السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3052. -- باب: ما جاء في دخول الحمام
-- باب: حمام (غسل خانے) میں داخل ہونے کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 14802
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا حَمَّادٌ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ، أنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، نا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْ أَبِي عُذْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى الرِّجَالَ وَالنِّسَاءَ عَنْ دُخُولِ الْحَمَّامَاتِ، ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوا وَعَلَيْهِمُ الْأُزُرُ وَلَمْ يُرَخِّصْ لِلنِّسَاءِ" لَفْظُ حَدِيثِ الْمُقْرِئِ وَفِي رِوَايَةِ الرُّوذْبَارِيِّ نَهَى عَنْ دُخُولِ الْحَمَّامَاتِ ثُمَّ رَخَّصَ لِلرِّجَالِ أَنْ يَدْخُلُوهَا فِي الْمَيَازِرِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ”مردوں اور عورتوں کو حمام میں داخل ہونے سے منع فرمایا ہے۔“ پھر مردوں کو ”چادروں سمیت داخل ہونے کی اجازت دی“ اور عورتوں کو رخصت نہ دی۔
(ب) روذباری کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حماموں میں داخل ہونے سے منع فرما دیا، پھر مردوں کو اجازت مل گئی اس شرط پر کہ وہ چادروں سمیت داخل ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14802]
(ب) روذباری کی روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حماموں میں داخل ہونے سے منع فرما دیا، پھر مردوں کو اجازت مل گئی اس شرط پر کہ وہ چادروں سمیت داخل ہوں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14802]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14803
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ فُورَكٍ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، نا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي مَلِيحٍ الْهُذَلِيِّ، أَنَّ نِسَاءً مِنْ أَهْلِ حِمْصٍ أَوْ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ دَخَلْنَ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا فَقَالَتْ: أَنْتُنَّ اللَّاتِي يَدْخُلْنَ نِسَاؤُكُنَّ الْحَمَّامَاتِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَا مِنَ امْرَأَةٍ تَضَعُ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا إِلَّا هَتَكَتِ السِّتْرَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ" وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا وَعَنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوعًا.
ابو ملیح ہذلی سے روایت ہے کہ اہل حمص یا اہل شام کی عورتیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو انہوں نے فرمایا: کیا تم وہ عورتیں ہو جو حماموں میں داخل ہوتی ہو؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت اپنے کپڑے خاوند کے گھر کے علاوہ اتارتی ہے تو وہ اپنے اور اللہ کے درمیان پردے کو پھاڑ ڈالتی ہے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14803]
تخریج الحدیث: «ضعيف۔ اخرجه الطيالسي 1621»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14804
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ، أنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهَا سَتُفْتَحُ لَكُمْ أَرْضُ الْأَعَاجِمِ وَسَتَجِدُونَ فِيهَا بُيُوتًا يُقَالُ لَهَا الْحَمَّامَاتُ فَلَا يَدْخُلَنَّهَا الرِّجَالُ إِلَّا بِالْأُزُرِ، وَامْنَعُوا النِّسَاءَ أَنْ يَدْخُلْنَهَا إِلَّا مَرِيضَةً أَوْ نُفَسَاءَ".
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عجمیوں کی زمین فتح ہوگی تو تم وہاں کچھ گھر پاؤ گے جن کو حمام کہا جاتا ہوگا، ان میں مرد چادر باندھ کر جائیں اور عورتوں کو منع کرو، صرف بیمار یا نفاس والی داخل ہو۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14804]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14805
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أنا سُلَيْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَيُّوبَ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا أَبُو نُعَيْمٍ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْذَرُوا بَيْتًا يُقَالُ لَهُ الْحَمَّامُ" قِيلَ: فَإِنَّهُ يَذْهَبُ بِالْوَسَخِ وَيَنْفَعُ قَالَ:" فَمَنْ دَخَلَهُ فَلْيَسْتَتِرْ" قَالَ سُلَيْمَانُ: هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو نُعَيْمٍ وَغَيْرُهُ مَقْطُوعًا وَرَوَاهُ يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ مَوْصُولًا.
ابن طاؤس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان گھروں سے بچو جن کو حمام کہا جاتا ہے،“ کہا گیا: وہ میل ختم کرتے ہیں اور نفع دیتے ہیں، فرمایا: ”جو ان میں داخل ہو وہ با پردہ داخل ہو۔“
سلیمان کہتے ہیں: ابو نعیم وغیرہ نے اسے اسی طرح مقطوع (منقطع) روایت کیا ہے اور یعلیٰ بن عبید نے اسے موصول روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14805]
سلیمان کہتے ہیں: ابو نعیم وغیرہ نے اسے اسی طرح مقطوع (منقطع) روایت کیا ہے اور یعلیٰ بن عبید نے اسے موصول روایت کیا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14805]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14806
أَخْبَرَنَا عَلِيٌّ، أنا سُلَيْمَانُ، نا عَبْدَانُ بْنُ أَحْمَدَ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ، نا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" احْذَرُوا بَيْتًا يُقَالُ لَهُ الْحَمَّامُ" قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ إِنَّهُ يُنْتَفَعُ بِهِ وَيُنَقِّي الْوَسَخَ، قَالَ:" فَاسْتَتِرُوا" قَالَ الشَّيْخُ: رَوَاهُ الْجُمْهُورُ عَنِ الثَّوْرِيِّ عَلَى الْإِرْسَالِ، وَكَذَلِكَ رَوَاهُ أَيُّوبُ السَّخْتِيَانِيُّ وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ وَرَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ وَغَيْرُهُمْ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ مُرْسَلًا، وَرُوِيَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ وَغَيْرِهِ عَنِ ابْنِ طَاوُسٍ مَوْصُولًا.
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان گھروں سے بچو جن کو حمام کہا جاتا ہے“، انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان سے نفع حاصل کیا جاتا ہے اور میل صاف کی جاتی ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”باپردہ داخل ہوا کرو“۔
جمہور نے اسے ثوری سے مرسل روایت کیا ہے، اسی طرح ایوب سختیانی، سفیان بن عیینہ، روح بن قاسم وغیرہ نے اسے ابن طاؤس سے مرسل روایت کیا ہے، اور محمد بن اسحاق بن یسار وغیرہ سے یہ ابن طاؤس کے واسطے سے موصول روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14806]
جمہور نے اسے ثوری سے مرسل روایت کیا ہے، اسی طرح ایوب سختیانی، سفیان بن عیینہ، روح بن قاسم وغیرہ نے اسے ابن طاؤس سے مرسل روایت کیا ہے، اور محمد بن اسحاق بن یسار وغیرہ سے یہ ابن طاؤس کے واسطے سے موصول روایت کی گئی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14806]
تخریج الحدیث: «منكر»
الحكم على الحديث: منكر
حدیث نمبر: 14807
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْفَارِسِيُّ أنا أَبُو عَمْرِو بْنُ مَطَرٍ، أنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ، نا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، نا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، نا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ يَزِيدَ الْخَطْمِيِّ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلَا يَدْخُلِ الْحَمَّامَ إِلَّا بِمِئْزَرٍ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ مِنْ نِسَائِكُمْ فَلَا تَدْخُلَنَّ الْحَمَّامَ" قَالَ: فَنُمِيَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي خِلَافَتِهِ فَكَتَبَ إِلَى أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ أَنْ سَلْ مُحَمَّدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ حَدِيثِهِ فَإِنَّهُ رِضًا فَسَأَلَهُ ثُمَّ كَتَبَ إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَمَنَعَ عُمَرُ النِّسَاءَ مِنَ الْحَمَّامِ.
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ حمام میں چادر سمیت داخل ہو اور اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی عورتیں حمام میں داخل نہ ہوں۔“ راوی کہتے ہیں کہ یہ بات حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ تک ان کی خلافت میں پہنچی تو انہوں نے ابوبکر بن عمرو بن حزم رحمہ اللہ کو خط لکھا کہ آپ محمد بن ثابت رحمہ اللہ سے ان کی اس حدیث کے بارے میں سوال کریں کیونکہ وہ پسندیدہ (ثقہ) آدمی ہیں، تو انہوں نے ان سے پوچھ کر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو لکھا۔ پھر عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے عورتوں کو حمام میں داخل ہونے سے روک دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14807]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14808
أَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، نا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حُدَيْرِ بْنِ كُرَيْبٍ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنْ أَبِي ⦗٥٠٥⦘ الدَّرْدَاءِ أَنَّهُ كَانَ يَدْخُلُ الْحَمَّامَ فَيَقُولُ:" نِعْمَ الْبَيْتُ الْحَمَّامُ يُذْهِبُ الْوَسَخَ وَيُذَكِّرُ النَّارَ"، يَقُولُ:" بِئْسَ الْبَيْتُ الْحَمَّامُ؛ لِأَنَّهُ يَكْشِفُ عَنْ أَهْلِهِ الْحَيَاءَ".
جبیر بن نفیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ حمام میں داخل ہوئے تھے اور فرماتے تھے کہ حمام اچھا گھر ہے، وہ میل کو دور کرتا ہے اور آگ کو یاد دلاتا ہے، اور وہ فرماتے تھے کہ حمام برا گھر ہے کیونکہ اس کے اہل سے حیا ختم ہو جاتی ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14808]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14809
قَالَ: وَنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ سُلَيْمَانَ، أَنَّهُ سَأَلَ نَافِعًا مَوْلَى ابْنِ عُمَرَ عَنِ الْحَمَّامِ لِلنِّسَاءِ قَالَ:" لَسْنَا نَرَاهُ حَرَامًا، وَلَكِنَّنَا نَنْهَى نِسَاءَنَا عَنْهُ".
عبداللہ بن سلیمان نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نافع رحمہ اللہ سے عورتوں کے لیے حمام کے بارے میں سوال کیا، انہوں نے کہا: ہم اس کو حرام تو خیال نہیں کرتے ہیں لیکن ہم اپنی عورتوں کو اس سے منع کرتے ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14809]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14810
قَالَ عَبْدُ اللهِ بْنُ سُلَيْمَانَ ثُمَّ سَأَلْتُ بُكَيْرًا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" لَسْنَا نَرَاهُ حَرَامًا وَأَنْ يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَهُنَّ" وَرُوِّينَا عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا أَنَّهُ قَالَ:" نِعْمَ الْبَيْتُ الْحَمَّامُ يُذْهِبُ الْوَسَخَ وَيُذَكِّرُ النَّارَ".
عبداللہ بن سلیمان کہتے ہیں کہ میں نے بکیر سے سوال کیا تو فرمانے لگے: ہم حرام تو خیال نہیں کرتے لیکن عورتیں ان سے بچیں تو بہتر ہے۔
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حمام اچھا گھر ہے، وہ میل کچیل کو ختم کرتا ہے اور جہنم کی یاد دلاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14810]
(ب) سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حمام اچھا گھر ہے، وہ میل کچیل کو ختم کرتا ہے اور جہنم کی یاد دلاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ القَسْمِ وَالنُّشُوزِ/حدیث: 14810]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف