🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3043. -- باب: ما جاء في ضربها
-- باب: عورت کو مارنے (سزا دینے) کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14774
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، نا عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ الْحَجَبِيُّ، أنا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ فِي قِصَّةِ حَجِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَخُطْبَتِهِ بِعَرَفَةَ قَالَ:" اتَّقُوا اللهَ فِي النِّسَاءِ فَإِنَّكُمْ أَخَذْتُمُوهُنَّ بِأَمَانَةِ اللهِ وَاسْتَحْلَلْتُمْ فُرُوجَهُنَّ بِكَلِمَةِ اللهِ، وَإِنَّ لَكُمْ عَلَيْهِنَّ أَنْ لَا يُوطِئْنَ فُرُشَكُمْ أَحَدًا تَكْرَهُونَهُ فَإِنْ فَعَلْنَ ذَلِكَ فَاضْرِبُوهُنَّ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ" أَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ وَغَيْرُهُ عَنْ حَاتِمِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حج اور عرفہ کے خطبہ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم عورتوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، تم نے اللہ کے وعدے اور نکاح کے ذریعے ان کی شرمگاہوں کو حلال کیا ہے اور تمہارا حق ان کے ذمے یہ ہے کہ وہ تمہارے بستر کو نہ روندیں جس کو تم ناپسند کرتے ہو۔ اگر وہ پھر ایسا کریں تو ظاہر نہ ہونے والی پٹائی کرو اور ان کے حقوق تمہارے ذمہ یہ ہیں کہ ان کا کھلانا اور پہننا اچھائی کے ساتھ ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14774]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ مسلم 1218»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14775
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مَحْمَشٍ الْفَقِيهُ أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ إِيَاسِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"" لَا تَضْرِبُوا إِمَاءَ اللهِ"" قَالَ: فَذَئِرَ النِّسَاءُ وَسَاءَتْ أَخْلَاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَا رَسُولَ اللهِ: ذَئِرَ النِّسَاءُ وَسَاءَتْ أَخْلَاقُهُنَّ عَلَى أَزْوَاجِهِنَّ مُنْذُ نَهَيْتَ عَنْ ضَرْبِهِنَّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"" فَاضْرِبُوهُنَّ""، قَالَ: فَضَرَبَ النَّاسُ نِسَاءَهُمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ قَالَ: فَأَتَى نِسَاءٌ كَثِيرٌ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَصْبَحَ:"" لَقَدْ طَافَ بِآلِ مُحَمَّدٍ اللَّيْلَةَ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ يَشْتَكِينَ الضَّرْبَ وَايْمُ اللهِ لَا تَجِدُونَ أُولَئِكَ خِيَارَكُمْ"" بَلَغَنَا عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ: لَا يُعْرَفُ لِإِيَاسٍ صُحْبَةٌ، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ مُرْسَلًا.
سیدنا ایاس بن عبداللہ بن ابی ذباب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اللہ کی بندیوں کو نہ مارو۔“ کہنے لگے: عورتیں دلیر ہوگئی ہیں اور اپنے خاوندوں سے برے اخلاق سے پیش آتی ہیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! عورتیں دلیر ہوگئی ہیں اور ان کے اخلاق خاوندوں کے خلاف بگڑ گئے ہیں جب سے آپ نے ان کو مارنے سے منع کیا ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو مارو۔“ راوی کہتے ہیں: لوگوں نے اس رات اپنی عورتوں کی پٹائی کی۔ راوی کہتے ہیں: بہت ساری عورتیں پٹائی کی شکایت لے کر حاضر ہوگئیں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صبح کی تو فرمایا: ”آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس 70 عورتیں آئیں، وہ ساری کی ساری مار کی شکایت کر رہی تھیں، اللہ کی قسم! تم ایسے لوگوں کو اچھے لوگ نہیں پاؤ گے۔“
امام محمد بن اسماعیل بخاری رحمہ اللہ سے ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا: ایاس کا صحابی ہونا معروف نہیں ہے۔ یہ روایت ایک دوسری سند سے مرسل بھی بیان کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14775]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14776
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدَانَ، أنا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا ابْنُ مِلْحَانَ، نا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، نا اللَّيْثُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الصَّفَّارُ أنا أَبُو إِسْمَاعِيلَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ السُّلَمِيُّ نا سَعِيدُ بْنُ كَثِيرِ بْنِ عُفَيْرٍ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ قَالَا: نا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ، عَنْ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ:" كَانَ الرِّجَالُ نُهُوا عَنْ ضَرْبِ النِّسَاءِ، ثُمَّ شَكَوْهُنَّ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَلَّى بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ ضَرْبِهِنَّ ثُمَّ قُلْتُ: لَقَدْ طَافَ اللَّيْلَةَ بِآلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعُونَ امْرَأَةً كُلُّهُنَّ قَدْ ضُرِبَتْ" قَالَ يَحْيَى: وَحَسِبْتُ أَنَّ الْقَاسِمَ قَالَ: ثُمَّ قِيلَ لَهُمْ بَعْدُ: وَلَنْ يَضْرِبَ خِيَارُكُمْ.
