السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3027. -- باب: ما يستحب لها رعاية لحق زوجها وإن لم يلزمها شرعا
-- باب: اس بیان میں کہ عورت کے لیے اپنے شوہر کے حق کی رعایت کرنا مستحب ہے اگرچہ وہ شرعی طور پر اس پر لازم نہ ہو۔
حدیث نمبر: 14716
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ دَاوُدَ الْعَلَوِيُّ أنا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ بَالَوَيْهِ الْمُزَكِّي، نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ قَالَ: هَذَا مَا حَدَّثَنَا بِهِ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خَيْرُ نِسَاءٍ رَكِبْنَ الْإِبِلَ نِسَاءُ قُرَيْشٍ، أَحْنَاهُ عَلَى وَلَدٍ فِي صِغَرِهِ وَأَرْعَاهُ عَلَى زَوْجٍ فِي ذَاتِ يَدِهِ" رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَأَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، مِنْ حَدِيثِ الْأَعْرَجِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہترین عورتیں وہ ہیں جو اونٹوں کی سواری کرتی ہیں وہ قریشی عورتیں ہیں؛ کیونکہ وہ بچپن میں اپنی اولاد پر بہت زیادہ شفقت کرتی ہیں اور خاوند کے مال کی حفاظت کرتی ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14716]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14717
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي قَالَ: ح وَأَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا ⦗٤٧٩⦘ أَبُو كُرَيْبٍ قَالَا: نا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي الزُّبَيْرُ وَمَا لَهُ فِي الْأَرْضِ مِنْ مَالٍ وَلَا مَمْلُوكٍ وَلَا شَيْءٍ غَيْرَ فَرَسِهِ، قَالَتْ: فَكُنْتُ أَعْلِفُ فَرَسَهُ وَأَكْفِيهِ مُؤْنَتَهُ وَأَسُوسُهُ وَأَدُقُّ النَّوَى لَنَا ضُحَةً وَاسْتَقَى الْمَاءَ وَأَخْرِزُ غَرْبَهُ وَأَعْجِنُ وَلَمْ أَكُنْ أُحْسِنُ أَخْبِزُ فَكَانَ تَخْبِزُ لِي جَارَاتٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَكُنَّ نِسْوَةَ صِدْقٍ، قُلْتُ: وَكُنْتُ أَنْفِلُ النَّوَى مِنْ أَرْضِ الزُّبَيْرِ الَّتِي أَقْطَعَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِي وَهِيَ عَلَى ثُلُثَيْ فَرْسَخٍ قَالَتْ: فَجِئْتُ وَالنَّوَى عَلَى رَأْسِي، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ فَدَعَانِي ثُمَّ قَالَ:" أَخْ أَخْ"؛ لِيَحْمِلَنِي خَلْفَهُ، قَالَتْ: فَاسْتَحْيَتْ وَعَرَفْتُ غَيْرَتَهُ قَالَتْ: قَالَ:" فَوَاللهِ لَحَمْلُكِ عَلَى رَأْسِكِ أَشَدُّ مِنْ رُكُوبِكِ مَعَهُ" قَالَتْ: حَتَّى أَرْسَلَ إِلِيَّ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ بِخَادِمٍ تكْفِينِي سِيَاسَةَ الْفَرَسِ فَكَأَنَّمَا أَعْتَقَنِي رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ، وَرَوَاهُ الْبُخَارِيُّ، عَنْ مَحْمُودٍ عَنْ أَبِي أُسَامَةَ.
اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ زبیر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے شادی کی تو ان کے پاس زمین، مال اور غلام نہ تھے سوائے ایک گھوڑے کے۔ کہتی ہیں: میں گھوڑے کے لیے گھاس لاتی اور ان کے کام کرتی، گھوڑے کا خیال رکھتی اور اس کے لیے گٹھلیاں پیستی، پانی پلاتی اور ان کا ڈول سیتی، آٹا گوندھتی لیکن میں روٹی اچھی نہ پکا سکتی تھی۔ انصاری بچیاں مجھے روٹی پکا کر دیتی تھیں اور وہ سچی عورتیں تھیں۔ کہتی ہیں: میں زبیر رضی اللہ عنہ کی زمین سے اپنے سر پر دو تہائی فرسخ کے فاصلہ سے کھجور کی گٹھلیاں لے کر آتی تھی۔ فرماتی ہیں: میں گٹھلیاں لے کر آ رہی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس صحابہ رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت تھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: ”میرے پیچھے سوار ہو جاؤ۔“ کہتی ہیں: میں نے شرم محسوس کی اور اپنے خاوند زبیر رضی اللہ عنہ کی غیرت کو پہچانا۔ زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کی قسم! تمہارا گٹھلیوں کو سر پر اٹھانا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سوار ہونے سے زیادہ سخت ہے۔“ فرماتی ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے میرے پاس ایک خادم بھیج دیا جو میرے پاس گھوڑے کی دیکھ بھال سے کفایت کرتا تھا، گویا کہ انہوں نے مجھے آزاد کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14717]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14718
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظِ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ سُلَيْمَانُ: أَظُنُّهُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: شَكَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَا تَلْقَى مِنْ أَثَرِ الرَّحَى فِي يَدِهَا قَالَ: فَذَهَبَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَلَمْ تَرَهُ قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَلَمَّا جَاءَ ذَكَرْتُ لَهُ قَالَ: فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْتُ أَقُومُ فَقَالَ: مَكَانَكِ ثُمَّ جَلَسَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ:" أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمِدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ خَادِمٍ" وَقَالَ خَالِدٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ: التَّسْبِيحُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّكَّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ.
ابن ابی لیلیٰ (سلیمان کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی پیسنے کی وجہ سے جو نشانات ان کے ہاتھ میں پڑ گئے تھے اس کی شکایت کی۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خادم مانگنے گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (گھر پر) نہ پایا۔ راوی کہتا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس کا تذکرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم سونے کی تیاری کر رہے تھے تو میں اٹھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جگہ پر رہو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھ گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم دونوں کو وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہو؟ جب تم دونوں سونے لگو تو 33 بار «سُبْحَانَ اللهِ» ”سبحان اللہ“، 33 بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ اور 34 بار «اَللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہے۔“ خالد، ابن سیرین سے نقل فرماتے ہیں کہ «سُبْحَانَ اللهِ» ”سبحان اللہ“ 34 مرتبہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14718]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»
الحكم على الحديث: صحيح