السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3069. -- باب: الطلاق يقع على الحائض وإن كان بدعيا
-- باب: اس بیان میں کہ حائضہ کو دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے اگرچہ وہ طلاقِ بدعی ہو۔
حدیث نمبر: 14927
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي قَالَا: نا أَبُو الْعَبَّاسِ الْأَصَمُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أنا عَلِيُّ بْنُ مَعْبَدٍ، نا أَبُو الْمَلِيحِ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ ⦗٥٣٥⦘ مِهْرَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فِي حَيْضَتِهَا قَالَ: فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَنْ يَرْتَجِعَهَا حَتَّى تَطْهُرَ فَإِذَا طَهُرَتْ فَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ وَإِنْ شَاءَ أَمْسَكَ قَبْلَ أَنْ يُجَامِعَ".
میمون بن مہران فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ”وہ اس سے رجوع کر لیں یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر اگر وہ چاہیں تو طلاق دے دیں اور اگر چاہیں تو اسے (اپنے پاس) رکھ لیں، مجامعت کرنے سے پہلے پہلے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14927]
تخریج الحدیث: «حسن»
الحكم على الحديث: حسن
حدیث نمبر: 14928
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ فُورَكٍ، أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرٍ، نا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ فَأَتَى عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ" فَجَعَلَهَا وَاحِدَةً" قَالَ الْبُخَارِيُّ: وَقَالَ أَبُو مَعْمَرٍ: نا عَبْدُ الْوَارِثِ أَخْبَرَنَاهُ أَيُّوبُ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ: حُسِبَتْ عَلَيَّ بِتَطْلِيقَةٍ.
نافع حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک طلاق شمار کیا۔
(ب) سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے ذمے ایک طلاق شمار کی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14928]
(ب) سعید بن جبیر حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ میرے ذمے ایک طلاق شمار کی گئی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14928]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14929
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَيْمَنَ مَوْلَى عُرْوَةَ يَسْأَلُ ابْنَ عُمَرَ وَأَبُو الزُّبَيْرِ يَسْمَعُ قَالَ: كَيْفَ تَرَى فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ حَائِضًا قَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: عَبْدُ اللهِ بْنُ عُمَرَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ عَبْدُ اللهِ فَرَدَّهَا عَلَيَّ وَلَمْ يَرَهَا شَيْئًا، وَقَالَ:" إِذَا طَهُرَتْ فَلْيُطَلِّقْ أَوْ لِيُمْسِكْ" قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: ١] أَيْ فِي قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ فِي الصَّحِيحِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ مُسْلِمٌ: أَخْطَأَ حَيْثُ قَالَ عُرْوَةُ وَإِنَّمَا هُوَ مَوْلَى عَزَّةَ، وَأَخْرَجَهُ مُسْلِمٌ مِنْ حَدِيثِ حَجَّاجِ بْنِ مُحَمَّدٍ وَأَبِي عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، وَفِيهِ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيُرَاجِعْهَا" فَرَدَّهَا وَهُوَ فِي رِوَايَةِ بَعْضِهِمْ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ قَالَ: فَقَالَ لِي: رَاجِعْهَا فَرَدَّهَا عَلَيَّ وَلَمْ يَرَهَا شَيْئًا.
عبدالرحمن بن ایمن نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا اور ابو زبیر سن رہے تھے کہ آپ کا ایسے شخص کے بارے میں کیا خیال ہے جس نے حالتِ حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی؟ وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی تھی، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تھا کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے دی ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو واپس کر دیا اور اس کو کچھ بھی خیال نہ کیا اور فرمایا: ”طہارت کے بعد وہ طلاق دے یا روک لے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] «أَيْ قُبُلِ عِدَّتِهِنَّ» ۔
(ب) ابن جریج فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ رجوع کرے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیوی کو واپس کر دیا۔
(ج) عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”رجوع کر لو“ اور میری بیوی کو میری طرف لوٹا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14929]
(ب) ابن جریج فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ رجوع کرے“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بیوی کو واپس کر دیا۔
(ج) عبدالرزاق فرماتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: ”رجوع کر لو“ اور میری بیوی کو میری طرف لوٹا دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14929]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ دون قوله، لم يرها شياء»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14930
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ نا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: وَحَدِيثُ أَبِي الزُّبَيْرِ شَبِيهٌ بِهِ يَعْنِي بِمَا رَوَى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْأَمْرِ بِالرَّجْعَةِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: وَنَافِعٌ أَثْبَتُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ مِنْ أَبِي الزُّبَيْرِ وَالْأَثْبَتُ مِنَ الْحَدِيثَيْنِ أَوْلَى أَنْ يُقَالَ بِهِ إِذَا خَالَفَهُ قَالَ: وَقَدْ وَافَقَ نَافِعٌ غَيْرَهُ مِنْ أَهْلِ الثَّبْتِ فِي الْحَدِيثِ فَقِيلَ لَهُ: أَحُسِبَتْ تَطْلِيقَةُ ابْنِ عُمَرَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَطْلِيقَةً؟ قَالَ: فَمَهْ وَإِنْ عَجَزَ، يَعْنِي أَنَّهَا حُسِبَتْ ⦗٥٣٦⦘ وَالْقُرْآنُ يَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا تُحْسَبُ قَالَ اللهُ تَعَالَى: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ} [البقرة: ٢٢٩] لَمْ يُخَصِّصْ طَلَاقًا دُونَ طَلَاقٍ ثُمَّ سَاقَ الْكَلَامَ إِلَى أَنْ قَالَ: وَقَدْ يُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ لَمْ تُحْسَبْ شَيْئًا صَوَابًا غَيْرَ خَطَأٍ كَمَا يُقَالُ لِلرَّجُلِ فِي فِعْلِهِ، وَأَخْطَأَ فِي جَوَابٍ أَجَابَ بِهِ لَمْ يَصْنَعْ شَيْئًا يَعْنِي لَمْ يَصْنَعْ شَيْئًا صَوَابًا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کے حکم کے بارے میں نقل فرماتے ہیں۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے میں ابوزبیر سے زیادہ ثقہ ہیں، اور دو حدیثوں میں اختلاف ہو تو زیادہ ثابت حدیث اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ اسے اختیار کیا جائے، اور نافع کی موافقت دوسرے ثقہ اہلِ حدیث نے بھی کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ ابن عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جو اپنی بیوی کو طلاق دی کیا اسے ایک شمار کیا گیا تھا؟ فرمایا: تو اور کیا، اگرچہ وہ عاجز رہا۔ یعنی اسے ایک شمار کیا گیا، اور قرآن کی آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14930]
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نافع، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے میں ابوزبیر سے زیادہ ثقہ ہیں، اور دو حدیثوں میں اختلاف ہو تو زیادہ ثابت حدیث اس بات کی زیادہ حقدار ہے کہ اسے اختیار کیا جائے، اور نافع کی موافقت دوسرے ثقہ اہلِ حدیث نے بھی کی ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا کہ ابن عمر نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں جو اپنی بیوی کو طلاق دی کیا اسے ایک شمار کیا گیا تھا؟ فرمایا: تو اور کیا، اگرچہ وہ عاجز رہا۔ یعنی اسے ایک شمار کیا گیا، اور قرآن کی آیت بھی اس پر دلالت کرتی ہے: ﴿الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ﴾ [سورة البقرة: 229] [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14930]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14931
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، ثنا أَبُو دَاوُدَ هُوَ السِّجِسْتَانِيُّ قَالَ: الْأَحَادِيثُ كُلُّهَا عَلَى خِلَافِ مَا قَالَ أَبُو الزُّبَيْرِ.
ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ تمام احادیث ابوزبیر کے قول کے خلاف ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14931]
تخریج الحدیث: «صحيح»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 14932
أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَوَارِسِ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الْفَوَارِسِ أَخُو الشَّيْخِ أَبِي الْفَتْحِ الْحَافِظِ رَحِمَهُ اللهُ بِبَغْدَادَ نا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمٍ نا أَبُو جَعْفَرِ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، ثنا أَبُو الصَّلْتِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أبي أُمَيَّةَ الذَّرَّاعُ مِنْ حِفْظِهِ ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ طَلَّقَ لِلْبِدْعَةِ أَلْزَمْنَاهُ بِدْعَتَهُ".
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے طلاقِ بدعت دے دی تو ہم اسی طلاقِ بدعت کو لازم کر دیں گے۔“ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14932]
حدیث نمبر: 14933
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيُّ، أَنَا أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيِّ الْحَافِظُ قَالَ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ الْمِصْرِيُّ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.
امام دارقطنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اسماعیل بن ابی امیہ مصری متروک الحدیث ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14933]