السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2986. -- باب: الرخصة فيما يوطأ من الصور أو يقطع رءوسها وفي صور غير ذوات الأرواح من الأشجار وغيرها
-- باب: ان تصویروں کے بارے میں رخصت کا بیان جنہیں روندا جاتا ہو یا ان کے سر کاٹ دیے گئے ہوں، اور ان چیزوں کی تصویروں کی رخصت جو جاندار نہیں ہیں جیسے درخت وغیرہ۔
حدیث نمبر: 14579
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو سَعِيدِ بْنُ أَبِي عَمْرٍو قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، أنا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أنا عَوْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ: يَا أَبَا عَبَّاسٍ إِنِّي إِنْسَانٌ إِنَّمَا مَعِيشَتِي مِنْ صَنْعَةِ يَدِي إِنِّي أَصْنَعُ هَذِهِ التَّصَاوِيرَ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عَبَّاسٍ ادْنُهُ ادْنُهُ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ صَوَّرَ صُورَةً فِي الدُّنْيَا كُلِّفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ يَنْفُخَ فِيهَا الرُّوحَ وَلَيْسَ بِنَافِخٍ" قَالَ: فَرَبَا لَهَا الرَّجُلُ رَبْوَةً شَدِيدَةً وَقَالَ وَيْحَكَ، إِنْ أَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تَصْنَعَ فَعَلَيْكَ بِالشَّجَرِ وَمَا لَيْسَ فِيهِ رُوحٌ، أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ مِنْ حَدِيثِ عَوْفٍ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ عَنْ سَعِيدٍ.
سعید بن ابو حسن فرماتے ہیں کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہنے لگا: تصاویر بنانا میرا پیشہ ہے، میں اس سے روزی کماتا ہوں، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میرے قریب ہو جاؤ؛ کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے دنیا میں تصویر بنائی قیامت کے دن اس کو مکلف ٹھہرایا جائے گا کہ وہ اس میں روح پھونکے حالانکہ وہ روح پھونک نہ سکے گا۔“ اس شخص نے زیادہ بحث کی تو فرمانے لگے: تو ہلاک ہو، اگر بنانی ہیں تو درختوں کی تصاویر بنا لیا کرو جس میں روح نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب الصداق/حدیث: 14579]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ بخاري 2225۔ 7042»
الحكم على الحديث: صحيح
Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14579 in Urdu