🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3069. -- باب: الطلاق يقع على الحائض وإن كان بدعيا
-- باب: اس بیان میں کہ حائضہ کو دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے اگرچہ وہ طلاقِ بدعی ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q14918
قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: بَيِّنٌ يَعْنِي فِي حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ الطَّلَاقَ يَقَعُ عَلَى الْحَائِضِ؛ لِأَنَّهُ إِنَّمَا يُؤْمَرُ بِالْمُرَاجَعَةِ مَنْ لَزِمَهُ الطَّلَاقُ، فَأَمَّا مَنْ لَمْ يَلْزَمْهُ الطَّلَاقُ فَهُوَ بِحَالِهِ قَبْلَ الطَّلَاقِ. قَالَ الشَّيْخُ: قَدْ ذَكَرْنَا حَدِيثَ سَالِمٍ وَنَافِعٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ دِينَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”یعنی سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث میں یہ بات واضح ہے کہ حیض والی عورت پر طلاق واقع ہو جاتی ہے، کیونکہ رجوع کا حکم اسی کو دیا جاتا ہے جس پر طلاق لازم ہو چکی ہو، رہا وہ شخص جس پر طلاق لازم ہی نہ ہوئی ہو تو وہ اپنی اسی حالت پر ہے جو طلاق سے پہلے تھی۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سالم، نافع اور عبداللہ بن دینار رحمہم اللہ کی (روایت کردہ) حدیث ذکر کر چکے ہیں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: Q14918]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14918
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَصَمُّ إِمْلَاءً نا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، نا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، نا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، حَدَّثَنِي يُونُسُ بْنُ جُبَيْرٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ قُلْتُ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَقَالَ: تَعْرِفُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ طَلَّقَ ⦗٥٣٣⦘ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، فَأَتَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ" فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يُطَلِّقَهَا فِي قُبُلِ عِدَّتِهَا"، قَالَ: قُلْتُ: فَيَعْتَدُّ بِهَا، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ" رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ حَجَّاجِ بْنِ مِنْهَالٍ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: قُلْتُ: فَيُعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ قَالَ: أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ.
یونس بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا: جس شخص نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی (اس کا کیا حکم ہے)؟ کہتے ہیں: کیا تم ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں۔ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع کا حکم فرمایا اور یہ کہ پھر وہ اس کی عدت کے آغاز میں طلاق دے۔ میں نے کہا: کیا اس طلاق کو شمار کیا جائے گا؟ فرمایا: ہاں۔ اس نے کہا: آپ کا کیا خیال ہے، اگر وہ عاجز آجائے یا بے وقوف ہوجائے۔
(ب) امام بخاری نے اسے حجاج بن منہال سے روایت کیا ہے، مگر اس میں یہ ہے: میں نے کہا: کیا اس طلاق کو شمار کیا جائے گا؟ فرمایا: آپ کا کیا خیال ہے، اگر وہ عاجز آجائے اور بے وقوفی کرے؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14918]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14919
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أنا أَبُو الرَّبِيعِ، وَمُسَدَّدٌ قَالَا: نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ يُونُسَ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ، قُلْتُ: رَجُلٌ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ: تَعْرِفُ ابْنَ عُمَرَ؟ إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَسَأَلَ عُمَرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا" قُلْتُ: فَيُعْتَدُّ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ قَالَ: فَمَهْ أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ.
یونس بن جبیر کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ کیا مرد اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دے؟ تو فرمانے لگے: ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہو، اس نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تھی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”رجوع“ کا حکم دیا۔ میں نے کہا: کیا وہ ایک طلاق شمار کی جائے گی؟ فرمانے لگے: اگر وہ عاجز آ جائے یا بے وقوف ہو جائے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14919]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14920
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو عَمْرُوَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ، نا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، نا شُعْبَةُ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو الْفَضْلِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، نا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ قَالَ: سَمِعْتُ يُونُسَ بْنَ جُبَيْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ قَالَ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيُرَاجِعْهَا فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا" قَالَ: فَقُلْتُ لِابْنِ عُمَرَ فَاحْتَسَبْتَ بِهَا قَالَ: فَمَا يَمْنَعُهُ أَرَأَيْتَ إِنْ عَجَزَ وَاسْتَحْمَقَ لَفْظُ حَدِيثِ غُنْدَرٍ رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ شُعْبَةَ، وَرَوَاهُ مُسْلِمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بَشَّارٍ.
یونس بن جبیر فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ رجوع کرے اور حالتِ طہر میں طلاق دے دے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا: کیا آپ نے اس کو شمار کیا تھا؟ انہوں نے فرمایا: بھلا اس میں کون سی چیز رکاوٹ ہے؟ آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر وہ عاجز آ جائے یا بیوقوف ہو؟ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14920]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14921
وَأَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أنا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَطَّانُ نا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ، نا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، نا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ، أَخْبَرَنِي أَنَسُ بْنُ سِيرِينَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ قَالَ: فَذَكَرَ ذَلِكَ عُمَرُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَقَالَ:" لِيُرَاجِعْهَا فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا" قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ يَعْنِي لِابْنِ عُمَرَ: يُحْتَسَبُ بِهَا؟ قَالَ: فَمَهْ. رَوَاهُ الْبُخَارِيُّ فِي الصَّحِيحِ عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ عَنْ شُعْبَةَ،.
انس بن سیرین بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا کہ میں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ رجوع کرے اور حالتِ طہر میں طلاق دے دے۔“ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: کیا یہ شمار کی جائے گی؟ انہوں نے فرمایا: ٹھہریے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14921]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14922
وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ غُنْدَرٍ عَنْ شُعْبَةَ. وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ، نا شُعْبَةُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ، فَذَكَرَهُ بِنَحْوِهِ ⦗٥٣٤⦘ غَيْرَ أَنَّهُ قَالَ:" فَلْيُطَلِّقْهَا إِنْ شَاءَ" قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَفَتَحْتَسِبُ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ؟ قَالَ:" نَعَمْ".
انس بن سیرین نے اس کی مانند ذکر کیا ہے کہ اگر چاہے تو طلاق دے دے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا اس کو ایک طلاق شمار کیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14922]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14923
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، أنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ، ح وَأنا أَبُو عَبْدِ اللهِ، أنا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ سِيرِينَ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ امْرَأَتِهِ الَّتِي طَلَّقَ فَقَالَ: طَلَّقْتُهَا وَهِيَ حَائِضٌ، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَذَكَرَهُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:" مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا فَإِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْهَا لِطُهْرِهَا" قَالَ: فَرَاجَعْتُهَا ثُمَّ طَلَّقْتُهَا لِطُهْرِهَا، قُلْتُ: فَاعْتَدَّتْ بِتِلْكَ التَّطْلِيقَةِ الَّتِي طُلِّقَتْ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: مَالِي لَا أَعْتَدُّ بِهَا وَإِنْ كُنْتَ عَجَزْتَ وَاسْتَحْمَقْتَ. رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ عَنْ يَحْيَى بْنِ يَحْيَى.
انس بن سیرین فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے ان کی بیوی کے بارے میں پوچھا جس کو انہوں نے طلاق دی تھی؟ انہوں نے کہا: میں نے حالتِ حیض میں طلاق دی تھی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے حکم دو کہ وہ رجوع کرے۔ جب پاک ہو جائے تو طہر کی حالت میں طلاق دے۔“ کہتے ہیں: میں نے رجوع کر کے حالتِ طہر میں طلاق دے دی۔ میں نے کہا: کیا اس حالتِ حیض میں دی گئی طلاق کو شمار کیا جائے گا؟ فرمانے لگے: مجھے کیا ہے کہ میں اس کو شمار نہ کروں، اگرچہ میں عاجز رہا اور بیوقوفی کر بیٹھا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14923]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14924
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَبُو عَبْدِ اللهِ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ عُمَرَ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا، فَقَالَ أَتَعْرِفُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عُمَرَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَإِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا فَذَهَبَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ الْخَبَرَ فَأَمَرَهُ أَنْ يَرْتَجِعَهَا قَالَ: لَمْ أَسْمَعْهُ يَزِيدُ عَلَى ذَلِكَ لِأَبِيهِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ.
ابن طاؤس اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے متعلق سنا جس نے اپنی عورت کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تھی، فرمانے لگے: کیا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو جانتے ہو؟ اس نے کہا: ہاں، فرمانے لگے: اس نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تھی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ رجوع کرے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14924]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14925
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، نا قَبِيصَةُ، نا سُفْيَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يُرَاجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ فَإِذَا طَهُرَتْ طَلَّقَهَا.
ابووائل فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجوع کا حکم فرمایا: ”یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، جب پاک ہو جائے تو اسے طلاق دے دینا۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14925]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14926
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي طَاهِرٍ الدَّقَّاقُ بِبَغْدَادَ نا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، نا أَحْمَدُ بْنُ زُهَيْرِ بْنِ حَرْبٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ أَبُو جَعْفَرٍ إِمْلَاءً مِنْ كِتَابِهِ نا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: طَلَّقَ ابْنُ عُمَرَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ وَاحِدَةً فَانْطَلَقَ عُمَرُ إِلَى رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ" فَأَمَرَهُ إِذَا طَهُرَتْ أَنْ يُرَاجِعَهَا ثُمَّ يَسْتَقْبِلَ الطَّلَاقَ فِي عِدَّتِهَا ثُمَّ تَحْتَسِبُ بِالتَّطْلِيقَةِ الَّتِي طَلَّقَ أَوَّلَ مَرَّةٍ".
عامر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں ایک طلاق دے دی تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا: ”جب وہ پاک ہو جائے تو وہ رجوع کرے، پھر اس کی عدت میں طلاق دے دے، جو اس نے پہلی طلاق دی ہے اس کو ایک شمار کر لیا جائے۔“ [حسن] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14926]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں