🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:
3027. -- باب: ما يستحب لها رعاية لحق زوجها وإن لم يلزمها شرعا
-- باب: اس بیان میں کہ عورت کے لیے اپنے شوہر کے حق کی رعایت کرنا مستحب ہے اگرچہ وہ شرعی طور پر اس پر لازم نہ ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14718
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظِ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، نا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، نا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ سُلَيْمَانُ: أَظُنُّهُ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: شَكَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا مَا تَلْقَى مِنْ أَثَرِ الرَّحَى فِي يَدِهَا قَالَ: فَذَهَبَتْ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَسْأَلُهُ خَادِمًا فَلَمْ تَرَهُ قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا، فَلَمَّا جَاءَ ذَكَرْتُ لَهُ قَالَ: فَجَاءَنَا وَقَدْ أَخَذْنَا مَضَاجِعَنَا فَذَهَبْتُ أَقُومُ فَقَالَ: مَكَانَكِ ثُمَّ جَلَسَ بَيْنَنَا حَتَّى وَجَدْتُ بَرْدَ قَدَمَيْهِ عَلَى صَدْرِي فَقَالَ:" أَلَا أَدُلُّكُمَا عَلَى مَا هُوَ خَيْرٌ لَكُمَا مِنْ خَادِمٍ إِذَا أَخَذْتُمَا مَضَاجِعَكُمَا فَسَبِّحَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَاحْمِدَا ثَلَاثًا وَثَلَاثِينَ وَكَبِّرَا أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ فَهُوَ خَيْرٌ لَكُمْ مِنْ خَادِمٍ" وَقَالَ خَالِدٌ عَنِ ابْنِ سِيرِينَ: التَّسْبِيحُ أَرْبَعًا وَثَلَاثِينَ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَلَمْ يَذْكُرِ الشَّكَّ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ، مِنْ أَوْجُهٍ عَنْ شُعْبَةَ.
ابن ابی لیلیٰ (سلیمان کہتے ہیں: میرا خیال ہے کہ) سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے نقل فرماتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے چکی پیسنے کی وجہ سے جو نشانات ان کے ہاتھ میں پڑ گئے تھے اس کی شکایت کی۔ راوی کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس خادم مانگنے گئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (گھر پر) نہ پایا۔ راوی کہتا ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے اس کا تذکرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم سونے کی تیاری کر رہے تھے تو میں اٹھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی جگہ پر رہو“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان بیٹھ گئے تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں کی ٹھنڈک اپنے سینے میں محسوس کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تم دونوں کو وہ چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہو؟ جب تم دونوں سونے لگو تو 33 بار «سُبْحَانَ اللهِ» ”سبحان اللہ“، 33 بار «الْحَمْدُ لِلّٰهِ» ”الحمد للہ“ اور 34 بار «اَللهُ أَكْبَرُ» ”اللہ اکبر“ پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہے۔“ خالد، ابن سیرین سے نقل فرماتے ہیں کہ «سُبْحَانَ اللهِ» ”سبحان اللہ“ 34 مرتبہ۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كتاب القسم والنشوز/حدیث: 14718]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ متفق عليه»

الحكم على الحديث: صحيح

Sunan Al Kubra Bayhaqi Hadith 14718 in Urdu