سیدہ ام کلثوم بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ مردوں کو عورتوں کے مارنے سے منع کر دیا گیا تو انہوں نے عورتوں کی شکایت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مارنے کی اجازت دے دی۔ پھر میں نے کہا کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آج رات ٧٠ ستر عورتیں آئیں جن کو مارا گیا تھا۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ وہ قاسم تھے۔ راوی کہتے ہیں: پھر بعد میں ان سے کہا گیا: ”تمہارے اچھے لوگ ہرگز نہ ماریں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14776]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»

الحكم على الحديث: صحيح لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14777
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ، نا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ أُمِّ أَيْمَنَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى بَعْضَ أَهْلِ بَيْتِهِ" لَا تُشْرِكْ بِاللهِ وَإِنْ عُذِّبْتَ وَإِنْ حُرِّقْتَ، وَأَطِعْ وَالِدَيْكَ وَإِنْ أَمَرَاكَ أَنْ تَخْرُجَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ فَاخْرُجْ وَلَا تَتْرُكِ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَإِنَّهُ مَنْ تَرَكَ الصَّلَاةَ مُتَعَمِّدًا فَقَدْ بَرِئَتْ مِنْهُ ذِمَّةُ اللهِ إِيَّاكَ، وَالْخَمْرَ فَإِنَّهَا مِفْتَاحُ كُلِّ شَرٍّ، وَإِيَّاكَ وَالْمَعْصِيَةَ فَإِنَّهَا لَسُخْطُ اللهِ لَا تُنَازِعَنَّ الْأَمْرَ أَهْلَهُ وَإِنْ رَأَيْتَ أَنَّ لَكَ، وَلَا تَفِرَّ مِنَ الزَّحْفِ وَإِنْ أَصَابَ النَّاسَ مَوْتَانِ وَأَنْتَ فِيهِمْ فَاثْبُتْ، أَنْفِقْ عَلَى أَهْلِ بَيْتِكَ مِنْ طَوْلِكَ وَلَا تَرْفَعْ عَصَاكَ عَنْهُمْ وَأَخِفْهُمْ فِي اللهِ عَزَّ وَجَلَّ" قَالَ الشَّيْخُ: فِي هَذَا إِرْسَالٌ بَيْنَ مَكْحُولٍ وَأُمِّ أَيْمَنَ قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ الْكِسَائِيُّ وَغَيْرُهُ: يُقَالُ إِنَّهُ لَمْ يُرِدِ الْعَصَا الَّتِي يُضْرَبُ بِهَا وَلَا أَمَرَ أَحَدًا قَطُّ بِذَلِكَ وَلَكِنَّهُ أَرَادَ الْأَدَبَ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: وَأَصْلُ الْعَصَا الِاجْتِمَاعُ وَالِائْتِلَافُ.
سیدہ امِ ایمن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو نصیحت کی کہ: ”اللہ کے ساتھ شرک نہ کریں، اگرچہ عذاب دیا جائے یا جلا دیا جائے، اور اپنے والدین کی اطاعت کرو، اگرچہ وہ تجھے حکم دیں کہ ہر چیز کو چھوڑ دو، اور فرض نماز کو جان بوجھ کر نہ چھوڑنا، جس نے فرض نماز کو جان بوجھ کر چھوڑا، اس سے اللہ کا ذمہ ختم ہو گیا، شراب سے بچو کیونکہ یہ تمام برائیوں کی جڑ ہے، اور نافرمانی سے بچو، یہ اللہ کی ناراضگی ہے، اور حکومت والوں سے حکومت نہ چھینو، اگرچہ آپ کا خیال ہے کہ آپ کے لیے مناسب ہے، اور لڑائی سے نہ بھاگ، اگرچہ لوگوں کو موت آئے۔ اگر تو ان میں موجود ہو تو ثابت قدم رہ، اور اپنے گھر والوں پر اپنے مال سے خرچ کر، اور اپنی لاٹھی ان سے نہ اٹھا، اور انہیں اللہ رب العزت کے بارے میں ڈراتا رہ۔“ کسائی وغیرہ فرماتے ہیں کہ لاٹھی سے مراد وہ نہیں جس سے مارا جاتا ہے بلکہ ادب سکھلانا مقصود ہے۔
اس روایت میں مکحول اور ام ایمن کے درمیان ارسال (انقطاع) ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14777]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں