🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
السنن الكبرى للبيهقي میں نمبر سے تلاش
حدیث نمبر لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں عربی متن سے تلاش
عربی حدیث کا متن لکھیں:
السنن الكبرى للبيهقي میں اردو متن سے تلاش
اردو حدیث کا متن لکھیں:

3072. -- باب: من جعل الثلاث واحدة وما ورد في خلاف ذلك
-- باب: اس شخص کے قول کا بیان جس نے تین طلاقوں کو ایک قرار دیا اور اس کے خلاف وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14982
أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ الْمِهْرَجَانِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَكِّي، نا مُحَمَّدُ بْنُ ⦗٥٥٣⦘ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِيُّ، نا ابْنُ بُكَيْرٍ، نا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ، أَنَّهُ قَالَ: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا ثُمَّ بَدَا لَهُ أَنْ يَنْكِحَهَا فَجَاءَ يَسْتَفْتِي فَذَهَبْتُ مَعَهُ أَسْأَلُ لَهُ فَسَأَلْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ وَعَبْدَ اللهِ بْنَ عَبَّاسٍ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَا لَهُ:" لَا نَرَى أَنْ تَنْكِحَهَا حَتَّى تَتَزَوَّجَ زَوْجًا غَيْرَكَ" قَالَ: فَإِنَّمَا كَانَ طَلَاقِي إِيَّاهَا وَاحِدَةً فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" إِنَّكَ أَرْسَلْتَ مِنْ يَدِكَ مَا كَانَ لَكَ مِنْ فَضْلٍ" فَهَذِهِ رِوَايَةُ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ وَمُجَاهِدٍ وَعِكْرِمَةَ وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ وَمَالِكِ بْنِ الْحَارِثِ وَمُحَمَّدِ بْنِ إِيَاسِ بْنِ الْبُكَيْرِ وَرُوِّينَاهُ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي عَيَّاشٍ الْأَنْصَارِيِّ كُلُّهُمْ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ أَجَازَ الطَّلَاقَ الثَّلَاثَ وَأَمْضَاهُنَّ.
محمد بن عبدالرحمن بن ثوبان، محمد بن ایاس بن بکیر سے نقل فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے دخول سے پہلے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، پھر اس کا اسی عورت سے نکاح کا ارادہ بنا تو وہ فتویٰ پوچھنے آیا اور میں بھی اس کے ساتھ گیا تاکہ اس کے لیے سوال کروں۔ اس نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اس بارے میں سوال کیا تو ان دونوں نے فرمایا: ہمارا خیال نہیں کہ آپ اس عورت سے شادی کر سکیں جب تک وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح نہ کر لے۔ اس نے کہا کہ میری جانب سے اس کو صرف ایک طلاق تھی، تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: آپ نے اپنے ہاتھ سے اپنی جانب سے زائد طلاقیں بھیج دی ہیں۔
(ب) معاویہ بن ابی عیاش انصاری، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے تین طلاقوں کو جائز بھی رکھا اور جاری بھی کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14982]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14983
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، أَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ أَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ: قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ كَانَ مَعْنَى قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ الثَّلَاثَ كَانَتْ تُحْسَبُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً يَعْنِي أَنَّهُ بِأَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَالَّذِي يُشْبِهُ وَاللهُ أَعْلَمُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ عَلِمَ إِنْ كَانَ شَيْئًا فَنُسِخَ فَإِنْ قِيلَ: فَمَا دَلَّ عَلَى مَا وَصَفْتَ؟ قِيلَ: لَا يُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ عَبَّاسٍ يَرْوِي عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا ثُمَّ يُخَالِفُهُ بِشَيْءٍ لَمْ يَعْلَمْهُ كَانَ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ خِلَافٌ قَالَ الشَّيْخُ: رِوَايَةُ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَدْ مَضَتْ فِي النَّسْخِ وَفِيهَا تَأْكِيدٌ لِصِحَّةِ هَذَا التَّأْوِيلِ قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَإِنْ قِيلَ: فَلَعَلَّ هَذَا شَيْءٌ رُوِيَ عَنْ عُمَرَ فَقَالَ فِيهِ ابْنُ عَبَّاسٍ بِقَوْلِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قِيلَ: قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ يُخَالِفُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي نِكَاحِ الْمُتْعَةِ وَبَيْعِ الدِّينَارِ، بِالدِّينَارَيْنِ، وَفِي بَيْعِ أُمَّهَاتِ الْأَوْلَادِ وَغَيْرِهِ فَكَيْفَ يُوَافِقُهُ فِي شَيْءٍ يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ خِلَافٌ قَالَ: فَإِنْ قِيلَ: وَقَدْ ذُكِرَ عَلَى عَهْدِ أَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ خِلَافَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قِيلَ: اللهُ أَعْلَمُ وَجَوَابُهُ حِينَ اسْتُفْتِيَ بِخِلَافِ ذَلِكَ كَمَا وَصَفْتُ، قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللهُ: وَلَعَلَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَجَابَ عَلَى أَنَّ الثَّلَاثَ وَالْوَاحِدَةَ سَوَاءٌ وَإِذَا جَعَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ عَدَدَ الطَّلَاقِ عَلَى الزَّوْجِ وَأَنْ يُطَلِّقَ مَتَى شَاءَ فَسِوَاهُ الثَّلَاثُ وَالْوَاحِدَةُ وَأَكْثَرُ مِنَ الثَّلَاثِ فِي أَنْ يَقْضِيَ بِطَلَاقِهِ⦗٥٥٤⦘ قَالَ الشَّيْخُ: وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ عَبَّرَ بِالطَّلَاقِ الثَّلَاثِ عَنْ طَلَاقِ الْبَتَّةِ فَقَدْ ذَهَبَ إِلَيْهِ بَعْضُهُمْ.
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے قول کا یہ معنیٰ ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں تین طلاقوں کو ایک شمار کیا جاتا تھا یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے تو ممکن ہے کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو علم ہو کہ کسی چیز نے اس کو منسوخ کر دیا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک چیز حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل فرمائیں، پھر اس کی مخالفت ایسی چیز کے ذریعے کریں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جانتے نہ ہوں اور جس میں اختلاف تھا۔
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عکرمہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بیان کرتے ہیں کہ اس میں نسخ ہو چکا۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اگر یہ کہا جائے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول کی موافقت کی ہے تو ہم کہہ دیں گے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے نکاحِ متعہ اور ایک دینار کے بدلے دو دینار کی بیع، اور امہات الاولاد کی بیع میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اختلاف کیا ہے، وہ ایسی چیز میں کیسے موافقت کریں گے جس میں اختلاف تھا؟ اگر کہا جائے کہ حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ابتدائی دو سال کا تذکرہ کیا ہے، کہتے ہیں: اللہ خوب جانتا ہے جب ان سے فتویٰ اس کے خلاف پوچھا گیا، جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: شاید کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ تین ایک کے برابر ہیں۔ جب اللہ رب العزت نے طلاق کی تعداد خاوند کے ذمہ چھوڑی ہے کہ وہ جب چاہے طلاق دے ایک اور تین برابر ہیں اور تین سے زیادہ کا بھی۔ شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: طلاقِ ثلاثہ سے ان کی مراد طلاقِ بتہ ہو۔ بعض لوگوں کا یہ مذہب ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14983]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ قال الشافعي في الام»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14984
وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ الْفَقِيهُ، أَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ، نا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ، يَقُولُ: مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدِي أَنَّ مَا تُطَلِّقُونَ أَنْتُمْ ثَلَاثًا كَانُوا يُطَلِّقُونَ وَاحِدَةً فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا وَذَهَبَ أَبُو يَحْيَى السَّاجِيُّ إِلَى أَنَّ مَعْنَاهُ إِذَا قَالَ لِلْبِكْرِ: أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ أَنْتِ طَالِقٌ، كَانَتْ وَاحِدَةً فَغَلَّظَ عَلَيْهِمْ عُمَرُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَجَعَلَهَا ثَلَاثًا قَالَ الشَّيْخُ: وَرِوَايَةُ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ تَدُلُّ عَلَى صِحَّةِ هَذَا التَّأْوِيلِ.
ابو زرعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ جو تم آج تین طلاقیں دیتے ہو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں وہ ایک طلاق دیتے تھے۔
(ب) ابو یحییٰ اساجی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب وہ کنواری سے کہے: تجھے طلاق، تجھے طلاق، تجھے طلاق، تو ایک طلاق ہو گئی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے سختی کرتے ہوئے اس کو تین ہی شمار کر دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14984]
تخریج الحدیث: «صحيح»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14985
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، نا أَبُو النُّعْمَانِ، نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ، عَنْ طَاوُسٍ، أَنَّ رَجُلًا يُقَالُ لَهُ أَبُو الصَّهْبَاءِ كَانَ كَثِيرَ السُّؤَالِ لِابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا جَعَلُوهَا وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ؟ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" بَلَى كَانَ الرَّجُلُ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا جَعَلُوهَا وَاحِدَةً عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ وَصَدْرًا مِنْ إِمَارَةِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَلَمَّا أَنْ رَأَى النَّاسَ قَدْ تَتَابَعُوا فِيهَا قَالَ: أَجِيزُوهُنَّ عَلَيْهِمْ" قَالَ الشَّيْخُ: وَيُشْبِهُ أَنْ يَكُونَ أَرَادَ إِذَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا تَتْرَى رَوَى جَابِرُ بْنُ يَزِيدَ عَنِ الشَّعْبِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا قَالَ: عُقْدَةٌ كَانَتْ بِيَدِهِ أَرْسَلَهَا جَمِيعًا وَإِذَا كَانَتْ تَتْرَى فَلَيْسَ بِشَيْءٍ ⦗٥٥٥⦘ قَالَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ: تَتْرَى يَعْنِي أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ، أَنْتِ طَالِقٌ فَإِنَّهَا تَبِينُ بِالْأُولَى وَالثِّنْتَانِ لَيْسَتَا بِشَيْءٍ، وَرُوِيَ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ مَا دَلَّ عَلَى ذَلِكَ.
طاؤس رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابوصہباء نامی شخص سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بہت زیادہ سوال کیا کرتا تھا، اس نے کہا: کیا آپ جانتے نہیں کہ جب کوئی شخص اپنی عورت کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دیتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کی ابتدا میں اسے ایک ہی شمار کیا جاتا تھا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”کیوں نہیں! جب کوئی شخص اپنی بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاقیں دے دیتا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کی خلافت کے ابتدائی دور میں اسے ایک ہی شمار کیا جاتا تھا، پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دیکھا کہ لوگوں نے مسلسل (تترا) طلاقیں دینا شروع کر دی ہیں تو انہوں نے تینوں کو ہی نافذ کر دیا۔“
شیخ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب وہ تین طلاقیں مسلسل دینے کا قصد کر لے۔
(ب) امام شعبی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ ایسا شخص جس نے اپنی بیوی کو دخول سے قبل تین طلاقیں دے دیں، انہوں نے فرمایا: ”یہ ایک گرہ تھی جو اس کے ہاتھ میں تھی، اس نے اسے اکٹھا ہی کھول دیا، اور اگر طلاقیں پے در پے ہوں تو یہ کچھ بھی نہیں۔“
امام سفیان ثوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”تترا“ کا معنی ہے کہ ”تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے، تجھے طلاق ہے“، وہ پہلی ایک ہی طلاق سے جدا ہو گئی اور باقی دو کچھ بھی نہیں ہیں۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14985]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم برقم 14982»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14986
أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِيٍّ الرُّوذْبَارِيُّ، أنا أَبُو بَكْرِ بْنُ دَاسَةَ، نا أَبُو دَاوُدَ، نا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي بَعْضُ بَنِي أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ: طَلَّقَ عَبْدُ يَزِيدَ أَبُو رُكَانَةَ وَإِخْوَتُهُ أُمَّ رُكَانَةَ وَنَكَحَ امْرَأَةً مِنْ مُزَيْنَةَ فَجَاءَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: مَا يُغْنِي عَنِّي إِلَّا كَمَا تُغْنِي هَذِهِ الشَّعَرَةُ لِشَعْرَةٍ أَخَذَتْهَا مِنْ رَأْسِهَا فَفَرِّقْ بَيْنِي وَبَيْنَهُ، فَأَخَذَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَمِيَّةٌ فَدَعَا بِرُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ ثُمَّ قَالَ لِجُلَسَائِهِ:" أَتَرَوْنَ فُلَانًا يُشْبِهُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا مِنْ عَبْدِ يَزِيدَ وَفُلَانًا مِنْهُ كَذَا وَكَذَا؟" قَالُوا: نَعَمْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ يَزِيدَ:" طَلِّقْهَا"، فَفَعَلَ قَالَ:" رَاجِعِ امْرَأَتَكَ أُمَّ رُكَانَةَ وَإِخْوَتِهِ"، فَقَالَ إِنِّي طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا يَا رَسُولَ اللهِ قَالَ:" قَدْ عَلِمْتُ رَاجِعْهَا، وَتَلَا {يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: ١] " قَالَ أَبُو دَاوُدَ: حَدِيثُ نَافِعِ بْنِ عُجَيْرٍ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ بْنِ رُكَانَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ أَنَّ رُكَانَةَ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَرَدَّهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصَحُّ لِأَنَّهُمْ وَلَدُ الرَّجُلِ وَأَهْلُهُ أَعْلَمُ بِهِ أَنَّ رُكَانَةَ إِنَّمَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ فَجَعَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدَةً، قَالَ الشَّيْخُ: وَقَدْ رُوِيَ.
عکرمہ، عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رکانہ اور اس کے بھائیوں کے والد عبد یزید نے ام رکانہ کو طلاق دے دی اور مزینہ قبیلے کی عورت سے شادی کرلی۔ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، کہتی ہے کہ اس نے مجھے اتنی کفایت بھی نہیں کی جیسے یہ سر کے بال ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے اور اس کے درمیان تفریق کروا دیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آیا تو رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلایا، پھر مجلس والوں سے فرمایا: ”کیا تم دیکھتے ہو کہ فلاں، عبد یزید کے مشابہ ہے اور فلاں فلاں چیز میں؟“ انہوں نے کہا: ہاں، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد یزید سے فرمایا: ”تو اس کو طلاق دے دے۔“ تو اس نے طلاق دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اپنی بیوی ام رکانہ سے رجوع کرلے۔“ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے اس کو تین طلاقیں دے دی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں جانتا ہوں، تو اس سے رجوع کر۔“ اور اس آیت کی تلاوت کی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1] ”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کو عدت کے اندر طلاق دیا کرو۔“
(ب) عبداللہ بن علی بن یزید بن رکانہ اپنے والد سے اور وہ اپنے دادا سے نقل فرماتے ہیں کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ دی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو واپس کر دیا۔ یہ زیادہ صحیح ہے؛ کیونکہ اولاد اور اہل گھر کے معاملات کو زیادہ مانتے ہیں کہ رکانہ نے اپنی بیوی کو طلاقِ بتہ ہی دی تھی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ایک شمار کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14986]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14987
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: طَلَّقَ رُكَانَةُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَحَزِنَ عَلَيْهَا حُزْنًا شَدِيدًا فَسَأَلَهُ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيْفَ طَلَّقْتَهَا؟" قَالَ: طَلَّقْتُهَا ثَلَاثًا، فَقَالَ:" فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ؟" قَالَ: نَعَمْ قَالَ:" فَإِنَّمَا تِلْكَ وَاحِدَةٌ فَارْجِعْهَا إِنْ شِئْتَ" فَرَاجَعَهَا فَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا يَرَى إِنَّمَا الطَّلَاقُ عِنْدَ كُلِّ طُهْرٍ فَتِلْكَ السُّنَّةُ الَّتِي كَانَ عَلَيْهَا النَّاسُ وَالَّتِي أَمَرَ اللهُ لَهَا {فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ} [الطلاق: ١] أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ الْحَارِثِ أنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ حَيَّانَ نا مُسْلِمُ بْنُ عِصَامٍ نا عَبْدُ اللهِ بْنُ سَعْدٍ نا عَمِّي نا أَبِي عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي دَاوُدُ بْنُ الْحُصَيْنِ فَذَكَرَهُ وَهَذَا الْإِسْنَادُ لَا تَقُومُ بِهِ الْحُجَّةُ مَعَ ثَمَانِيَةٍ رَوَوْا عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا فُتْيَاهُ بِخِلَافِ ذَلِكَ وَمَعَ رِوَايَةِ أَوْلَادِ رُكَانَةَ أَنَّ طَلَاقَ رُكَانَةَ كَانَ وَاحِدَةً وَبِاللهِ التَّوْفِيقُ.
عکرمہ رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ رکانہ رضی اللہ عنہ نے ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں تو اس پر وہ بڑے پریشان ہوئے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: ”تم نے اسے کیسے طلاق دی تھی؟“ رکانہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں نے تین طلاقیں دی تھیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”ایک ہی مجلس میں؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ایک ہی ہے، اگر تو چاہے تو رجوع کر لے۔“ چنانچہ انہوں نے رجوع کر لیا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ طلاق طہر کے موقع پر دی جائے گی، یہ وہ طریقہ ہے جس پر لوگ ہیں اور اس کا اللہ رب العزت نے حکم فرمایا ہے: ﴿فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورة الطلاق: 1]
یہ سند ان آٹھ راویوں کے مقابلے میں قابلِ حجت نہیں جنہوں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے خلاف ان کا فتویٰ نقل کیا ہے، اور نہ رکانہ رضی اللہ عنہ کی اولاد کی اس روایت کے مقابلے میں جس میں ہے کہ ان کی طلاق ایک ہی تھی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14987]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14988
أَخْبَرَنَا أَبُو سَعْدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَالِينِيُّ أنا أَبُو أَحْمَدَ عَبْدُ اللهِ بْنُ عَدِيٍّ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ هِشَامٍ، نا عَلِيُّ بْنُ سَلَمَةَ اللَّبَقِيُّ، ثنا أَبُو أُسَامَةَ، عَنِ ⦗٥٥٦⦘ الْأَعْمَشِ قَالَ: كَانَ بِالْكُوفَةِ شَيْخٌ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ يُرَدُّ إِلَى وَاحِدَةٍ" وَالنَّاسُ عُنُقًا وَاحِدًا إِذْ ذَاكَ يَأْتُونَهُ وَيَسْمَعُونَ مِنْهُ قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَقَرَعْتُ عَلَيْهِ الْبَابَ فَخَرَجَ إِلِيَّ شَيْخٌ، فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ سَمِعْتَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ فِيمَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ: إِذَا طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَإِنَّهُ يُرَدُّ إِلَى وَاحِدَةٍ" قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: أَيْنَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ؟ قَالَ: أُخْرِجُ إِلَيْكَ كِتَابًا فَأَخْرَجَ فَإِذَا فِيهِ: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ هَذَا مَا سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ يَقُولُ:" إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا فِي مَجْلِسٍ وَاحِدٍ فَقَدْ بَانَتْ مِنْهُ وَلَا تَحِلُّ لَهُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ" قَالَ: قُلْتُ: وَيْحَكَ هَذَا غَيْرُ الَّذِي تَقُولُ قَالَ: الصَّحِيحُ هُوَ هَذَا وَلَكِنَّ هَؤُلَاءِ أَرَادُونِي عَلَى ذَلِكَ.
