السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3065. -- باب: الطلاق قبل النكاح
-- باب: نکاح سے پہلے طلاق دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 14889
أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو صَالِحٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي ابْنُ الْهَادِ، عَنِ الْمُنْذِرِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي الْحَكَمِ، أَنَّ ابْنَ أَخِيهِ خَطَبَ ابْنَةَ عَمٍّ لَهُ فَتَشَاجَرَا فِي بَعْضِ الْأَمْرِ، فَقَالَ الْفَتَى: هِيَ طَالِقٌ إِنْ نَكَحْتُهَا حَتَّى آكُلَ الْغَضِيضَ، وَالْغَضِيضُ طَلْعُ النَّخْلِ الذَّكَرِ ثُمَّ نَدِمُوا عَلَى مَا كَانَ مِنَ الْأَمْرِ، فَقَالَ الْمُنْذِرُ: أَنَا آتِيكُمْ مِنْ ذَلِكَ بِالْبَيَانِ قَالَ: فَانْطَلَقْتُ إِلَى سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِي خَطَبَ ابْنَةَ عَمٍّ لَهُ فَشَجَرَ بَيْنَهُمْ بَعْضُ الْأَمْرِ فَقَالَ هِيَ طَالِقٌ إِنْ نَكَحْتُهَا حَتَّى آكُلَ الْغَضِيضَ، قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ:" لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ طَلَّقَ مَا لَا يَمْلِكُ" ثُمَّ إِنِّي سَأَلْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ:" لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ طَلَّقَ مَا لَا يَمْلِكُ" ثُمَّ سَأَلْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَقَالَ:" لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ طَلَّقَ مَا لَا يَمْلِكُ" ثُمَّ سَأَلْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ:" لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ طَلَّقَ مَا لَمْ يَمْلِكُ" ثُمَّ سَأَلْتُ عُبَيْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ:" لَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ طَلَّقَ ⦗٥٢٦⦘ مَا لَا يَمْلِكُ" ثُمَّ سَأَلْتُ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَقَالَ: هَلْ سَأَلْتَ أَحَدًا قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ فَسَمَّاهُمْ قَالَ: ثُمَّ رَجَعْتُ إِلَى الْقَوْمِ فَأَخْبَرْتُهُمْ بِمَا سَأَلْتُ عَنْهُ".
(١٤٨٨٩) منذر بن علی بن ابی حکم نے کہا کہ اس کے بھتیجے نے اس کے چچا کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دیا۔ ان کا آپس میں جھگڑا ہوگیا تو نوجوان نے کہا: اگر میں نے اس سے نکاح کرلیا تو اسے طلاق ہے، یہاں تک کہ میں کھجور کے تر پھل کھا لوں۔ پھر اپنے کیے پر شرمندہ ہوا تو منذر کہنے لگے: میں تمہیں اس بارے میں بیان کروں گا۔ منذر کہتے ہیں: میں سعید بن مسیب کے پاس گیا۔ میں نے کہا: ہمارے ایک شخص نے اپنی چچا کی بیٹی کو نکاح کا پیغام دیا ہے تو کسی معاملہ پر ان کا جھگڑا ہوگیا۔ اس جوان نے کہہ دیا: اگر میں نے اس سے نکاح کرلیا تو اسے طلاق ہے تو ابن مسیب فرمانے لگے: اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں ہے کیونکہ اس نے طلاق اس کو دی جو اس کی بیوی نہ تھی۔
(ب) جس نے عروہ بن زبیر سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: اس پر کچھ نہیں، اس نے طلاق اسے دی جس کا وہ مالک نہ تھا۔
(ج) پھر میں نے ابو سلمہ بنع بدالرحمن سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا: اس کے ذمہ کچھ نہیں، اس نے طلاق اسے دی جس کا وہ مالک نہ تھا۔
(د) پھر میں نے ابوبکر بن عبدالرحمن سے پوچھا تو انھوں نے کہا: اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں کیونکہ اس نے طلاق اسے دی جس کا وہ مالک نہیں تھا۔
(ذ پھر میں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے پوچھا تو وہ فرماتے ہیں: اس کے ذمہ کچھ نہیں اس نے طلاق اسے دی جس کا وہ مالک نہ تھا۔
(ر) پھر میں نے عمر بن عبدالعزیز سے پوچھا تو فرمانے لگے: تو نے کسی سے پوچھا ہے؟ تو میں نے ان کے نام لیے۔ پھر واپس آکر میں نے لوگوں کو بتادیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14889]
(ب) جس نے عروہ بن زبیر سے اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے فرمایا: اس پر کچھ نہیں، اس نے طلاق اسے دی جس کا وہ مالک نہ تھا۔
(ج) پھر میں نے ابو سلمہ بنع بدالرحمن سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا: اس کے ذمہ کچھ نہیں، اس نے طلاق اسے دی جس کا وہ مالک نہ تھا۔
(د) پھر میں نے ابوبکر بن عبدالرحمن سے پوچھا تو انھوں نے کہا: اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں کیونکہ اس نے طلاق اسے دی جس کا وہ مالک نہیں تھا۔
(ذ پھر میں نے عبید اللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے پوچھا تو وہ فرماتے ہیں: اس کے ذمہ کچھ نہیں اس نے طلاق اسے دی جس کا وہ مالک نہ تھا۔
(ر) پھر میں نے عمر بن عبدالعزیز سے پوچھا تو فرمانے لگے: تو نے کسی سے پوچھا ہے؟ تو میں نے ان کے نام لیے۔ پھر واپس آکر میں نے لوگوں کو بتادیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14889]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 14890
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي سَلَمَةُ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ قَالَ: كَتَبَ الْوَلِيدُ بْنُ يَزِيدَ إِلَى أُمَرَاءِ الْأَمْصَارِ أَنْ يَكْتُبُوا، إِلَيْهِ بِالطَّلَاقِ قَبْلَ النِّكَاحِ وَكَانَ قَدِ ابْتُلِيَ بِذَلِكَ فَكَتَبَ إِلَى عَامِلِهِ بِالْيَمَنِ فَدَعَا ابْنَ طَاوُسٍ وَإِسْمَاعِيلَ بْنَ شَرُوسٍ وَسِمَاكَ بْنَ الْفَضْلِ فَأَخْبَرَهُمُ ابْنُ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ شَرُوسٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَسِمَاكٌ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَنَّهُمْ قَالُوا:" لَا طَلَاقَ قَبْلَ النِّكَاحِ" قَالَ: ثُمَّ قَالَ سِمَاكٌ مِنْ عِنْدِهِ: إِنَّمَا النِّكَاحُ عُقْدَةٌ تُعْقَدُ، وَالطَّلَاقُ يَحُلُّهَا وَكَيْفَ تُحَلُّ عُقْدَةٌ قَبْلَ أَنْ تُعْقَدُ؟ فَأُعْجِبَ الْوَلِيدُ مِنْ قَوْلِهِ وَأَخَذَ بِهِ وَكَتَبَ إِلَى عَامِلِهِ بِالْيَمَنِ أَنْ يَسْتَعْمِلَهُ عَلَى الْقَضَاءِ.
(١٤٨٩٠) حضرت معمر فرماتے ہیں کہ ولید بن یزید نے شہروں کے امراہ کو لکھا کہ وہ نکاح سے پہلے طلاق کے بارے میں لکھیں جس مسئلہ میں ان کی آزمائش کی گئی تو اس نے اپنے یمن کے عامل کو لکھا۔ اس نے ابن طاؤس، اسماعیل بن شروس اور سماک بن فضل کو بلایا تو ابن طاؤس نے اپنے والد سے اور اسماعیل بن شروس نے عطاء بن ابی رباح سے اور سماک نے وہب بن منیبہ سے بیان کیا کہ نکاح سے پہلے کوئی طلاق نہیں۔ پھر سماک نے اپنی جانب سے بیان کیا کہ نکاح ایک گرہ ہوتی ہے اور طلاق اس گرہ کو کھولتی ہے تو گرہ لگانے سے پہلے اس کو کیسے کھولا جائے گا تو ولید کو سماک کا قول پسند آیا۔ اسی قول کو انھوں نے قبول کیا اور اپنے یمن کے عامل کو لکھا کہ ان کو قاضی کے عہد پر فائز کردیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14890]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14891
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْمُعَاذِيُّ، أنا أَبُو عَلِيٍّ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الصَّوَّافُ الْبَغْدَادِيُّ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْقَطَّانُ، ثنا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ قَالَ: إِذَا قَالَ الرَّجُلُ:" يَوْمَ أَتَزَوَّجُ فُلَانَةَ فَهِيَ طَالِقٌ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ" قَالَ الشَّيْخُ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: وَرَوَاهُ سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي الْمُغِيرَةِ عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ وَعَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ وَرَوَاهُ قَتَادَةُ عَنِ الْحَسَنِ وَابْنِ الْمُسَيِّبِ وَعَطَاءٍ وَعِكْرِمَةَ وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَلِكِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَرَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ عَنْ أَبِي الشَّعْثَاءِ، وَرَوَاهُ أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ رَوَاحٍ الضَّبِّيُّ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ وَمُجَاهِدًا، وَعَطَاءً عَنْ رَجُلٍ قَالَ: يَوْمَ أَتَزَوَّجُ فُلَانَةَ فَهِيَ طَالِقٌ قَالُوا: لَيْسَ بِشَيْءٍ وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: يَا ابْنَ أَخِي أَيَكُونُ سَيْلٌ قَبْلَ مَطَرٍ.
(١٤٨٩١) حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص کہے کہ جس دن میں نے فلاں عورت سے شادی کی اس کو طلاق ہے، اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں۔
(ب) حسن بن رواح عنبی کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب مجاہد اور عطاء سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جو کہتا ہے کہ جس دن میں نے فلاں عورت سے شادی کی اس کو طلاق ہے تو اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں اور سعید بن مسیب کہتے ہیں: اے بھتیجے! کیا بارش سے پہلے سیلاب آجاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14891]
(ب) حسن بن رواح عنبی کہتے ہیں: میں نے سعید بن مسیب مجاہد اور عطاء سے ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جو کہتا ہے کہ جس دن میں نے فلاں عورت سے شادی کی اس کو طلاق ہے تو اس کے ذمہ کچھ بھی نہیں اور سعید بن مسیب کہتے ہیں: اے بھتیجے! کیا بارش سے پہلے سیلاب آجاتا ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14891]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح