السنن الكبرى للبيهقي سے متعلقہ
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3088. -- باب: ما جاء في طلاق المكره
-- باب: مکروہ (طلاق پر مجبور کیے گئے شخص) کی طلاق کے متعلق وارد ہونے والی روایات کا بیان۔
حدیث نمبر: 15103
وَفِي كِتَابِ إِسْحَاقَ بِإِسْنَادِهِ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ أَكْرَهَهُ اللُّصُوصُ حَتَّى طَلَّقَ امْرَأَتَهُ قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا" لَيْسَ بِشَيْءٍ".
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان سے ایسے شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جسے چوروں نے مجبور کر دیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے، آپ فرماتے ہیں: سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15103]
تخریج الحدیث: «ضعيف»
الحكم على الحديث: ضعيف
حدیث نمبر: 15104
وَحَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ الْحَافِظُ قَالَ: كَتَبَ إِلَيْنَا الْقَاضِي أَبُو ⦗٥٨٧⦘ الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ صَخْرٍ الْأَزْدِيُّ الْبَصْرِيُّ الضَّرِيرُ مِنْ مَكَّةَ حَرَسَهَا اللهُ وَرَضِيَ عَنْهُ قَالَ: أنا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ حَمْدَانَ السَّقَطِيُّ قِرَاءَةً عَلَيْهِ نا الْحَسَنُ يَعْنِي ابْنَ الْمُثَنَّى نا عَفَّانُ هُوَ ابْنُ مُسْلِمٍ ثنا هُشَيْمٌ نا عُبَيْدُ اللهِ بْنُ طَلْحَةَ الْخُزَاعِيُّ عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْمَدَنِيِّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ:" لَيْسَ لِمُكْرَهٍ طَلَاقٌ".
ابو یزید مدنی، ابن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل فرماتے ہیں کہ مجبور شخص کی طلاق نہیں ہوتی۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15104]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره»
الحكم على الحديث: صحيح لغيره
حدیث نمبر: 15105
وَأَمَّا الرِّوَايَةُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، فَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللهِ الْحَافِظُ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ، نا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبِرْتِيُّ، نا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، ح وَأَخْبَرَنَا أَبُو نَصْرِ بْنُ قَتَادَةَ، نا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَيُّوبَ الصِّبْغِيُّ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، نا ابْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، نا مَالِكٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْأَحْنَفِ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ أُمَّ وَلَدٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ: فَدَعَانِي عَبْدُ اللهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَجِئْتُهُ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَإِذَا بَيْنَ يَدَيْهِ سِيَاطٌ مَوْضُوعَةٌ وَإِذَا قَيْدٌ مِنْ حَدِيدٍ وَعَبْدَانِ لَهُ قَدْ أَجْلَسَهُمَا فَقَالَ: طَلِّقْهَا وَإِلَّا وَالَّذِي يُحْلَفُ بِهِ فَعَلْتُ بِكَ كَذَا وَكَذَا قَالَ: فَقُلْتُ: هِيَ الطَّلَاقُ أَلْفًا فَخَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَأَدْرَكْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ فِي خَرِبٍ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِي فَتَغَيَّظَ عَبْدُ اللهِ وَقَالَ:" لَيْسَ ذَلِكَ بِطَلَاقٍ إِنَّهَا لَمْ تُحَرَّمْ عَلَيْكَ فَارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ" قَالَ: فَلَمْ تَقَرَّ بِي نَفْسِي حَتَّى أَتَيْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ الزُّبَيْرِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي كَانَ مِنْ شَأْنِي وَبِالَّذِي قَالَ لِيَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، فَقَالَ لِي عَبْدُ اللهِ بْنُ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا:" لَمْ تُحَرَّمْ عَلَيْكَ ارْجِعْ إِلَى أَهْلِكَ" وَكَتَبَ إِلَى جَابِرِ بْنِ الْأَسْوَدِ الزُّهْرِيِّ وَهُوَ أَمِيرُ الْمَدِينَةِ يَوْمَئِذٍ يَأْمُرُهُ أَنْ يُعَاقِبَ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَنْ يُخَلِّيَ بَيْنِي وَبَيْنَ أَهْلِي فَقَدِمْتُ فَجَهَّزَتْ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ امْرَأَةُ ابْنِ عُمَرَ امْرَأَتِي حَتَّى أَدْخَلَتْهَا عَلَيَّ بِعِلْمِ ابْنِ عُمَرَ ثُمَّ دَعَوْتُ ابْنَ عُمَرَ يَوْمَ عُرْسِي لِوَلِيمَتِي فَجَاءَنِي.
امام مالک رحمہ اللہ، ثابت احنف رحمہ اللہ سے نقل فرماتے ہیں کہ انہوں نے عبدالرحمن بن زید بن خطاب کی ام ولد سے شادی کرلی۔ وہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عبدالرحمن نے مجھے بلایا، جب میں ان کے پاس آیا تو ان کے سامنے کوڑے رکھے ہوئے تھے اور لوہے کی زنجیر تھی اور انہوں نے دو غلام بٹھا رکھے تھے۔ وہ کہنے لگے: ”اس کو طلاق دو وگرنہ...“ انہوں نے قسم اٹھا کر کہا: ”میں تیرے ساتھ یہ یہ کروں گا۔“ وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ”ہزار طلاقیں۔“ میں ان کے پاس سے نکلا تو میں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو مکہ کے راستے میں پایا۔ میں نے انہیں اپنی حالت بتائی تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما غصے ہوئے اور فرمانے لگے: ”یہ کوئی طلاق نہیں ہے، تیری بیوی تیرے لیے حرام نہیں ہوئی، تو اپنے اہل کے پاس جا۔“ وہ کہتے ہیں: میرا دلی اطمینان نہ ہوا یہاں تک کہ میں سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے پاس آیا، وہ اس دن مکہ میں تھے۔ میں نے انہیں اپنی حالت بتائی تو انہوں نے بھی سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرح فرمایا، پھر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے مجھ سے فرمایا: ”وہ تیرے اوپر حرام نہیں، تو اپنی بیوی کے پاس جا۔“ اور انہوں نے جابر بن اسود زہری کو لکھا (جو مدینہ کے امیر تھے) کہ وہ عبداللہ بن عبدالرحمن کو سزا دیں اور یہ کہ وہ میرے اور میری گھر والی کے درمیان رکاوٹ نہ بنیں۔ میں آیا تو صفیہ بنت ابی عبید (یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما کی بیوی) نے میری عورت کو تیار کیا اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کے جانتے ہوئے اس کو میرے اوپر داخل کر دیا۔ پھر میں نے اپنے ولیمے کی دعوت میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو بھی بلایا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15105]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ اخرجه مالك»
الحكم على الحديث: صحيح
حدیث نمبر: 15106
وَأَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ، بِبَغْدَادَ أنا عَبْدُ اللهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ دُرُسْتَوَيْهِ، نا يَعْقُوبُ بْنُ سُفْيَانَ، نا أَبُو بَكْرٍ الْحُمَيْدِيُّ، نا سُفْيَانُ قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرًا يَقُولُ: حَدَّثَنِي ثَابِتٌ الْأَعْرَجُ قَالَ: تَزَوَّجْتُ أُمَّ وَلَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَدَعَانِي ابْنُهُ وَدَعَا غُلَامَيْنِ لَهُ فَرَبَطُونِي وَضَرَبُونِي بِسِيَاطٍ وَقَالُوا: لِتُطَلِّقَنَّهَا أَوْ لَنَفْعَلَنَّ وَلَنَفْعَلَنَّ، فَطَلَّقْتُهَا ثُمَّ سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ وَابْنَ الزُّبَيْرِ" فَلَمْ يَرَيَاهُ شَيْئًا"، وَرُوِّينَا هَذَا الْمَذْهَبَ مِنَ التَّابِعِينَ عَنْ عَطَاءٍ وَطَاوُسٍ وَالْحَسَنِ وَعِكْرِمَةَ وَعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ وَعَبْدِ اللهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ.
ثابت اعرج کہتے ہیں: میں نے عبدالرحمن بن زید بن خطاب کی ام ولد سے شادی کی تو اس کے بیٹے نے مجھے بلا لیا اور اپنے دو غلام بھی بلا لیے۔ انہوں نے مجھے باندھ کر کوڑوں سے میری پٹائی کی اور انہوں نے کہا: اس کو طلاق دے یا ہم اس طرح ضرور کریں گے۔ کہتے ہیں: میں نے طلاق دے دی، پھر میں نے ابن عمر اور ابن زبیر رضی اللہ عنہما سے سوال کیا تو انہوں نے اس کو طلاق شمار نہیں کیا۔ [السنن الكبرى للبيهقي/كِتَابُ الخُلْعِ وَالطَّلَاقِ/حدیث: 15106]
تخریج الحدیث: «صحيح۔ تقدم قبله»
الحكم على الحديث: صحيح