اعمش رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کوفہ میں ایک شیخ تھا جو کہتا تھا: میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دے تو اس کو ایک ہی کی طرف لوٹایا جائے گا۔ اس وقت لوگ جوق در جوق اس کے پاس آتے اور اس سے سنتے تھے۔ اعمش کہتے ہیں: میں اس کے پاس گیا اور دروازہ کھٹکھٹایا تو ایک بوڑھا شخص باہر نکلا۔ میں نے اس سے کہا: آپ نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو اس شخص کے بارے میں کیا فرماتے سنا جس نے ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں؟ اس نے کہا: میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دے تو اس کو ایک ہی کی طرف لوٹایا جائے گا۔ میں نے اس سے پوچھا: آپ نے یہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کہاں سنا تھا؟ اس نے کہا: میں تمہیں ایک کتاب نکال کر دکھاتا ہوں۔ اس نے کتاب نکالی تو اس میں لکھا تھا: «بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ» ”اللہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان، ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے“ یہ وہ ہے جو میں نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا: جب مرد اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دے تو وہ اس سے جدا ہو جائے گی اور اس کے لیے حلال نہ ہو گی یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے خاوند سے نکاح کر لے۔ میں نے کہا: افسوس ہے تم پر! یہ تو اس کے علاوہ بات ہے جو تم کہتے ہو۔ اس نے کہا: صحیح یہی ہے، لیکن ان لوگوں نے مجھ سے اس بات کا تقاضا کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14988]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14989
أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ أنا حَنْبَلُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ حَنْبَلٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عِمْرَانَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، نا مَسْلَمَةُ بْنُ جَعْفَرٍ الْأَحْمَسِيُّ قَالَ: قُلْتُ لِجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ: إِنَّ قَوْمًا يَزْعُمُونَ أَنَّ" مَنْ طَلَّقَ ثَلَاثًا بِجَهَالَةٍ رُدَّ إِلَى السُّنَّةِ يَجْعَلُونَهَا وَاحِدَةً"، يَرْوُونَهَا عَنْكُمْ قَالَ: مَعَاذَ اللهِ مَا هَذَا مِنْ قَوْلِنِا" مَنْ طَلَّقَ ثَلَاثًا فَهُوَ كَمَا قَالَ".
مسلمہ بن جعفر احمس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نے جعفر بن محمد رحمہ اللہ سے کہا کہ لوگوں کا گمان ہے جس نے جہالت کی بنا پر تین طلاقیں دے دیں تو اس کو سنت کی طرف لوٹایا جائے گا، یعنی اس کو ایک طلاق شمار کریں گے اور روایت بھی تم سے ہی کرتے ہیں۔
انہوں نے فرمایا: «مَعَاذَ اللّٰهِ» ”اللہ کی پناہ!“ یہ ہمارا قول نہیں ہے: جس نے تین طلاقیں دیں وہ ویسے ہی ہے جیسے اس نے کہہ دیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14989]
تخریج الحدیث: «ضعيف»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14990
وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكُوفِيُّ، بِبَغْدَادَ نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ الْحَضْرَمِيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ بَهْرَامَ، نا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ بَسَّامٍ الصَّيْرَفِيِّ قَالَ: سَمِعْتُ جَعْفَرَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يَقُولُ:" مَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا بِجَهَالَةٍ أَوْ عِلْمٍ فَقَدْ بَانَتْ مِنْهُ".
بسام صیرفی کہتے ہیں کہ میں نے جعفر بن محمد رحمہ اللہ سے سنا: جس نے جہالت یا علم کی بنیاد پر اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں وہ اس سے الگ ہوجائے گی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 14990]
تخریج الحدیث: «حسن»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں