" أَجَّلَ الْعِنِّينَ سَنَةً".
ابو طلق کہتے ہیں کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دیتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14296]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 14291»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14297
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ الْمَالِينِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ، ثنا الرَّمَادِيُّ قَالَ: حَدَّثُونَا عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْقَطَّانِ قَالَ: قِيلَ لِسُفْيَانَ بْنِ سَعِيدٍ: إِنَّ شُعْبَةَ يُخَالِفُكَ فِي حَدِيثِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ" فِي الْعِنِّينِ يُؤَجَّلُ سَنَةً"، وَتَرْوِيَانِ عَنِ الرُّكَيْنِ، تَقُولُ: أَنْتَ أَبُو النُّعْمَانِ وَهُوَ يَقُولُ: هُوَ أَبُو طَلْقٍ، فَضَحِكَ سُفْيَانُ ⦗٣٧٠⦘ وَقَالَ: كُنْتُ أَنَا، وَشُعْبَةُ عِنْدَ الرُّكَيْنِ فَمَرَّ ابْنٌ لِأَبِي النُّعْمَانِ يُقَالُ لَهُ أَبُو طَلْقٍ فَقَالَ الرُّكَيْنُ: سَمِعْتُ أَبَا أَبِي طَلْقٍ فَذَهَبَ عَلَى شُعْبَةَ أَبَا أَبِي طَلْقٍ فَقَالَ: أَبُو طَلْقٍ، وَرُوِّينَا هَذَا الْمَذْهَبُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَالْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، وَإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ.
یحییٰ بن سعید قطان رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سفیان بن سعید رحمہ اللہ سے کہا گیا: شعبہ رحمہ اللہ آپ کی، مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں مخالفت کرتے ہیں کہ نامرد کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی، آپ دونوں رکین سے روایت کرتے ہیں، آپ کہتے ہیں: (راوی) ابو النعمان ہیں اور وہ کہتے ہیں: ابو طلق ہیں۔ تو سفیان رحمہ اللہ ہنس پڑے اور فرمایا: میں اور شعبہ رکین کے پاس تھے کہ ابو النعمان کا ایک بیٹا گزرا جسے ابو طلق کہا جاتا تھا، تو رکین نے کہا: میں نے ابو طلق کے والد سے سنا ہے، تو شعبہ سے ”ابو طلق کے والد“ (کے الفاظ) رہ گئے اور انہوں نے ابو طلق کہہ دیا۔
یہ مذہب ہمیں سعید بن مسیب، عطاء بن ابی رباح، حسن بصری اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ سے بھی روایت کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14297]
یہ مذہب ہمیں سعید بن مسیب، عطاء بن ابی رباح، حسن بصری اور ابراہیم نخعی رحمہم اللہ سے بھی روایت کیا گیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14297]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14298
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ أَبُو عُثْمَانَ عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللهِ الْبَصْرِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنبأ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ حَسْنَاءُ جَمِيلَةٌ فَقَالَتْ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ هَلْ لَكَ فِي امْرَأَةٍ لَا أَيِّمٌ وَلَا ذَاتُ زَوْجٍ، فَعَرَفَ مَا تَقُولُ فَأَتَى بِزَوْجِهَا فَإِذَا هُوَ سَيِّدُ قَوْمِهِ، فَقَالَ مَا تَقُولُ فِيمَا تَقُولُ هَذِهِ قَالَ: هُوَ مَا تَرَى عَلَيْهَا، قَالَ: شَيْءٌ غَيْرَ هَذَا قَالَ: لَا، قَالَ: وَلَا مِنْ آخِرِ السَّحَرِ؟ قَالَ: وَلَا مِنْ آخِرِ السَّحَرِ، قَالَ:" هَلَكْتَ وَأَهْلَكْتَ، وَإِنِّي لَأَكْرَهُ أَنْ أُفَرِّقَ بَيْنَكُمَا".
ہانی بن ہانی کہتے ہیں ایک خوبصورت عورت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اور کہنے لگی: اے امیر المؤمنین! آپ کا ایسی عورت کے بارے میں کیا خیال ہے جو نہ بیوہ ہے اور نہ ہی خاوند والی ہے؟ وہ پہچان گئے کہ وہ کیا کہہ رہی تھی، اس کا خاوند قوم کا سردار تھا، وہ بھی آگیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: آپ کیا کہتے ہیں اس کے بارے میں جو وہ کہہ رہی ہے؟ اس نے کہا: وہ ویسے ہی ہے جیسے اس نے کہا ہے، وہ کہنے لگا: اس کے علاوہ کوئی دوسری چیز؟ تو کہنے لگے: نہیں، فرمانے لگے: اور نہ آخری رات کے وقت میں؟ انھوں نے کہا: نہ آخری رات میں۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: تو خود بھی ہلاک ہوا اور تو نے اس کو بھی ہلاک کیا، لیکن میں تمہارے درمیان تفریق کو ناپسند کرتا ہوں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 14298]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف