السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2951. -- باب: ما يستحب من القصد في الصداق
-- باب: مہر میں میانہ روی اختیار کرنے کے مستحب ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14344
حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ، وَأَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ قَالُوا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أنبأ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أنبأ الشَّافِعِيُّ، أنبأ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا:" كَمْ كَانَ صَدَاقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ:" كَانَ ⦗٣٨٢⦘ صَدَاقُهُ لِأَزْوَاجِهِ اثْنَيْ عَشَرَ أُوقِيَّةً وَنَشٌّ" قَالَتْ:" أَتَدْرِي مَا النَّشُّ؟" قُلْتُ: لَا، قَالَتْ:" نِصْفُ أُوقِيَّةٍ"، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ.
ابو سلمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنا حق مہر ادا کیا تھا؟ فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو صرف 12 «أُوقِيَّة» ”اوقیہ“ اور ایک «نَشّ» ”نش“ حق مہر ادا کیا۔ پوچھنے لگیں کہ کیا پتا ہے «نَشّ» ”نش“ سے کیا مراد ہے؟ میں نے کہا: نہیں، تو فرمایا: «نِصْفُ أُوقِيَّة» ”نصف اوقیہ“۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14344]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1425»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14345
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عُمَرَ الْمَكِّيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" أُوقِيَّةً"، وَزَادَ فِيهِ" فَذَلِكَ خَمْسُمِائَةِ دِرْهَمٍ، فَهَذَا صَدَاقُ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَزْوَاجِهِ"، أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ يَعْنِي أَبَا عَبْدِ اللهِ الشَّيْبَانِيَّ ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ بَحْرٍ ثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ فَذَكَرَهُ.
محمد بن ابی عمر مکی، عبدالعزیز سے نقل فرماتے ہیں کہ «أُوقِيَّةٌ» (اس میں اضافہ بھی ہے کہ) پانچ سو درہم، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی بیویوں کے لیے حق مہر تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14345]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14346
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ، بِبَغْدَادَ، أنبأ أَبُو عَمْرُوَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ السَّمَّاكِ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، أنبأ ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ:" مَا أَصْدَقَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحَدًا مِنْ نِسَائِهِ وَلَا بَنَاتِهِ فَوْقَ اثْنَيْ عَشَرَ أُوقِيَّةً إِلَّا أُمَّ حَبِيبَةَ فَإِنَّ النَّجَاشِيَّ زَوَّجَهُ إِيَّاهَا وَأَصْدَقَهَا أَرْبَعَةَ آلَافٍ وَنَقَدَ عَنْهُ، وَدَخَلَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُعْطِهَا شَيْئًا"، كَذَا قَالَ عَنْ عَائِشَةَ، وَرَوَاهُ غَيْرُهُ عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ فَقَالَ: عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ.
عروہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں اور بیٹیوں کے حق مہر صرف بارہ اوقیہ تھے سوائے سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے؛ کیونکہ ان کا نکاح نجاشی نے کیا اور چار ہزار حق مہر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ادا کیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دخول بھی کیا لیکن کچھ بھی نہ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14346]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 14347
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا الْحَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَيُّوبَ، وَحَبِيبٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي الْعَجْفَاءِ السُّلَمِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" إِيَّاكُمْ وَالْمُغَالَاةَ فِي مُهُورِ النِّسَاءِ، فَإِنَّهَا لَوْ كَانَتْ تَقْوَى عِنْدَ اللهِ أَوْ مَكْرُمَةً عِنْدَ النَّاسِ لَكَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْلَاكُمْ بِهَا، مَا نَكَحَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ نِسَائِهِ، وَلَا أَنْكَحَ وَاحِدَةً مِنْ بَنَاتِهِ بِأَكْثَرَ مِنِ اثْنَيْ عَشَرَ أُوقِيَّةً وَهِيَ أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ وَثَمَانُونَ دِرْهَمًا، وَإِنَّ أَحَدَهُمْ لَيُغَالِي بِمَهْرِ امْرَأَتِهِ حَتَّى تَبْقَى عَدَاوَةٌ فِي نَفْسِهِ فَيَقُولُ: لَقَدْ كُلِّفْتُ لَكَ عِلْقَ الْقِرْبَةِ" وَرَوَاهُ أَيْضًا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ وَفِي رِوَايَةِ بَعْضِهِمْ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ:" اثْنَيْ عَشَرَ أُوقِيَّةً وَنِصْفٌ"، فَإِنْ كَانَ مَحْفُوظًا وَافَقَ رِوَايَةَ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم عورتوں کو زیادہ حق مہر دینے سے بچو۔ اگر یہ اللہ کے ہاں تقویٰ اور لوگوں کے نزدیک عزت والی بات ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے زیادہ لائق تھے، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ازواج اور اپنی بیٹیوں کے نکاح کیے اور حق مہر صرف بارہ اوقیہ تھا اور یہ چار سو اسی درہم بنتے ہیں۔ ان میں سے کوئی اپنی بیوی کا حق مہر اتنا زیادہ کر دیتا ہے کہ اس کے دل میں (بیوی کے لیے) دشمنی باقی رہ جاتی ہے اور کہتا ہے کہ میں نے تیری وجہ سے لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرح تکلیف اٹھائی ہے۔
(ب) ابن سیرین رحمہ اللہ نے بارہ اوقیہ اور نصف بیان کیا ہے، جو ابوسلمہ رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں اس کی موافقت میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14347]
(ب) ابن سیرین رحمہ اللہ نے بارہ اوقیہ اور نصف بیان کیا ہے، جو ابوسلمہ رحمہ اللہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نقل فرماتے ہیں اس کی موافقت میں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14347]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 14348
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنبأ عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُعَاوِيَةَ النَّيْسَابُورِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمِ بْنِ وَارَةَ أَبُو عَبْدِ اللهِ، بِالرِّيِّ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَسِتِّينَ وَمِائَتَيْنِ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سَابِقٍ مِنْ كِتَابِهِ الْعَتِيقِ، ثنا عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ أَبِي قَيْسٍ، عَنْ أَيُّوبَ ⦗٣٨٣⦘ السَّخْتِيَانِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ عَنِ ابْنِ أَبِي الْعَجْفَاءِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ:" لَا تُغَالُوا بِمَهْرِ النِّسَاءِ"، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ مِنْ حَدِيثِ حَمَّادٍ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ قَدْ يُغْلِي بِالْمَهْرِ حَتَّى يَقُولَ: وَكُلِّفْتُ فِيكِ عِلْقَ الْقِرْبَةِ يَتَّخِذُهُ ذَنْبًا.
ابن ابی عجفاء اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”عورتوں کو حق مہر زیادہ نہ دیا کرو۔“ انہوں نے حماد کی حدیث کے موافق ذکر کیا ہے کہ کوئی شخص حق مہر زیادہ دیتا ہے اور پھر وہ کہتا ہے: ”تیری وجہ سے میں تکلیف میں مبتلا کیا گیا ہوں جیسے لٹکا ہوا مشکیزہ۔“ اور وہ اسے (بیوی کا) قصور بنا لیتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14348]
تخریج الحدیث: «حسن۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 14349
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ جَبَلَةَ بْنِ أَبِي رَوَّادٍ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أنبأ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" مَا اسْتَحَلَّ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا إِلَّا بِبُدْنٍ مِنْ حَدِيدٍ".
عکرمہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو صرف لوہے کی ایک زرہ کے عوض اپنے لیے حلال کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14349]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14350
أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنبأ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، قَدْ سَمَّاهُ سَمِعَ عَلِيًّا رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِالْكُوفَةِ يَقُولُ: أَرَدْتُ أَنْ أَخْطُبَ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ وَذَكَرْتُ أَنَّهُ لَا شَيْءَ لِي ثُمَّ ذَكَرْتُ عَائِدَتَهُ وَصِلَتَهُ فَخَطَبْتُهَا فَقَالَ:" أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ الَّتِي أَعْطَيْتُكَهَا فِي يَوْمِ كَذَا وَكَذَا؟" قَالَ: هِيَ عِنْدِي قَالَ:" فَأَعْطِهَا إِيَّاهَا".
ابن ابی نجیح اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں، انہوں نے ایک شخص کا نام لیا، جس نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کوفہ میں سنا، وہ کہہ رہے تھے کہ میرا ارادہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کی بیٹی کے نکاح کا پیغام دوں، لیکن مجھے یاد آیا کہ میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے، لیکن پھر مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مہربانی اور حسنِ سلوک یاد آیا تو میں نے پیغامِ نکاح دے دیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”میں نے تجھے حطمیہ درع فلاں دن دی تھی وہ کہاں ہے؟“ کہتے ہیں: یہ میرے پاس ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ اس کو دے دو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14350]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14351
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: لَقَدْ خُطِبَتْ فَاطِمَةَ بِنْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ لِي مَوْلَاةٌ: هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ فَاطِمَةَ تُخْطَبُ؟ قُلْتُ: لَا أَوْ نَعَمْ قَالَتْ: فَاخْطُبْهَا إِلَيْهِ قَالَ: قُلْتُ: وَهَلْ عِنْدِي شَيْءٌ أَخْطُبُهَا عَلَيْهِ؟ قَالَ: فَوَاللهِ مَا زَالَتْ تُرَجِّينِي حَتَّى دَخَلْتُ عَلَيْهِ وَكُنَّا نُجِلُّهُ وَنُعَظِّمُهُ، فَلَمَّا جَلَسْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ أُلْجِمْتُ حَتَّى مَا اسْتَطَعْتُ الْكَلَامَ، قَالَ:" هَلْ لَكَ مِنْ حَاجَةٍ؟"، فَسَكَتُّ، فَقَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ قَالَ:" لَعَلَّكَ جِئْتَ تَخْطُبُ فَاطِمَةَ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللهِ، قَالَ:" هَلْ عِنْدَكَ مِنْ شَيْءٍ تَسْتَحِلُّهَا بِهِ؟"، قَالَ: قُلْتُ: لَا وَاللهِ يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" فَمَا فَعَلْتَ بِالدِّرْعِ الَّتِي كُنْتُ سَلَّحْتُكَهَا؟"، قَالَ: عَلِيٌّ وَاللهِ إِنَّهَا لَدِرْعٌ حُطَمِيَّةٌ مَا ثَمَنُهَا إِلَّا أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ، قَالَ:" اذْهَبْ فَقَدْ زَوَّجْتُكَهَا وَابْعَثْ بِهَا إِلَيْهَا فَاسْتَحِلَّهَا بِهِ"، كَذَا فِي كِتَابِي" أَرْبَعُمِائَةِ دِرْهَمٍ"، وَرَوَاهُ يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، فَقَالَ:" أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ".
مجاہد، سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا گیا تو میری ایک لونڈی نے مجھ سے کہا: کیا آپ جانتے ہیں کہ فاطمہ کو پیغامِ نکاح دیا گیا ہے؟ میں نے «نَعَمْ» ”ہاں“ یا «لَا» ”نہیں“ کہا تو وہ کہنے لگی: آپ بھی پیغامِ نکاح دیں، کہتے ہیں: میں نے کہا: میرے پاس کیا ہے کہ میں دے کر نکاح کروں؟ لیکن وہ مجھے ترغیب دیتی رہی یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا، اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم بہت زیادہ کرتا تھا جس کی وجہ سے آپ کے سامنے بیٹھ کر کلام نہ کر سکا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تجھے کوئی کام ہے؟“ میں خاموش رہا یہاں تک کہ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”شاید آپ فاطمہ کو نکاح کا پیغام دینے آئے ہیں؟“ میں نے کہا: ہاں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تیرے پاس کیا چیز ہے جس کے ذریعے تو اس کو اپنے لیے حلال کر سکے؟“ کہتے ہیں: میں نے کہا: کچھ بھی نہیں، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”جو میں نے تجھے اسلحہ کے طور پر زرہ دی تھی وہ کدھر ہے؟“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اس زرہ کی قیمت صرف چار سو درہم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، میں نے تیرا نکاح اس سے کر دیا ہے لیکن وہ زرہ ان کو دے کر اپنے لیے حلال کر لو۔“
(ب) اسی طرح میری کتاب میں ٤٠٠ درہم ہے اور ابن اسحاق کی روایت میں ٤ درہم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14351]
(ب) اسی طرح میری کتاب میں ٤٠٠ درہم ہے اور ابن اسحاق کی روایت میں ٤ درہم ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14351]
حدیث نمبر: 14352
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَصْدَقَ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا دِرْعًا مِنْ حَدِيدٍ وَجَرَّةَ دَوَّارٍ،" وَإِنَّ صَدَاقَ نِسَاءِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ خَمْسَمِائَةِ دِرْهَمٍ".
جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو حق مہر میں لوہے کی زرہ دی اور مٹی کا مٹکا دیا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عورتوں کا حق مہر پانچ سو درہم تھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14352]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14353
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنبأ الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الطُّوسِيُّ، ثنا أَبُو يَحْيَى بْنُ أَبِي مَسَرَّةَ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْجَارِيُّ، ثنا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ الْفَرَّاءُ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" كَانَ صَدَاقُنَا إِذَا كَانَ فِينَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَشْرَ أَوَاقٍ"، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہمارے حق مہر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دس اوقیہ یعنی ۴۰۰ درہم ہوا کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14353]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح