🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

2986. -- باب: الرخصة فيما يوطأ من الصور أو يقطع رءوسها وفي صور غير ذوات الأرواح من الأشجار وغيرها
-- باب: ان تصویروں کے بارے میں رخصت کا بیان جنہیں روندا جاتا ہو یا ان کے سر کاٹ دیے گئے ہوں، اور ان چیزوں کی تصویروں کی رخصت جو جاندار نہیں ہیں جیسے درخت وغیرہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14578
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَبُو صَالِحٍ مَحْبُوبُ بْنُ مُوسَى أنا أَبُو إِسْحَاقَ الْفَزَارِيُّ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فَمُرْ بِرَأْسِ التِّمْثَالِ الَّذِي فِي بَابِ الْبَيْتِ يُقْطَعُ فَيَصِيرُ كَهَيْئَةِ الشَّجَرَةِ.
یونس بن ابی اسحاق نے اپنی سند سے نقل کیا ہے کہ: ”گھر کے دروازے والی تصاویر کے سر کاٹ کر درختوں کی مانند بنا لو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14578]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14579
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا عَوْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِنِّي إِنْسَانٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي إِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ادْنُهُ ادْنُهُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ" قَالَ: فَرَبَا لَهَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً وَقَالَ وَيْحَكَ، إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ فَعَلَيْكَ بِالشَّجَرِ وَمَا لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَوْفٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدٍ.
سعید بن ابو حسن فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: تصاویر بنانا میرا پیشہ ہے، میں اس سے روزی کماتا ہوں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میرے قریب ہو جاؤ؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں تصویر بنائی قیامت کے دن اس کو مکلف ٹھہرایا جائے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے حالانکہ وہ روح پھونک نہ سکے گا۔“ اس شخص نے زیادہ بحث کی تو فرمانے لگے: تو ہلاک ہو، اگر بنانی ہیں تو درختوں کی تصاویر بنا لیا کرو جس میں روح نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14579]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2225۔ 7042»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14580
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ، نا سَهْلُ بْنُ بَكَّارٍ، نا وَهْبٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:" الصُّورَةُ الرَّأْسُ فَإِذَا قُطِعَ الرَّأْسُ فَلَيْسَ بِصُورَةٍ".
عکرمہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ: ”تصویر سر ہی تو ہے، جب سر کاٹ دیا جائے تو وہ تصویر نہیں ہوتی۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14580]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14581
وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّكَّرِيُّ، بِبَغْدَادَ أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ، نا سَعْدَانُ بْنُ نَصْرٍ، نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ:" كَانُوا يَكْرَهُونَ مَا نُصِبَ مِنَ التَّمَاثِيلِ نَصْبًا وَلَا يَرَوْنَ بِمَا وَطِئَتْهُ الْأَقْدَامُ بَأْسًا".
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ لٹکائی گئی تصاویر کو ناپسند کرتے تھے، لیکن جو پاؤں میں روندی جائیں ان میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14581]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14582
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ الْمُزَكِّي، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شُعْبَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ دَخَلَ عَلَى عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَعُودُهُ فَرَأَى عَلَيْهِ ثَوْبَ إِسْتَبْرَقٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا ⦗٤٤٢⦘ عَبَّاسٍ مَا هَذَا الثَّوْبُ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا: وَمَا هُوَ؟ قَالَ: الْإِسْتَبْرَقُ قَالَ: إِنَّمَا كُرِهَ ذَلِكَ لِمَنْ يَتَكَبَّرُ فِيهِ، قَالَ: مَا هَذِهِ التَّصَاوِيرُ فِي الْكَانُونِ؟ فَقَالَ: لَا جَرَمَ أَلَمْ تَرَ كَيْفَ أُحَرِّقُهَا بِالنَّارِ؟ فَلَمَّا خَرَجَ قَالَ: انْزِعُوا هَذَا الثَّوْبَ عَنِّي وَاقْطَعُوا رُءُوسَ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ الَّتِي فِي الْكَانُونِ فَقَطَعَهَا.
حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی بیمارپرسی کے لیے گئے تو ان پر مزین قسم کا لباس دیکھا یعنی ریشم کا، تو کہنے لگے: ”اے ابن عباس! یہ کیا کپڑا ہے؟“ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”وہ کیا ہے؟“ فرمایا: ”ریشم۔“ فرمانے لگے: ”یہ تو صرف تکبر کرنے والے کے لیے ناپسندیدہ ہے۔“ کہنے لگے: ”یہ انگیٹھی پر کیسی تصاویر ہیں؟“ فرمانے لگے: ”کیا تم نہیں دیکھتے کہ میں انہیں آگ سے کیسے جلا رہا ہوں؟“ جب مسور رضی اللہ عنہ چلے گئے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: ”اس کپڑے کو مجھ سے اتار دو اور انگیٹھی پر موجود ان تصاویر کے سر کاٹ دو۔“ تو انہوں نے کاٹ ڈالے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الصَّدَاقِ/حدیث: 14582]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں